Home / Pakistan / وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

قومی سلامتی کمیٹی کا مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار
اسلام آباد ۔ 4 اکتوبر، قومی سلامتی کمیٹی نے مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور مادر وطن کے دفاع کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گی‘ پاکستان کو کھوکھلے بیانات اور جارحانہ انداز سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا‘ بھارت کو دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے سرجیکل سٹرائیکس کے جھوٹے دعوﺅں جیسی بے کار کاوشوں کی بجائے خطے میں پائیدار امن کے لئے کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کو حل کرنا چاہئے جبکہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے کسی بھی ملک یا قوم کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں تاہم امن کی ہماری جستجو کا غلط مطلب لے کر اسے کمزوری تصور نہ کیا جائے۔ ہماری مسلح افواج قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو کسی قسم کے خطرے کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں‘ پاکستان اور کشمیر کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت منگل کو وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف‘ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان‘ وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار‘ وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید‘ چیئرمین جوائنٹس چیفس آف سٹاف کمیٹی‘ تینوں سروسز کے سربراہان اور قومی سلامتی کے مشیر نے شرکت کی۔ چاروں وزرائے اعلیٰ‘ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور‘ خارجہ سیکریٹری‘ ڈی جی آئی ایس آئی‘ ڈی جی ایم او اور سیکریٹری نیشنل سیکورٹی ڈویژن خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کے شرکاءنے لائن آف کنٹرول پر صورتحال کے خصوصی حوالے سے ملک کی داخلی و خارجی سلامتی کی صورتحال اور مسلح افواج کی آپریشنل تیاری کا تفصیلی جائزہ لیا۔ فورم نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو کھوکھلے بیانات اور جارحانہ رویئے سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں جس کی ضمانت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں نے دی ہے اور اس حق کو بھارتی سیکورٹی فورسز کے وحشیانہ جبر و استبداد کے ذریعے کچلا نہیں جا سکتا۔ وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک مقبوضہ کشمیر کے بے گناہ اور نہتے عوام سے کئے گئے اپنے دیرینہ وعدے کو پورا کریں۔ پاکستان اور کشمیر کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا‘ ہم ہر فورم پر کشمیریوں کی اخلاقی‘ سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے کسی بھی ملک یا قوم کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں‘ ہم امن اور اجتماعی بہتری پر یقین رکھتے ہیں تاہم امن کی ہماری جستجو کا غلط مطلب لے کر اسے کمزوری تصور نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو کسی قسم کے خطرے سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ اجلاس کے شرکاءنے نوٹ کیا کہ پاکستان دہشت گردی سے موثر طور پر نبرد آزما ہو رہا ہے اور اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ لائن آف کنٹرول اور مشرقی سرحدوں پر کشیدگی میں اضافے سے پاکستان کی توجہ اس نازک مرحلے پر اپنی سرزمین سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی اس کی کوششوں سے ہٹ جائے گی اور یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کے لئے نقصان دہ ہے تاہم پاکستان کی قوم اور مسلح افواج کسی بھی قسم کے خطرات کا جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ بھارت کی طرف سے سرجیکل سٹرائیکس کے حالیہ پروپیگنڈہ اور جھوٹے دعوﺅں کا حوالہ دیتے ہوئے فورم نے اس امر پر زور دیا کہ بھارت کو دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے ایسی بے کار کوششوں کی بجائے خطے میں پائیدار امن کے لئے کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کو حل کرنا چاہئے۔ بھارت کو کشمیر میں مظالم بند کرنے چاہئیں اور کشمیریوں کے جائز اور منصفانہ حق خودارادیت کو تسلیم کرنا چاہئے۔

About Daily City Press

Check Also

ihtjaj

اپوزیشن نے بجٹ مسترد کر دیا احتجاج کا عندیہ

ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارئے ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق شور شرابے اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *