Home / Columns / ” رانا مشہود کی قیادت کیا چاہتی ہے۔۔۔۔؟ “

” رانا مشہود کی قیادت کیا چاہتی ہے۔۔۔۔؟ “

صورتحال

haroon adeem logo
ہارون عدیم
” رانا مشہود کی قیادت کیا چاہتی ہے۔۔۔۔؟ “
رانا مشہود کے ایک نجی چینل کو انٹرویو نے قومی سطح پر ایک طوفان بر پا کر دیا ہے، شاید رانا مشہود کو یہ انٹرویو دینے کے لئے ہدایات جاری کرنے والوں کو اندازہ نہیں تھا کہ اس خرافات پر عسکری ادارہ اور سیاسی جماعتیںاتنا شدید رد عمل دیں گی، اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے سرکردہ رہنما اور سابق وزیر رانا مشہود نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ہمارے معاملات ٹھیک ہو گئے ہیں ، جس میں شہباز شریف کابڑا کردار ہے،اسی طرح چلتا رہا تو پنجاب میں دو ماہ بعد ن لیگ دوباہ حکومت بنائے گی،رانا مشہود نے کہا کہ شہباز شریف تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتے ہیں،یہ ادارے ہمارے اپنے ہیں ان کی عزت میں کمی نہیں ہونی چاہئے،انہوں نے کہا کہ اداروں کے تھنک ٹینکس کو اب سمجھ آگئی ہے کہ جنہیں گھوڑا سمجھا تھا وہ خچر نکلے،رانا مشہود نے کہا کہ جس طرح پی ٹی آئی کو برتری دلوائی گئی ساری دنیا کو پتہ ہے،اب یہ سوچ پیدا ہوئی ہے کہ یہ لوگ ڈلیور نہیں کر سکے،لوگوں سے جھوٹ بول کر پی ٹی آئی میں شامل کیا گیا،آزاد امیدواروں سے جو وعدے کئے گئے وہ وفا نہیں کئے گئے،وہ اپنے حلقوں میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے،ران مشہود کا دعویٰ ہے کہ اداروں کو یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ شہباز شریف بہتر وزیر اعظم ثابت ہو سکتے ہیں،انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حالات ٹھیک ہونے تک نواز شریف اور مریم صفدر نواز کا لہجہ سخت ہی رہے گا۔عسکری ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے رات گئے رانا مشہود کی جانب سے چھوڑی گئی اس در فطنی پر شدید رد عمل آیا ہے، انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ رانا مشہود کا بیان بے بنیاد اور قابل افسوس ہے،ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات ملکی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں،گو کہ ن لیگی قیادت نے رانا مشہود کے اس بیان کو ان کا ذاتی بیان قراردے کر پارٹی کو اس سے علیحدہ کر لیا ہے اور ان کی پارٹی رکنیت معطل کر کے راجا ظفر الحق، ایاز صادق اور رانا تنویر پر مشتمل سہ رکنی انکوائری کمیٹی بھی بنا دی ہے اور رانامشہود نے نشر ہونے والے انٹرویو کو میڈیا کا کمال اور حقائق اور مواد کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کا الزام لگا دیا ہے، مگر یہ کنویں میں کتے کے گرنے کے بعد کتا نکالنے کی بجائے چالیس ڈول پانی نکالنے کے مترادف ہے۔ یہ بیان اتنا نپا تلا اور پر معنی ہے کہ اسے آپ بے ساختہ اورروائیتی انٹرویو کہہ ہی نہیں سکتے،دوسرا اس کی ٹائمنگ ہے، یہ بیان ضمنی انتخابات سے پہلے منظر عام پر آیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹروں کو اور الیکشن لڑنے والوں کو نا امیدی کے بھنور سے باہر نکالا جائے، پارٹی میں دھڑے بندیوں اور انتشار پر نہ صرف پردہ ڈالا جائے بلکہ اس کا تداارک بھی کیا جا سکے۔ہمیں 1987میں مولانا کوثر نیازی کا سنایا ہوا ایک واقعہ یاد آ گیا، مولانا نے بتایا کہ جب انہوں نے نیشنل پیپلز پارٹی بنائی تو میڈیا نے تاثر یہ بنایا کہ جیسے انہوں نے یہ پارٹی امریکا کی ایماءپر بنائی ہے، بہت سے لوگ جتھوں کی صورت میں شامل ہوئے، ایک گروپ سرگودھا سے آیا، وہ آٹھ لوگ تھے گفتگو کے دوران ان کا فوکس اس بات پر تھا کہ میرے امریکی سفیر سے کیسے تعلقات ہیں،جب میں نے تسلسل کے ساتھ زور دے کر کہا کہ میری اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تو ایک شخص کھڑا ہو کر بولا،”چلیں جی اجازت لیں ، اپنا اور مولانا کا وقت برباد نہ کریں۔ہم تو یہ سمجھ کر آئے تھے کہ آپ کو امریکا کا آشیر باد حاصل ہے“
یوں محسوس ہوا جیسے تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، اب امریکا کی جگہ پاکستانی افواج نے لے لی ہے۔ اور سیاست کاری کا اجازت نامہ وہ دیتی ہے۔دوسری جانب رانا مشہود نے اس بیان میں پاک فوج پر ایک تو یہ الزام عائد کیا ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی جماعت اقتدار میں آ ہی نہیں سکتی، دوسرا یہ کہ پی ٹی آئی کو اقتدار میں لایا گیا ہے، اور افواج پاکستان کو اب اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانا غلط فیصلہ تھا۔ مگر اس بیان سے کچھ اور معنی بھی کشید ہوتے ہیں، یہ بیان شہباز شریف اور برادر کلاں نواز شریف اور مریم صفدر میں کشیدگی کا بھانڈا بھی پھوڑتا ہے، یہ نوید بھی دیتا ہے کہ شہباز شریف افواج پاکستان سے این او آر لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں، انہیں اقتدار تب ہی ملے گا جب وہ اداروں کے ساتھ چلیں گے، جو کہ نواز شریف اور مریم شریف کے بیانئے کے الٹ ہے۔
رانا مشہود کا یہ بیان اس لئے لغو اور غیر ضروری ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سیاسی عمل میں مداخلت کر رہی ہوتی یا ان کا ایک ماہ میں ہی جی بھر گیا ہوتا تو انتباہ اور اشارے کے طور پر پنجاب سے گزشتہ روز سینٹ کے الیکشن کے لئے پی ٹی آئی کے شہزادہ وسیم کو 181ووٹ نہ لینے دیتی یہ ووٹ ن لیگ کے خواجہ حسان لیتے، وہ 169ووٹوں تک محدود نہ رہتے ،دوسرا پی ٹی آئی اتنی آسانی سے وفاق میںمنی بجٹ پاس نہ کروا پاتی،امریکا سمیت وہ ممالک جن سے پاکستان کے تعلقات ماضی قریب میں کشیدہ تھے یا جن کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعلقات میں سرد مہری تھی ان میں گرم جوشی پیدا نہ ہوتی، عالمی قوتیں ایک ایسے وزیر اعظم کو اپنے ملک کے دورے کے لئے مدعو نہ کرتیں جو کہ کچھ دنوں کے مہمان ہیں،اس تمام تر بحث کے باوجود اس بیان کی سنگینی سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا،عسکری ادارے کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا یہ کہنا کہ ”یہ بیان ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والا ہے“اس کی سنگینی بیان کرنے کے لئے کافی ہے، وہ اس لئے کہ یہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان کا بیان نہیں، پاک فوج کے ترجمان کا بیان ہے جو اس ملک کی سلامتی کی قیمت سے آگاہ ہیں، وہ داخلی سلامتی ہو یا سرحدوں کی حفاظت، ملکی افواج نے جانوں کے نذرانے دے کر اس سلامتی کو برقرار رکھا ہے، ہر وہ عمل اور سوچ جو ملکی سلامتی کو خطرات سے لاحق کرے اسے وطن دشمنی ہی کہا جا سکتاہے، شبہات موجود ہیں کہ یہ بیان ایک مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہے،بے شک ن لیگ پارٹی ڈسپلن کے تحت انکوائری کرے کہ یہ رانا مشہود کا ذاتی بیان تھا یا کسی ن لیگی دھڑے یا لیڈر کے کہنے پر دیا گیا ہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہئے، ایسے بیانات جہاں حکومت وقت کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں وہیں قومی اداروں کی کارکردگی کو بھی سوالیہ بناتے ہیں، ن لیگ روز اول سے اس حکمت عملی پر کاربند ہے کہ جھوٹ اس تواتر اور زور سے بولو کہ وہ سچ کو کھا جائے، لہٰذا یہ جھوٹ کہ پی ٹی آئی کو خلائی مخلوق اقتدار میں لائی ہے،لوگ سچ نہ مان لیں۔سچ کا سچ اور جھوٹ کا جھوٹ تب ہی سامنے آئے گا جب اس بیان کی صداقت سامنے آئے گی، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب کوئی جوڈیشل انکوائری ہو، ورنہ ن لیگ کی روائیت تو یہ ہے کہ راجا ظفرالحق کی سربراہی میں ختم نبوت کے اقرار نامے میں تبدیلی لانے والوں کی نشاندہی کے لئے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ ہنوز صیغہ راز میں ہے۔ اور سب سے اہم بات ن لیگ ان کروڑوں ووٹروں کے مینڈیٹ کی توہین سے باز رہے جنہوں نے موجودہ حکمرانوں کے حق میں ووٹ ڈالے۔

About Daily City Press

Check Also

City-Press-1

۔۔۔تعلیم کی کہانی

تعلیم کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنایت عنایت علی دنیانئی دنیاؤں کی تلاش میں ہے۔ زمین جیسے دیگرسیارے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *