Home / Columns / اقتدارکن احمقوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے!

اقتدارکن احمقوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے!

Amaar kazmi

اقتدارکن احمقوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے!

عمار کاظمی

آج لاہور میں ایک عمر رسیدہ شخص کو ہیلمٹ نہ ہونے پر پولیس نے روکا، اُسے جرمانہ کیا اور اسکی موٹر سائیکل بند کرنے کا کہا، جس پر وہ اسقدر جھنجلاہٹ کا شکار ہوا کہ خود کُشی پر تیار ہو گیا۔دوسری طرف لاہور ہی میں چونگی امرسدھو میں رشکہ ڈرائیور نے پچیس سو جرمانے پر اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔  یعنی لوگ معاشی پریشانیوں کیوجہ سے جب ذہنی خلفشار اور ہیجان کا شکار ہیں،اپنے قلیل روزگار رکشوں کوبھی   یہ سوچے بنا آگ لگا رہےہیں کہ یہ بھی جل گیا تو کھائیں گے کیا،  خودکشیاں کرنے پر تیار ہیں، تحریکِ انصاف کی حکومت کو ایسے وقت اور حالات میں مہنگائی کر کے ریوینیو جنریٹ کرنیکی سوجھ رہی ہے۔ تیس ہزار کے موٹر سائیکل کی رجسٹریشن فیس پینتیس سو جو پہلے ہی زیادتی تھی اب میں پندرہ سو روپے کا مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔  کیا یہی وہ طبقہ تھا جو ٹیکس نیٹ میں نہیں تھا؟ کیا یہی وہ لوگ تھے جو ٹیکس نہیں دیتے تھے؟ اگر آپکی نظر میں یہ وہ لوگ تھے کہ جو ٹیکس نہیں دے رہے تھے تو آپکی جماعت اور قیادت کی عقلوں سرخ سلام۔ سمجھ نہیں آ رہی کن احمقوں، پاگلوں اور انتہا پسندوں  کے حوالے پاکستان کر دیا گیا ہے۔ مطلب آپکو اور خاص طور پر آپکے لیڈر کو بائیس سال کی جدوجہد کے بعد اقتدار ملا اور آپ اُسکے ملتے ہی بد ترین آمروں والے سلوک پر اتر آئے؟ ایسے حالات میں یہ حکومت اور کتنا چل سکے گی؟ جو حالات ہیں اُنکے قطاً نہیں لگ رہا کہ یہ حکومت زیادہ دیر چل پائے گی۔ عوام کسی ریاست میں جتنی مرضی کمزور ہو اور حکومت، فوج عدلیہ سمیت ریاستی ادارے جتنے مرضی طاقتور ہو جائیں وہ غربت،  بیروزگاری اور اس پر اٹھنے والے مہنگائی کے طوفان پر عوامی ردعمل کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ایسے حالات میں ایک وقت آتا ہے جب دنیا کی مضبوط ترین حکومتیں، آمریتیں،  ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جاتی ہیں۔ اور جہاں حزبِ اختلاف میں دو بڑی جماعتیں ایسی موجود  ہوں کہ جو برسوں اقتدار میں رہ چکی ہوں وہاں  ایسے حالت میں کوئی  حکومت  کیسےٹک پائے گی؟ اور  اگرحذبِ اختلاف کوئی سخت اپوزیشن نہیں  کرے گی  تو بھی عوام غیر شعوری طور پر ان کی طرف ہی  رجوع کرنے پر مجبور ہوگی۔  عمران خان  کےوہ نعرے کہاں گئے کہ اگر اس ملک سے کرپشن ختم ہو جائے تو یہ دنیا کا امیر ترین ملک بن جائے گا؟  اوہ کہتے تھے کہ کرپشن ختم کریں گے تو ریونیو مہنگائی کیے بغیر ہی بڑھ جائے گا۔اب کریں ختم کرپشن، کیوں نہیں کرتے؟اور اگر آپکا جواب یہ ہے کہ اچانک کرپشن ختم نہیں ہو سکتی تو  پھرمہنگائی تو نہ کرو، دو سب سڈی ان حکومتوں  کیطرح جن کو تم   پچھلےدس سال کرپٹ کہتے رہے،  خود پر یقین نہیں یا نعرے جھوٹے تھے؟ اگر خود پر یقین نہیں تو چھوڑ دو حکومت  ، آئے کیا کرنے ہو؟ طاقتور سے ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے کی بجائے ہر نئی آنے والی حکومت کی طرح  صرف نئے ٹیکس لگانے پر دھیان دیا جا رہا ہے۔ یقیناً اب تحریک انصاف کو سپورٹ کرنے والی عوام کو  اصل سٹیٹس کو اور اسکے حقیقی بینی فشریز  کی سمجھ آ جانی چاہیے کہ جو نقاب پہنے پیچھے سے ڈوریں  کھینچ کرجمہوری حکومتوں سے  غیر مقبول ،غیر عوامی  فیصلے کرواتے  ہیں اور جب کوئی جمہوری حکومت  اپنی مقبولیت کی معیاد پوری کر چُکے تو اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹوں  میں سے ہی کچھ تجزیہ نگار بن کر حکومتی  پالیسیوں پر تنقید کرنے ٹی وی پر آ جاتے ہیں۔ دنیا کا کوئی پاگل ترین شخص بھی ایسا نہیں ہوگا کہ جو سب جانتے بوجھتے ایسے اقدامات اٹھا کر اپنی برسوں کی محنت کو ایک لمحوں  میں آتش کدے میں ڈال دے۔ تحریکِ انصاف کی لیڈرشپ کیا اس سے وابستہ بچہ بچہ  ریاست کے خراب معاشی حالات سے واقف تھا اور ہے۔ اورانھوں نے تو ووٹ ہی اسی بنیاد پر حاصل کیا تھا کہ گزشتہ حکومت نا اہل تھی، اس نے عوام کو رلیف دینے کی بجائے مہنگائی میں اضافہ کیا ، عوام کیپاس  مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے روزگار نہیں تھا۔ تو اب کیا ہوا؟ کیا بے روزگاری ختم ہو گئی،کیا ساری بے روزگار عوام بڑی پگار پر بھرتی ہو گئی؟  نہیں  صاحب آپ تو پہلے والوں  کو بھی بے روزگار کرنے پر تلُے ہیں ،آپ تو لوگوں کی ایک سوکھی  روٹی کو بھی آدھا کرنا چاہ رہے ہیں۔

حکومت کیا ہے بس ایک مداری کا بندر تماشہ لگا ہوا ہے۔اور اس پر ستم یہ کہ بھُوکی پیاسی عوام  اپنا یہ تماشہ پیسے خرچ کر دیکھنے پر مجبور ہے۔عمران خان کے اس  غیر حقیقی کنفیوژڈ وژن کے پیچھے ایک اہم فیکٹر وہ اوورسیز پاکستانیز بھی ہیں جو دور بیٹھے پاکستان کی زمینی حقائق سے ناواقف ہر وقت اپنی جہالت بھگارتے رہتے ہیں۔ نہ انکے پاس انٹلیکٹ ہے نہ احساس والا دل کہ جو غریب کو اسکے زمینی حقائق مطابق دیکھ سکے۔ رات انہی میں سے کچھ حالیہ حماقتوں پر تحریکِ انصاف کی عوام دشمن پالیسیوں کا دفاع کر رہے تھے۔حیرت ہے اُن لوگوں  کی جہالت پر جو دو سو روپےکی دیہاڑی لگانے والے پر پچیس سو روپے جرمانے کو ڈفینڈ کر رہے  ہیں۔ پتہ نہیں اِنکے سروں میں دماغ یا سینے میں دل۔او بھائی اگر تیس سال سے اقتدار انکے ہاتھ میں تھا تو انھوں نے تو یہ ایسا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا تھا جو تم نے آتے ہی ڈال دیا۔آج تحریکِ انصاف کے جو کارکنان میاں صاحب کی رہائی پرڈیل کی بات کر رہے ہیں انھیں سوچنا چاہیے کہ انکی حکومت کیا کر رہی ہے ؟ کیا تحریکِ انصاف کی مڈل کلاس یوتھ بھی ان سے ایسی ہی کسی حکمتِ عملی کی اُمید رکھتی تھی کہ  یہ آئیں گےاور رکشے والے رکشوں کو آگ لگائیں گے، سیونٹی سی سی موٹر بائیک کی رجسٹریشن پینتیس سو سے بڑھا کر پانچ ہزار کر دی جائے گی، تیس ہزا کی موٹر سائیکل پر انھیں وہ ہیلمٹ نہ پہننے پر ہزارسے  دو ہزار جرمانہ ادا کرنا ہوگا کہ جو یہاں کے موسم کے مطابق ڈیزائنڈ بھی نہیں ،جس کے پہننے سے ایفی شینسی میں کمی کیوجہ سے حادثے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں؟کیا یہ وہ طبقات تھے کہ جن پر ٹیکس بڑھانا تھا؟ یہ تو پہلے ہی ماچس کی ڈبیا سے گھی تک ہر چیز پر ٹیکس ادا کر رہے تھے۔ڈبے والی دہی مہنگی کر دی کہ جیسے وہ بہت بڑی عیاشی اور امرا کی  غزا تھی۔ غریب مزدور جو لاہور میں مزدوریاں کرنے آئے موبائل فون کا سو روپے والا پیکیج لگوا کر اسی منٹ بات کر لیتے تھے وہ بھی ایک سو بیس کا کر دیا اور چیف صاحب اس بار خاموش ہیں۔ موٹر سائیکل تو آج سکولوں کے خاکروبوں کیپاس بھی ہوتا ہے اور لوئر مڈل کلاس کے نوجوانوں کیپاس بھی ۔ اس پر ٹیکس عائد کرنے سے کونسا بڑا مگر مچھ قابو  کر لیاعمران نیازی نے؟  تو کیا ان سب پسے ہوئے طبقات پر بوجھ ڈالنا ہی تبدیلی تھی؟ بھائی  اگر نواز کی ڈیل جیل سےنکلنے پر ہوئی تو آپکی ڈیل اقتدار لینے پر ہوئی۔ وہ اپنی جان بچا کر نکلا ہوگا مگر آپ تو اقتدار میں عوام کی جان پھنسانے آئے ہو ، آپ زیادہ بڑے مجرم ہو،آپ کس منہ سے کسی کو ڈیل کا طعنہ دیتے ہو؟ یہ تو این آر او سے بھی ہزار گنا بُری ڈیل ہے۔اسٹیبلشمنٹ کو جو کام آپ سے لینا تھا وہ  توبینک کے کے قرض  میں شامل سودکی طرح پہلے پہل ہی وصول کیا جانے لگا ہے۔اور اصل زر اداہونے تک تو شاید لوگ رکشوں کی بجائے خود کو بھی آگ لگانے لگیں گے!

 

About Daily City Press

Check Also

City-Press-1

۔۔۔تعلیم کی کہانی

تعلیم کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنایت عنایت علی دنیانئی دنیاؤں کی تلاش میں ہے۔ زمین جیسے دیگرسیارے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *