Home / Columns / دو انتہا پسند طبقے

دو انتہا پسند طبقے

yasir-pirzadaیاسر پیر زادہ
ہمارے لبرل دوستوں میں کئی خوبیاں ہیں، ایک خوبی یہ ہے کہ وہ حالات کا غیرجذباتی تجزیہ کرتے ہیں، کسی بھی معاملے میں رائے دینے سے پہلے عقلی بنیادوں پر تمام دلائل کو تولتے ہیں اور پھر اپنا موقف پیش کرتے ہیں، دوسروں پر اپنی رائے ٹھونستے نہیں، تشدد کی مذمت کرتے ہیں، ہتھیار اٹھانے والوں کی حمایت نہیں کرتے، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں، مذہب اور عقیدے کو انسان کا ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں، دوسروں کے ذاتی معاملات میں ٹانگ نہیں اڑاتے، اپنے ذاتی معاملات میں دخل اندازی بھی پسند نہیں کرتے۔ مگر ان میں کچھ خرابیاں بھی ہیں، مثلا ً جو شخص ان کی طرح آزادخیال نہ ہو اور روشن خیالی کے جام نہ انڈیلے وہ اِن کے لئے قابل قبول نہیں ہوتا، مغرب کی تقریباً اندھی تقلید کرتے ہیں، امریکہ اور یورپ سے مستعار لی ہوئی آزادی نسواں اور شخصی آزادی جیسی اصطلاحات کو من و عن گلے سے لگانے پر یقین رکھتے ہیں، بھارت کی کشمیر پالیسی اور جارحیت کی اُس طرح مذمت نہیں کرتے جیسے پاکستانی پالیسی سازوں کے لتے لیتے ہیں، کسی بھی مسئلے پر مذہب کا حوالہ دینے میں انہیں سُبکی محسوس ہوتی ہے، داڑھی والا اگر درست بات بھی کرے تو اُس کی نہیں سنتے، فرنچ کٹ والے کی بات میں انہیں وزن محسوس ہوتا ہے، شخصی آزادی کے معاملے میں یہ ہم جنس پرستوں کی شادی، بغیر نکاح کے ساتھ رہنا اور ’’بائیولوجیکل مدر‘‘ وغیرہ کے تصورات کے علمدار ہیں کیونکہ یہ تمام مغرب کا فیشن ہے۔ہمارے مذہبی دانشوروں میں بھی کئی خوبیاں ہیں، سب سے بڑی خوبی خدا خوفی ہے، یہ لوگوں کو نیکی کی ترغیب دیتے ہیں برائی سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، اللہ کی عبادت کرتے ہیں، سردیوں کی فجر ہو یا گرمیوں کے روزے ان کا جذبہ ایمانی کمزور نہیں پڑتا، خدا کی خوشنودی انہیں ہر مادی چیز سے پیاری ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات دیتے ہیں، اِن کی خواہش ہے کہ ملک میں خدا کا بنایا ہوا انصاف پر مبنی نظام قائم ہو جس میں امیر غریب سب کے لئے یکساں قانون ہو، حکمران اور عام آدمی میں کوئی فرق نہ ہو، یہ ملک و مذہب کی خاطر کٹ مرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ مگر اِن میں کچھ خرابیا ں بھی ہیں، مثلاً یہ مذہب کو انسان کا ذاتی مسئلہ نہیں سمجھتے، اگر کوئی اِن کے عقیدے کے مطابق زندگی نہیں گزارتا تو یہ اُس پر کفر کا فتویٰ لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے، مذہب کی جو تشریح یہ لوگ کرتے ہیں اُس پر مخالف نقطہ نظر برداشت نہیں کرتے، مذہب کی تعلیمات کے برعکس اِن کے رویے میں سختی ہوتی ہے اور اکثر عبادت گزاری سے اِن میں وہ تکبر بھی پیدا ہو جاتا ہے جس سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، اپنے نظریات کو مسلط کرنے کی خاطر یہ بعض اوقات تشدد کو بھی جائز سمجھتے ہیں، عالمی معاملات میں اِن کا موقف جذباتیت اور نفرت پر مبنی ہوتا ہے، جدید دنیا کے مسائل کے حل کی کوئی تدبیر ان کے پاس نہیں، اجتہاد کا سبق ضرور پڑھاتے ہیں مگر اپنے سوا کسی کو اجتہاد کرنے کے قابل نہیں سمجھتے، پارلیمنٹ اور جمہوریت پر کم ہی یقین رکھتے ہیں اور اسے باطل کا نظام قرار دیتے مگر اس کا عملی متبادل بھی پیش نہیں کر پاتے۔ یہ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی دو انتہاؤں کی ایک دھندلی سی تصویر ہے۔ بطور پاکستانی ہم نے کبھی کفر کے فتوے لگانے والوں کو ووٹ دیئے ہیں اور نہ ہم ایسی سوسائٹی چاہتے ہیں جس میں سولہ سال کی بیٹی ماں کو کہے کہ میں ڈیٹ پر جا رہی ہوں، ہم قدامت پسند مولویوں کو بھی پسند نہیں کرتے جن کے نزدیک بغیر داڑھی والا شخص بے دین ہوتا ہے اور ہم اُن لبرلز کو بھی پسند نہیں کرتے جو اُس معاشرے کو آئیڈئل مانتے ہیں جہاں ہم جنس پرست عوامی مقامات پر بوس و کنار کرتے پائے جاتے ہیں، ہم ٹخنوں سے اونچی شلواریں بھی نہیں پہننا چاہتے اور منی اسکرٹ بھی نہیں پہننا چاہتے، ہمیں برہنہ ساحلوں والا ملک بھی نہیں بننا اور ہمیں وہ ملک بھی نہیں بننا جہاں دو بالغ افراد اپنی مرضی سے کسی جگہ اکٹھے نہیں بیٹھ سکتے۔ ہماری سوسائٹی بنیادی طور پر معتدل مزاج رکھتی ہے، ہم نماز پڑھتے ہیں، قضا بھی کر دیتے ہیں، جمعہ کسی قدر باقاعدگی سے پڑھتے ہیں، عید مناتے ہیں، قربانی کرتے ہیں، داڑھی بھی رکھتے ہیں، شیو بھی کرتے ہیں، کچھ کچھ بے ایمان ہیں، کچھ کچھ ایماندار ہیں، زندگی میں ایک دفعہ حج ضرور کرتے ہیں، آزادانہ اختلاط کو برا سمجھتے ہیں مگر مردوں کے پلے بوائے امیج کو پسند کرتے ہیں، موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں مگر مغرب کی طرز کی ڈانس پارٹیاں عام نہیں ہیں، شادی بیاہ پر مہندی ڈانس البتہ ہر گھرانے میں اب قابل قبول ہے، شخصی آزادی کے قائل ہو چکے ہیں مگر ایسی آزادی جو ہماری اقدار اور روایات میں کسی حد تک پابند ہو، اولاد کو اٹھارہ برس کے بعد دنیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتے بلکہ جب تک ہو سکے اُن کے اخراجات برداشت کرتے ہیں، حتیٰ کہ اُن کی شادی کے بعد بھی، بیٹیوں کی شادیاں ہماری ذمہ داری ہے، اس ضمن میں مغرب کی تقلید ہمیں بالکل قبول نہیں۔ایک طرف حد سے گزرا ہوا لبرل ازم اور دوسری طرف مذہبی جنونیت، دونوں مکاتب فکر کو ہمارے عوام قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، یہاں بظاہر لبرل نظر آنے والے شخص بھی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بیٹی الٹرا ماڈرن ہو جائے اور بظاہر دین سے لگاؤ والا شخص بھی یہ نہیں چاہتا کہ اس پر گانے سننے کی پابندی عائد کر دی جائے۔ جو لوگ ہمیں اپنے افکار اور اعمال میں انتہاؤں کو چھوتے ہوئے نظر آتے ہیں دراصل وہ معاشرے میں اکثریت میں ہیں اور نہ ان کے خیالات کو عوام نے قبولیت بخشی ہے۔ بیس کروڑ لوگوں کا یہ ملک مذہب سے محبت کرنے والا مگر روشن خیال لوگوں کا ملک ہے، اس کا چہرہ ہم نے بگاڑ دیا ہے، دنیا کی نظروں میں اسے خوبصورت بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ خوبصورتی کیسے پیدا کی جاسکتی ہے، اس کا ذکر پھر کبھی۔
http://search.jang.com.pk/print/227699-do-intiha-pasand-tabqay

About Daily City Press

Check Also

جمہوریت کی مضبوطی میں الیکشن کمیشن کا کردار

جمہوریت کی مضبوطی میں الیکشن کمیشن کا کردار 7 دسمبر2016 ءووٹر کا قومی دن تحریر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *