Home / Columns / ” شہباز شریف کی گرفتاری۔۔۔؟ “

” شہباز شریف کی گرفتاری۔۔۔؟ “

haroon adeem logo

صورتحال
ہارون عدیم
” شہباز شریف کی گرفتاری۔۔۔؟ “
ؓبلاآخر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پنجاب کے سابق چیف منسٹر میاں شہباز شریف کو نیب نے گرفتار کر لیا، با خبر حلقوں میں یہ گرفتاری حیران کن نہیں تھی، گزشتہ ہفتے سے شہباز شریف کی گرفتاری کے لئے 15اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی جا رہی تھی،رانا مشہود کے بیان کے بعد تو گرفتاری کو یقینی قرار دیا جا رہا تھا، لہٰذا گزشتہ روز نیب نے میاں شہباز شریف کو طلب تو صاف پانی کیس میں کر رکھا تھا، مگر آشیانہ سکینڈل میں دھر لیا، اطلاعات کے مطابق نیب لاہور کے دفتر میںشہباز شریف کو نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فوادحسن کے سامنے بٹھا کر پوچھ گچھ کی گئی،جس میں فواد حسن نے سارا ملبہ سابق وزیر اعلیٰ پر ڈال دیا، ان کا کہنا تھا کہ ”میاں صاحب آپ جیسے جیسے کہتے رہے ہیں میں ویسے ویسے کرتا رہا ہوں،اطلاعات کے مطابق فواد حسن تحریری طور پر اعتراف جرم کرتے ہوئے وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔
اس خبر کے فوری رد عمل میں متاثرہ فریق ن لیگ اور اپوزیشن نے اسے حکومتی انتقامی کاروائی قرار دے دیاہے، شہباز شریف کے فرزند ارجمند حمزہ شہباز نے ایک دھواں دھار پریس کانفرنس کر ڈالی ،جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ ”نیازی“ نے نیب سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے، حکومت جو کچھ کر رہی ہے کل اس کے لئے تیار رہے،حمزہ نے ایک فرمانبردار سپوت بنتے ہوئے باپ کا دفاع کیا اور کہا کہ شہباز شریف نے خدمت،دیانت کی شاندار مثال قائم کی،جس کے غیر ملکی بھی معترف ہیں،حمزہ شہباز نے سوال اٹھایا کہ ہر الیکشن وہ چاہے جنرل الیکشن ہوں یا ضمنی ن شریف کی لیڈر شپ کو ہی گرفتار کیوں کیا جاتا ہے۔۔۔؟(ان کا اشارہ اپنے پوجے تایا نوااز شریف ، تایا زاد بہن مریم صفدر ، ہنوئی کیپٹن (ر) صفدر اور پیکر دیانت پدر شہباز شریف کی طرف تھا)حمزہ شہباز نے کہا کہ نیازی حکومت اس خیال میں نہ رہے کہ وہ ہمیں خوفزدہ کر لے گی یاا ہم ڈر جائیں گے، انہوں نے ضمنی الیکشن میں واضح برتری حاصل کرنے کی پیش گوئی بھی کی۔ جبکہ سابقہ اپوزیشن لیڈر پاکستان پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے انتقام کی بو آ رہی ہے،شہباز شریف قائد حزب اختلاف ہیں انہیں اس طرح گرفتار نہیں کرنا چاہئے تھا، گرفتاری پارلیمان کی توہین ہے۔
خورشید شاہ قوم کو یہ سمجھائیں گے کہ یہ گرفتاری کیسے عمل میں آنی چاہئے تھی۔۔۔؟ کیا اس ملک کے اصل وارثوں جن کے ووٹ سے وہ پارلیمان کے ممبر بنتے ہیں کو گرفتار کرتے وقت کسی سے پوچھا جاتا ہے کہ اسے گرفتار کیا جائے یا نہ۔۔۔ ؟کیا وہ عوام کو یہ میسج دینا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں دو قومیں بستی ہیں ایک حاکم اور دوسرے محکموم غلام ابن غلام ، ابن غلام ، ابن غلام۔۔۔؟الیکٹرانک میڈیا پر بجا طور پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ نیب کو وہ حقائق اور الزامات اب عام کرنے ہونگے جن کی بنا پر یہ گرفتاری عمل میں لائی گئی، جس پر نیب نے ایک چارج شیٹ جاری کر دی ہے اور وہ9 الزامات بھی عام کر دئے ہیں جو شہباز شریف پر لگائے گئے ہیں، چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ غریب شہریوں کو پلاٹوں کا لالچ دے کر 85کروڑ لوٹ لئے گئے، سکیم پر 20کروڑ کے اضافی اخراجات کا کوئی ثبوت نہیں،شہباز شریف نے ذاتی تشہیر کے لئے 7کروڑ کے اشتہارات چلوائے،اس کے علاوہ دیگر 9 الزامات یہ ہیں۔
1َ۔ شہباز شریف نے غیر قانونی طور پر ٹھیکہ پی ایل ڈی سی کو دیا۔
2۔ ٹھیکہ پیراگون کو دلوانے کے بعد پی ایل ڈی سی کے حوالے کیا گیا۔
3۔ پی ایل ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بائی پاس کیا گیا۔
4۔ ہاو¿سنگ سکیم کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ بنانے کے لئے غیر قانونی اقدامات کئے گئے۔
5۔ 2013میں شہباز شریف نے لطیف اینڈ سنز کے ساتھ ٹھیکہ منسوخ کیا۔
6۔ شہباز شریف نے آشیانہ ہاو¿سنگ کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا۔
7۔ ایل ڈی اے یہ منصوبہ مکمل نہ کر سکاخزانے کو 71کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا۔
8۔ شہباز شریف نے کنسلٹنسی کا ٹھیکہ ایس ایم انجینئر سروس کو دیا۔
9۔ ایم ایس انجینئرنگ کنسلٹنسی سروس کو 19کروڑ20لاکھ میں ٹھیکہ دیا گیا۔
ان الزامات کی صحت کے بارے میں فیصلہ تو عدالت ہی کریگی، مگر یہ حقیقت ہے کہ شہباز شریف شفاف پینے کے پانی کے کیس میں چیف جسٹس کو مطمئن نہیں کر سکے تھے، نہ ہی کوئی تسلی بخش جواب دے پائے، جس پر معاملہ نیب کے حوالے کیا گیا، حکومت کی جانب سے شہباز شریف کی گرفتاری پر یہ کہنا کہ ان کی حکومت کا شہباز شریف کی گرفتاری کے بارے میں کوئی لینا دینا نہیں، یہ مقدمات خود ن لیگ کے دور حکومت میں قائم ہوئے اور سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہوئے، نیب ایک خود مختار ادارہ ہے، جس کا سربراہ (جناب جسٹس جاوید اقبال) پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے مقرر کر رکھا ہے، ہاں حکومت نیب کو ہر ممکنہ مدد پہنچانے کی پابند ہے، جس سے انہیں قانون کی عمل داری میں سہولت فراہم ہو، ایک کڑوا سچ ہے۔ ن لیگ کی قیادت پانامہ کیس سے ہی اپنے خلاف مقدمات کافوجداری مقدمات کے طور پر دفاع کرنے کی بجائے سیاسی مقدمات بنانے پر زور دے رہی ہے۔ جس سے انہیں جگ ہنسائی اور قید و بند کے سوا کچھ نہیں ملا۔
کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ رانا مشہود کے انٹرویو کا نتیجہ ہے، اگر نہ بھی ہو تو ایک بات تو پایہءثبوت کو پہنچتی ہے کہ این آر او یا کوئی ڈیل کی کہانی، اور میاں شہباز شریف کو وزیراعظم نہ بنانے پر مقتدر اداروں کے کف افسوس ملنے کی کہانی گھر کی ہنڈیا میں تیار کی ہوئی تھی، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ن لیگ کی قیادت اور رہنماذاتی مفادات کے حصول کے لئے وطن دشمنی تک بھی جا سکتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کی ن لیگ کے پاس اب غلطی کی گنجائش نہیں رہی، اور اصلاح احوال کا موقع بھی نہیں رہا، حکومتی ارکان کا یہ کہنا کہ جنہوں نے گاجریں کھائیں درد بھی انہیں کے پیٹ میں ہو گا، درست ہے۔یہاں یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ وفاقی اور متعلقہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لئے بنا نیب یہ اقدام نہیں اٹھا سکتی ہے، اضافی پولیس اور رینجرز کی طلبی کے وقت نیب کو انہیں اعتماد میں لینا ہوتا ہے، اسی بنا پر اگر حکومتی وزیروں نے مزید گرفتاریوں کا اشارہ دیا ہے تو غلط نہیں، مگر پنجاب کے وزیر اطلاعات کی جانب سے شہباز شریف کی گرفتاری پر جس لہجے اور گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا وہ بے محل ہے، نیب اور شہباز شریف کے درمیان اس قانونی جنگ میں حکومت کا فریق بننا حکومت کے لئے ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے، ہاں۔۔۔۔۔! حکومت کو بڑے بڑے مگر مچھوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل کی دستیابی اور امداد کو یقینی بنانا چاہئے۔

About Daily City Press

Check Also

Hanif anjum

ڈینگی کے بڑا مسلہ بننے سے پہلے، احتیاطی تدابییر اختیار کی جائیں

حنیف انجم خیالات ڈینگی کے بڑا مسلہ بننے سے پہلے، احتیاطی تدابییر اختیار کی جائیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *