Home / Columns / ناشتہ

ناشتہ

یاسر پیر زادہ
ایک عدد دیسی گھی کا پراٹھا ، دو عدد آملیٹ اور دو کپ چائے پر مشتمل غذائیت اور توانائی سے بھرپور ناشتہ حلق میں اتارنے کے بعد میں پچھلے ڈھائی گھنٹے سے محو استغراق ہوں (بقول مشتاق یوسفی صاحب ، اساتذہ فرماتے ہیں کہ جہاں مشکل تراکیب معلوم ہوں وہاں آسان لفظ ہر گز استعمال نہ کرو) کہ مجھے کس موضوع پر کالم لکھنا چاہئے ۔ ویسے تو ناشتے کے بارے میں بھی فیصلہ کرنے میں مجھے قریبا ً آدھا گھنٹہ لگ گیا کیونکہ ڈائیٹنگ کے معاملے میں میرے گرو جناب محمد عادل کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان ہمیشہ صحت بخش غذا کھائے اور روٹی ، چائے ، چاول ، میٹھا، مشروبات اور بیکری آئٹمز جیسی تمام قباحتوں سے دور رہے ، با الفاظ دیگر کسی ایسی جنس کے قریب نہ جائے جس سے لطف حاصل ہونے کا اندیشہ ہو۔ انہی خطوط پر چلتے ہوئے موصوف نے مجھے ایسی موٹیویشنل ڈائٹنگ کروائی کہ پندرہ دن میں چار کلو اور ایک ماہ میں آٹھ کلووزن کم ہو گیا ، یہ اور بات ہے کہ موصوف کا اپنا وزن اس دورا ن دس کلو مزید بڑھ گیا تاہم اس بارے میں استاد کا کہنا ہے کہ ان کا کام قوال کا ہے جو اپنی قوالی سے ایسا ماحول بناتا ہے کہ سامعین سر مستی کے عالم میں جھومنے لگتے ہیں سو ایسے میں اگر قوال خود ہی اٹھ کر جھومنا شروع کردے تو قوالی کون کرے گا !ظاہر ہے کہ ایسی مدلل بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا سو اس پوری ڈائیٹنگ کے دوران جب بھی مجھے چاکلیٹ ، بسکٹ ، کلچے ، بریانی یا کھیر کھانے کی طلب ہوتی تو عاد ل صاحب فون پر ایسا پُر مغز لیکچر دے کر ڈراتے کہ جیسے ایک صاحب نے ’’موت کا منظر ، مرنے کے بعد کیا ہوگا ؟ ‘ ‘ لکھ کر ہمیں ڈرایا ہوا ہے ۔ فون پر ہونے والی اِس گفتگو کے دوران موصوف مجھے ہولڈ کرواکے اپنے باورچی کو ہدایات بھی دیتے جن میں کچھ اس قسم کی باتیں سُننے کو ملتیں ’’ شام کی چائے میں چھوٹے سموسوں کے ساتھ پکوڑے کر لینا اور رات کو میٹھے میں بلماج بنا لینا ، اور کل تم نے پلاؤ میں گوشت کم ڈالا تھا ، میرے عزیز پلاؤ کی بوٹی ہی تو کھانے والی ہوتی ہے ، ایسی بد احتیاطی آئندہ نہ ہو ۔۔(پھر میری طرف متوجہ ہو کر ) ہاں یار جانی میں کہہ رہا تھا کہ ٖصرف چار دن اور صبر کر لو پھر دیکھنا اِس تیزی کے ساتھ وزن نیچے آئے گا جیسے بچے سلائیڈ لیتے ہوئے نیچے آتے ہیں ،آپ کا دل باغ باغ ہو جائے گا ، ویسے بھی جان برادر ،میدے سے بنی جتنی چیزیں ہیں اُنہیں کھانے سے تو بہتر ہے کہ انسان بازار سے زہر خرید کر کھا لے ، یہ جو آپ کو میٹھے بسکٹ کھانے کا شوق ہےآپ کو پتہ ہے کہ یہ سیدھے جسم میں جا کر اِس کا حصہ بن جاتے ہیں ،آپ خود سوچیں کہ ایک دو بسکٹ آپ کوکیا دیں گے سوائے وزن میں اضافہ کرنے کے ؟ سو برادرم تھوڑا صبر اور کر لو ،جس دن پتلون کا سائز چار انچ کم ہو گا اُس روز تم مجھے دعائیں دو گے، اور یہ دن آنے میں بس دو ہفتے اور باقی ہیں ! ‘ اس پُر اثر گفتگو کے بعد میں دل ہی دل میں بد پرہیزی کا پروگرام ملتوی کر کے فقط Decaf Coffeeسے دل بہلاتا جس میں مرشد نے د ودھ اور شکر ڈالنے کی اجازت بھی نہیں دی تھی ۔ادھر خود مرشد کا اپنا حال یہ ہے کہ کسی زمانے میں ایک ریستوران کھولا جو نہیں چل سکا تو اس کے شیف کو فارغ کرنے کی بجائے گھر میں ہی ملازم رکھ لیا کہ بے چارہ کہاں نئی ملازمت ڈھونڈتا پھرے گا ، اور اب روزانہ اُس سے نت نئے پکوان بنوائے جاتے ہیں ، خود بھی کھاتے ہیں اور اُسی محبت سے دوستوں کو بھی کھلاتے ہیں ۔
بات ہو رہی تھی کہ مجھے ناشتے کے مینو کا فیصلہ کرنے میں بھی آدھ گھنٹہ لگ گیا ، وجہ اس کی یہ ہے کہ گو میں اب اُس شدّو مد کے ساتھ ڈائٹنگ نہیں کر رہا جیسے میرے گرو نے شروع کروائی تھی کیونکہ وزن کم کرنے کا مطلوبہ ہدف میں تقریبا حاصل کر چکا ہوں مگر اس کے باوجود میں اب بھی یہ افورڈ نہیں کرسکتا کہ دن رات بغیر کسی روک ٹوک کے منہ چلاتا رہوں، میں سادہ پانی بھی پی لوں تو وزن یوں بڑھتاہے جیسے پائے اور کلچے کھا لئے ہوں ، حالانکہ دنیا میں ایسے خوش نصیب بھی ہوتے ہیں جو ڈیڑھ کلو آئس کریم کھانے کے بعد بھی شانت رہتے ہیں ۔ بہر کیف آج صبح ناشتے میں حسب معمول جب میں نے دو عدد آملیٹ بنوائے کہ ڈائٹنگ میں فقط اِس کی اجازت ہے تو یکدم حضرت علامہ اقبا ل کا شعر یاد آیا ’’لازم ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل ، لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے ! ‘ ‘ کیاکہنے علامہ صاحب کے ، ایک شعر میں پوری کتاب کا فلسفہ گھول کر بیان کر دیتے ہیں ، میں نے دل ہی دل میں علامہ کو خراج عقیدت پیش کیا اور بیگم صاحبہ سے فرمائش کی (Feministsسے معذرت کے ساتھ ) کہ ایک چھوٹا سا پراٹھا بھی اگر ساتھ میں ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ، ویسے بھی چھٹی کا دن ہے ، کسی دن تو انسان کو اپنی مرضی کی زندگی جی لینی چاہئے ، اُس نیک بخت نے فورا ً پراٹھا بنا کر سامنے رکھ دیا ، سائز میں اتنا چھوٹا بھی نہیں تھا مگر رزق سامنے ہو تو ایسی باریکیوں میں جانا مکروہ سمجھا جاتا ہے ، بسم اللہ پڑھ کر پہلا لقمہ لیا ، یوں لگا جیسے بہشت میں اتارا گیا ہوں اور من کی مراد پا رہا ہوں ، انسان کی بھی کتنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں۔ اطمینان سے پراٹھے کے ساتھ دو انڈے کھائے ، اخیر میں تھوڑا سا باقی رہنے دیا تاکہ دل کو تسلی رہے کہ پورا پراٹھا نہیں کھایا اور مرشد کو یہی رپورٹ دی جائے ۔ لیکن اس ناشتے کے بعد دماغ پر ایسا نشہ چڑھا جو اب تک اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا ، ممکن ہے آپ میں سے کچھ لوگ سوچ رہے ہوں کہ ایسا کون سا من و سلویٰ میں نے کھا لیا جس کی شان میں پورا کالم لکھ مارا ہے تو ایسے احباب کی خدمت میں عرض ہے مکمل ایک ہفتہ صرف آملیٹ انڈوں کا ناشتہ کرنے والے شخص کو اگر ایک روز پراٹھا کھانے کو ساتھ مل جائے تو اسے ویسی ہی خوشی ہوتی ہے جیسے کسی عورت کو بچہ جننے کے بعد ہوتی ہے (ویسے مجھے اس کا کوئی تجربہ تو نہیں ، سنا یہی ہے )۔
انسان حقیقت میں کِن باتو ں سے خوش ہوجاتا ہے اس اندازہ ہمیں روز مرہ زندگی میں نہیں ہو پاتا ، اپنی مرضی کا کھانے کو مل جائے ، خوبصورت لباس پہننے کو مل جائے ، بچے اچھے اسکول میں پڑھ لکھ جائیں ، ایک مناسب سی گاڑی ہو ، چھوٹا سا گھر ہو ،بندہ تھوڑی بہت دنیا دیکھ لے ۔یہ سب جائز اور مناسب خواہشیں ہیں ، اگر قسمت بری نہ ہو اور انسان زندگی میں کچھ محنت کرلے تو ان خواہشوں کی تکمیل ذرا بھی مشکل نہیں ۔مگر انسان کی حرص اور طمع کی کوئی حد نہیں ، اچھی بھلی شہرت رکھنے والے لوگ جن کے پاس دولت کی ریل پیل بھی ہوتی ہے اور خدا نے انہیں عزت بھی دی ہوتی ، محض زیادہ طاقت کے حصول کی خاطر یا لالچ کے ہاتھوں مجبور ہو کر بنی بنائی عزت خاک میں ملا لیتے ہیں حالانکہ اللہ نے انہیں پہلے ہی اُس سے کہیں زیادہ نوازا ہوتا ہے جس کے وہ اصل میں حقدار ہوتے ہیں ۔ میں چونکہ آج اپنا پسندیدہ ناشتہ کر بیٹھا ہوں اس لئے طبیعت تصوّف کی طرف مائل ہو چلی ہے جس کی وجہ سے میں یہ مفت مشورہ دینے کی پوزیشن میں ہوں کہ اگر اپنی مرضی کا کھانا مل جائے تو اس کتّی دنیا سے اور کیا لینا ہے !مگر میرےعزیزہم وطنو ،یہ کیفیت شام تک برقرار نہیں رہے گی جب مجھ میں پکوڑے کھانے کی خواہش بیدار ہوگی ، مرشدنے تو اِس کی اجازت نہیں دی ، سوچ رہا ہوں اس موقع کے لئے بھی علامہ نے کوئی شعر کہا کہ نہیں !

About Daily City Press

Check Also

talat-hussain

ایک تحیر آمیز واقعہ

طلعت حسین ایک تحیر آمیز واقعہ پاکستان کے نئے آرمی چیف کی نامزدگی کے اہم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *