Home / Pakistan / ,ایران کے صدر حسن روحانی کی پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش
Prime Minister Muhammad Nawaz Sharif meets President of Iran H.E. Hassan Rouhani in New York on September 22, 2016
Prime Minister Muhammad Nawaz Sharif meets President of Iran H.E. Hassan Rouhani in New York on September 22, 2016

,ایران کے صدر حسن روحانی کی پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش

 وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے اس موقع پر کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی شعبوں کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بات ایرانی صدر حسن روحانی نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے نیویارک میں اپنی ملاقات کے دوران کہی۔

ایرانی صدر اور پاکستانی وزیر اعظم کے درمیان یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔

وزیر اعظم نواز شریف کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستان اور ایران کی اعلیٰ قیادت نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان معیشت، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے کے بارے میں

Prime Minister Muhammad Nawaz Sharif meets President of Iran H.E. Hassan Rouhani in New York on September 22, 2016

بات کی۔

پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی شعبوں کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بیان کے مطابق دونوں راہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے اور ایران سے بجلی کی درآمد میں اضافے سے پاکستان کو اپنی توانائی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

ایران اور پاکستان کے راہنماؤں نے یہ اعتراف کیا کہ خطے میں تجارتی فروغ میں پاکستانی بندرہ گاہ گوادر اور ایران کی چابہار بندرگاہ کا اہم کردار ہو گا۔

رواں سال مئی میں بھارت اور ایران نے چابہار کی بندرگاہ کی تعمیر کے منصوبے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے علاوہ بھارت اور ایران نے افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کے ایک سہ فریقی معاہدہ پر بھی دستخط کیے تھے جس کے تحت بھارت ایران کے راستے اپنی مصنوعات کو بھارت لے جا سکے گا جبکہ افغانستان کو بھی اپنی تجارت کے لیے ایک متبادل راستہ مل جائے گا۔

ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے باہمی تجارتی تعلقات بھی متاثر ہوئے۔ ایران پر سے اب یہ پابندیاں اٹھ چکی ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے لیے اپنی باہمی تجارت کو پائیدار بنیادوں پر فروغ دینے کا یہ ایک اچھا موقع ہے۔

About Daily City Press

Check Also

us

چین امریکہ کے سیاسی نظام میں مداخلت کی کوششیں کر رہا ہے,امریکی نائب صدر

امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایک امریکی انٹیلی جنس کے ایک اہم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *