Home / Columns / ”کھیتوں میں بارود بویا جائے تو پھول نہیں کھلتے“

”کھیتوں میں بارود بویا جائے تو پھول نہیں کھلتے“

ضمیر آفاقی
عوام کی آواز
اگر اس حقیقت کا ادراک دنیا بھر کے خصوصاً ان ممالک کے سربراہان اور جنگوں سے وابستہ مفاد پرستوں کو ہو جائے کہ آج اگر کوئی جنگ کا میدان ہے تو وہ معاشی اصلاحات اور سماجی ترقی کا میدان ہے تو شائد دنیا سے بھوک کا خاتمہ اور انسانی زندگی میں امن و سکون کے ساتھ اطیمنان قلب نصیب ہو سکتا ہے جس کا فائدہ انسان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کائینات کے اسرار و رموز سمجھنے کے ساتھ انسانیت کے لیے مذید فائدہ مند سائنسی ایجادات میں یکسو ہو سکتا ہے یہاں تک کہ ہم جیسے ملک جو سائنسی میدان میں شائد قدم ہی نہیں رکھ سکے وہ بھی سائنسی میدان میں گھوڑئے دوڑا سکتے ہیں جبکہ فنون لطیفہ میں کمال عروج حاصل کرسکتے ہیں، یہی بات ہمارئے وزیر اعظم نے اپنے ہم منصب بھارتی وزیر اعظم کو سمجھاتے ہوئے کہی ہے کہ نریندر مودی کو غربت کے خاتمے کی طرف توجہ دینی چاہیے ان کا کہنا تھا کہ کھیتوں میں ٹینک چلانے سے غربت ختم نہیں ہوسکتی۔
یہ بات انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اگر اُن کی خواہش یہ ہے کہ غربت کے خاتمے میں ہمارا مقابلہ ہو، اگر اُن کی خواہش یہ ہے کہ بے روز گاری کے خاتمے کے لیے ہمارا مقابلہ ہو، اگر اُن کی خواہش یہ ہے کہ عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں اور ترقی و خوشحالی میں ہمارا مقابلہ ہو، تو یہ کام ’آگ، بارود اور خون کے کھیل کے ذریعے نہیں ہو سکتا، جن کھیتوں میں بارود بویا جائے، ان میں روزگار اور خوشحالی کے پھول نہیں کھلا کرتے، جن زمینوں کو ٹینکوں اور توپوں سے روندا جائے، وہاں عوامی فلاح و بہبود کے چمن نہیں لہرایا کرتے، اگر آپ واقعی اس خطے کے عوام کی زندگیوں میں انقلاب چاہتے ہیں، تو اپنے قول اور فعل کا تضاد دور کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم کی اس بات کو سونے کے پتوں پر لکھنا چاہیے اور ہر پبلک مقام پر آویزاں کر دینا چاہیے کیونکہ یہی وہ حقیقت ہے جس کا ادراک اگر دونوں ممالک کے جنگی جنونیوں کو ہوجائے تو خطے کے سوا دو ارب کے قریب انسانوں کی زندگیوں میں دنوں میں خوشحالی اور سماجی ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں۔
ابھی حال ہی میں ایک رپورٹ”’غربت کا خاتمہ پاکستان اور ہندوستان دونوں کیلئے چیلنج“ منظر عام پر آئی ہے جس میں عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی طرح ہندوستان کو بھی غربت کے خاتمے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے حالانکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت سے سیکھنا چاہیے کہ غربت سے کیسے لڑتے ہیں۔ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ ‘غربت اور مشترکہ خوشحالی’ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا جہاں غریب طبقے کی آمدنی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔پاکستان میں غریب طبقے کی قومی نمو چار فیصد سے زیادہ ہے جبکہ اس فہرست میں چین 8 فیصد شرح نمو کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے اور سری لنکا بھی اس لسٹ میں شامل ہے۔بھارت کو ان ملکوں کی فہرست میں رکھا گیا ہے جہاں غریب طبقے کی آمدنی اوسط سے بھی کم رفتار سے بڑھ رہی ہے البتہ اس کی معیشت دنیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت قرار دی گئی۔مجموعی طور پر اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض شعبوں میں بھارت کی کارکردگی پاکستان سے بہتر ہے جب کہ بعض میں پاکستان انڈیا سے آگے ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 21.25 فیصد بھارتی عالمی بینک کے مقرر کردہ خط غربت(یومیہ 1.90 ڈالر آمدنی) کے دہانے پر یا اس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ پاکستان میں اس کی شرح صرف 8.3 فیصد ہے۔اس کے علاوہ 58 فیصد ہندوستانی شہریوں کی یومیہ آمدنی 3.10 ڈالر یومیہ ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح 45 فیصد ہے۔رپورٹ میں امید ظاہر کی ہے کہ اگر بنگلہ دیش نے سخت معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ 2030 تک غربت پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکتا ہے اور وہاں 43.7 فیصد لوگ خط غربت کے دہانے پر یا اس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 77.6 فیصد شہریوں کی یومیہ آمدنی 3.10 ڈالر ہے۔
شہریوں کی اوسط عمر کے اعتبار سے بھارت پاکستان سے تھوڑ آگے ہے اور 2014 تک کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں اوسط عمر 68 برس جبکہ پاکستان میں 66.1 برس ہے۔خواتین کی اوسط عمر کے حوالے سے بھی بھارت آگے ہے جہاں عورتوں کی اوسط عمر 69.49 سال جبکہ پاکستان میں 67.15 سال ہے۔اس کے علاوہ بالغ لڑکیوں کی شرح خواندگی کے اعتبار سے بھی بھارت پاکستان سے آگے ہے اور 2011 تک کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی 59.2 فیصد لڑکیاں خواندہ ہیں جبکہ پاکستان میں یہ شرح 41.9 فیصد ہے۔نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کے حوالے سے بھی بھارت کو پاکستان پر برتری حاصل ہے،بھارت میں 2010 میں ہر 1000 پیدائشوں میں سے 46.3 فیصد بچے مرجاتے تھے لیکن 2015 میں یہ شرح کم ہوکر 37.9 فیصد ہوگئی جبکہ پاکستان میں 2010 میں یہ شرح 73.5 فیصد تھی جو 2015 میں 65.8 فیصد ہوگئی۔خوراک کی کمی کو پورا کرنے میں بھی بھارت کا ریکارڈ پاکستان سے اچھا ہے، 2015 میں بھارت کی کل آبادی کا 15.2 فیصد حصہ خوراک کی کمی کا شکار تھا جبکہ پاکستان میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2013 کے دوران پاکستان کی سالانہ نمو میں نچلے طبقے کی 40 فیصد آبادی کی اوسط کھپت 2.81 فیصد جبکہ مجموعی آبادی کی اوسط کھپت 2.53 فیصد رہی۔نچلے طبقے کی 40 فیصد آبادی کی فی کس سالانہ آمدنی (امریکی ڈالر) 2.07 فیصد رہی جبکہ مجموعی آبادی کی فی کس سالانہ آمدنی 3.81 فیصد رہی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں بچوں کو اسکول بھیجنے کے رجحان میں اضافے سے فائدہ مند غیر زرعی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔اسی طرح بچوں کو اسکول بھیجنے والے والدین کی مالی معاونت جیسے اقدام سے پاکستان میں اسکول جانے والے بچوں کی تعداد میں 11 سے 13 فیصد تک اضافہ ہوا۔ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطاب پاکستان ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں 2008 سے 2013 کے دوران عدم مساوات میں کمی دیکھنے میں آئی۔پاکستان کا Index Gini(عدم مساوات کا اندازہ لگانے والا انڈیکس) منفی 2.4 فیصد تک کم ہوا۔
آئینہ ہم دیکھنا نہیں چاہتے اور اس طرح کی رپورٹس کو یہود و ہنود کی سازش قرار دیتے ہوئے حقائق سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں انسانی ترقی کے شعبوں کو اولین فہرست میں رکھتے ہوئے کام کرنا چاہیے تاکہ یہاں بھی کبھی ”اکثریت“ کے چہرئے پر اطیمناں قلب نظر آئے۔جبکہ بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ کاسمیٹیک ترقی کے خول سے باہر نکل کر اپنی سسکتی ہوئی عوام کے چہرئے دیکھے جن پر دکھوں اور غموں کی داستان رقم ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم کو پاکستانی وزیر اعظم کی بات پر غور کرتے ہوئے اپنے ملک سے غربت ،بھوک ،بے روزگاری اور بیماری کی نحوست کے خاتمے کے لئے کام کرنا چاہے۔

About Daily City Press

Check Also

talat-hussain

ایک تحیر آمیز واقعہ

طلعت حسین ایک تحیر آمیز واقعہ پاکستان کے نئے آرمی چیف کی نامزدگی کے اہم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *