Home / Columns / ” سیاسی منظر نامہ اور حکومت کا جارحانہ طرز حکمرانی۔۔۔؟ “

” سیاسی منظر نامہ اور حکومت کا جارحانہ طرز حکمرانی۔۔۔؟ “

صورتحال
ہارون عدیم
” سیاسی منظر نامہ اور حکومت کا جارحانہ طرز حکمرانی۔۔۔؟ “

haroon adeem logo
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے قومی اسمبلی کے فلور پر منی بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن پر جوابی ”لاٹھی چارج“ کرتے ہوئے کہا ہے مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں ”ایسٹ انڈیا کمپنی کا کردار ادا کیا،جس محکمے پر ہاتھ رکھیں تباہ و برباد ہے، سرکاری محکموں میں ملازمین کم اور ن لیگ کے ممبران زیادہ ہیں،صرف ریڈیو پاکستان میں 700ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں،ان کو تنخواہ کہاں سے دیں۔۔۔؟سابق حکومت نے اتنے قرضے لئے کہ بچوں کے بچے بھی غلام بنا دیئے ، تین سو ارب روپے قرض لے کر اورنج ٹرین پر خرچ کر دیا گیا،میٹرو بسوں کے لئے 18ارب روپے درکار ہیں،یہ جوابی حملہ اپوزیشن کی جانب سے تندو تیز تنقید پر جوابی حملہ تھا، اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ حکومت نے بسم اللہ ہی درست نہیں کی، گیس اور بجلی کے نرخ بڑھنے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا،عوام براہ راست متاثر ہونگے، اپوزیشن بنچوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ وزیر اعظم سعودیہ کے دورے کے بارے میں ایوان کو اعتماد میں لیں،سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بحث کے دوران وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو بھی ایوان میں موجود ہونا چاہئے تھا، کیونکہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کی باتیں پی ٹی آئی والے بہت تواتر سے کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب متحدہ اپوزیشن پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کی چیئر مین شپ پر بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے، ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے خود کو پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا چیئرمین ہونے کا اعلان کر دیا ہے، ان کا استدلال ہے کہ اب تک کی پارلیمانی روایت یہی تھی کہ پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا سربراہ اپوزیشن پارٹی کا ہیڈ یا اس کا نامزد کیا ہوا رکن اسمبلی ہوتا تھا، اس روایت کی رو سے پبلک ااکاو¿نٹس کمیٹی کی سربراہی ن لیگ کی جاگیر بنتی ہے،جبکہ حکومتی بیانات اور اقدامات سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ وہ کسی صورت میں بھی شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنے کو تیار نہیں، ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ یہ پارلیمانی روایت میثاق جمہوریت کی پیداوار تھی،جو کہ دو جماعتی نظام کو تقویت پہنچانے کے لئے وضح کیا گیا تھا، جس کی پی ٹی آئی پابند نہیں، فواد چوہدری نے کہاکہ شہباز شریف کا اس لئے پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ آڈٹس ان کے بھائی کی حکومتی دور کا ہونا ہے، پی ٹی آئی کا نہیں، وہ اس لئے کہ پی ٹی آئی کو تو اقتدار ملے 21دن ہی ہوئے ہیں،آڈٹ گزشتہ پانچ سالوں کا ہونا ہے، ہمارا(پی ٹی آئی)آڈٹ تب شروع ہو گا جب ہم ایک سال مکمل کر لیں گے۔تب پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا سربراہ اپوزیشن لیڈر ہی ہو گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے یہ آہ بکا اس لئے بھی ہو رہی ہے کہ ان کا احتساب شروع ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ مزید کڑا ہونے والا ہے، لوٹی ہوئی دولت کی ریکوریاں شروع ہونے والی ہیں۔ مزید گرفتاریاں وقوع پذیر ہونے کو ہیں،با خبر حلقون کا کہنا ہے کہ سندھ میں منی لانڈرنگ کے بارے میں بہت ہی حساس نوعیت کے شواہد مل گئے ہیں، گزشتہ روز سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار چوہدری کے داماد کو دوبئی میں گرفتار کر لیا گیا ہے،یاد رہے کہ ہاو¿سنگ سوسائٹی فراڈ کے نتیجے میں 200سے300افراد متاثر اور اور زندگی کی جمع پونجی گنوا بیٹھے تھے،مقدمے میں افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان، صاحبزادی اور سمدھی بھی نامزد ہیں۔
یہ سیاسی منظر نامہ کہیں بھی پر سکون سیاست کاری کی نشاندہی نہیں کرتا، محسوس ایسے ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اپوزیشن نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ ایسا کوئی بھی حکومتی اقدام پایہ ءتکمیل کو نہیں پہنچنے دے گی جس سے عوامی فلاح ہوتی دکھائی دے، اور ہر حکومتی اقدام کو متنازعہ بنائے گی، جب کہ قرائن بتاتے ہیں کہ حکومت جارحانہ طرز حکمرانی کو ہی اپنا شعار بنائے رکھے گی، فواد چوہدری نے بجا طور پر کہا ہے پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کی سربراہی کسی ایسے شخص کو نہیں بنایا جا سکتا جس پر کرپشن، حدود سے تجاوز اور بد عنوانیوں کے الزامات ہوں، دوئم یہ بھی ضروری نہیں کہ مال غنیمت کی بندر بانٹ کا ”میثاق جمہوریت“ جو کہ پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان طے پایا تھا دیگر سیاسی جماعتیں بھی اسے مانیں،یا اس پر عملدرآمد کریں، سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ن لیگ اور پی پی پی میثاق جمہوریت پر عمل پیرا ہیں۔۔۔؟کیا ن لیگ ماضی میں میثاق جمہوریت پر عمل پیرا رہی ہے۔۔۔؟کیا ن لیگ پی ٹی آئی کی نو زائدہ حکومت کو کام کرنے دے رہی ہے، وہ سیاسی ماحول مہیا کر رہی ہے جو وہ اپنے لئے مانگتی تھی۔۔۔۔؟
اگر دیکھا جائے تو بادی النظر میں حکومتی رویہ بڑا جارحانہ دکھائی دیتا ہے، سابقہ حکومت کو ایسٹ انڈیا کمپنی قرار دینا، قومی اداروں کی تباہی، محکموں کا بیڑا غرق، قرضوں کا بوجھ یاد دلانا اور الزامات کی بوچھاڑ، اوپر سے اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا سربراہ نہ بنانے کا عزم اس بات کی غمازی کرتا ہے، کہ سیاسی ارتعاش گھٹنے کی بجائے بڑھے گا کم نہیں ہو گا، لگتا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے یہ تمثیل از بر کر لی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ ایک سانپ نے ایک بزرگ کے ہاتھ پر بیعت کر لی،مگر بزرگ نے اسے اپنے مریدوں میاں شامل کرنے سے پہلے قول لیا کہ وہ مرید بننے کے بعد کسی کو ڈسے گا نہیں،یہ بیعت لینے کے بعد اپنا فیض بانٹنے کے لئے دوسرے علاقوں کی طرف کوچ کر گئے، جب ایک مدت کے بعد بزرگ اس علاقہ میں لوٹے تو ان کی یہ دیکھ کر حیرت نہ رہی کہ سانپ کی دم میں لڑکوں نے رسی باندھ رکھی ہے اور وہ اسے ادھر ادھر پٹخ رہے ہیں، سانپ زخموں سے چور ہے، اور اس کے زخموں سے چیونٹیاں چمٹ چکی ہیں،بزرگ نے سانپ کو بچوں کے قبضے سے آزاد کروایا ، اس کے زخم دھو کر مرحم پٹی کرنے کے بعد پوچھا کہ اس کی یہ حالت کیسے ہوئی، تو سانپ نے عرض کی کہ
”حضرت! جب لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ میں نے قول دیا ہے کہ میں اب ڈسوں گا نہیں، تو انہوں نے میرا یہ حال کر دیا“
بزرگ نے یہ سن کر اپنا ماتھا پکڑ لیا اور کہا
”ہم نے تمہیں ڈسنے سے منع کیا تھا، پھنکارنے سے منع نہیں کیا تھا، جب تم لوگوں کو اپنے خوف سے آزاد کر دو گے تو وہ تمہارا یہی حال کرینگے“
حکومت صرف پھنکار ہی نہیں رہی ڈس بھی رہی ہے، اور یہ اس وقت وقت کی اہم ضرورت ہے۔مگر احتیاط لازم ہے، خیال رہے کہ اس سے ملک میں جارحانہ سیاست کاری سے عدم استحکام پیدا نہ ہو، حکومت اپنے پراپیگنڈہ مشینری کو مزید فعال کرے، تواتر سے لوگوں کو سمجھائے کہ احتساب گزشتہ پانچ سال حکومت کرنے والوں کا ہونا ہے نہ کہ 21دن حکومت کرنے والوں کا۔ سب سے اہم بات بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے کی ہے، اپوزیشن کے اس پر احتجاجی بیانات حقیقت پر مبنی ہیں، اسلام آباد کی نوکر شاہی کا دعویٰ ہے کہ اس نے پی ٹی آئی کا سانپ کیل لیا ہے، منی بجٹ اور بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانا ان کا کارنامہ ہے، عوام بے صبرے دکھائی دیتے ہی ، یہ نہ ہو کہ مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ حکومت کے پھنکارنے کی شکتی بھی چھین لے۔

About Daily City Press

Check Also

City-Press-1

۔۔۔تعلیم کی کہانی

تعلیم کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنایت عنایت علی دنیانئی دنیاؤں کی تلاش میں ہے۔ زمین جیسے دیگرسیارے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *