Breaking News
Home / Columns / ضمنی انتخابات کے نتائج

ضمنی انتخابات کے نتائج

suleman-abid

ضمنی انتخابات کے نتائج
مکالمہ
سلمان عابد
salmanabidpk@gmail.com
پاکستان میں ضمنی انتخابات کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو عمومی طور پر ان انتخابات کے نتائج سے حکومتوں کی سیاسی ساکھ اور ان کی مقبولیت کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے ۔ 2018کے عام انتخابات کے نتائج کی روشنی میں تحریک انصاف نے مرکز اور پنجاب میں جو حکومت بنائی تھی اس میں کوئی بڑی برتری حاصل نہ تھی اور ان کو اتحادیوں کی مدد سے حکومت سازی کرنا پڑی تھی ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ضمنی انتخابات میں 11قومی اور25صوبائی نشستوں پر جو ضمنی انتخابات ہوئے اس کی کچھ اہمیت بڑھ گئی تھی ۔اسی طرح ضمنی انتخابات سے قبل ایک تجزیہ یہ پیش کیا جارہا تھا کہ حکومت ابتدا ہی سے بحران اور غیر مقبولیت کا شکار ہے ،اس کا اثر نتائج پر ضرور پڑے گا۔ماضی میں ضمنی انتخابات کے تناظر میں زیادہ تر نشستوں پر حکومتی جماعت ہی کو برتری حاصل ہوتی رہی ہے ۔مرکزو صوبہ کے انتخابات میں جو جماعت اقتدار کا حصہ ہوتی ہے اسی کو زیادہ نشستیں ملتی ہیں ۔ اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں ۔ اول حکومت ، حکومتی مشینری اور انتظامی طاقت کا استعمال ، دوئم ووٹرز کا حزب اختلاف کے مقابلے میں حکومتی جماعت کی حمایت ہوتی ہے ۔کیونکہ عام ووٹر سمجھتا ہے کہ جو بھی امیدوار حکومتی جماعت کا ہوگا وہی ان کے مسائل کو حل کرسکتا ہے اور اگر حزب اختلاف کا امید وار کو ووٹ دیا تو وہ حکومت میںنہ ہونے کی وجہ سے ان کے مسائل کو بہتر طور پر حل نہیں کرسکے گا۔اس لیے ووٹرز کا مجموعی مزاج طاقت کی سیاست کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے ۔حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں چند پہلووں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ عمومی طور پر مرکز اور صوبائی حکومتیں انتخابی نتائج کو اپنے حق میں کرنے کے لیے جائز و ناجائز حربے اختیار کرتی ہیں ۔ لیکن ان حالیہ ضمنی انتخابات میں ایک مثبت پہلو یہ دیکھنے کو ملا اس میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی مداخلت نہ ہونے کے برابر تھی ۔کہیں بھی ایسی شکایت سننے کو نہیں ملی کے مرکزی یا صوبائی حکومت نے کہیں بھی انتظامی مداخلت کی ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ان ضمنی انتخابات پر بڑے اعتراضات عدم شفافیت کے تناظر میں سننے کو نہیں ملے ۔ماضی میں ضمنی انتخابات میں حکومتی مداخلت کے پہلو کافی مضبوط ہوتے تھے ۔اس بار الیکشن کمیشن کے انتظامات اور صوبائی حکومتوں کی مداخلت کے حوالے سے نگرانی کا نظام بھی کافی حد تک شفاف تھا، جس کی ہر سطح پر تعریف کی جانی چاہیے ۔کئی تحریک انصاف سے جڑے امیدواروں نے گلہ کیا کہ حکومت میں ہونے کے باوجود جہاں ہمیں انتظامی مدد نہیں ملی تو بہت سی جگہ پر پرانی بیوروکریسی کا جھکاو بھی ن لیگ کی جانب ہی تھا او را س کی شکایت وزیر اعظم کو بھی دی گئی ، مگر وزیر اعظم عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہے ۔
اگرچہ ان ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت تحریک انصاف کو مجموعی نشستوں کی تعداد میں اپنے سیاسی مخالفین پر سبقت حاصل رہی ہے ، مگر کچھ نشستوں پر جس میں اس نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی وہاں وہ اپنی برتری کو قائم نہیں رکھ سکی ۔اصل سیاسی معرکہ پنجاب ہی تھا جہاں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں پانی پت کی جنگ تھی ۔ 2018 کے انتخابات میں بھی دونوں جماعتوں میں پنجاب کی سطح پر سخت مقابلہ رہا ۔اس بار بھی یہ منظر نامہ رہا ،لیکن قومی اسمبلی کی دو اہم لاہور اور اٹک کی تحریک انصا ف کی اہم نشستوں پر مسلم لیگ ن کو برتری حاصل رہی۔اسی طرح فیصل آباد این اے 103کی نشست پر بھی سخت مقابلے کے بعد مسلم لیگ کو کامیابی ملی۔ اسی طرح این اے 60میں شیخ رشید کے بھتیجے کو بھی سخت مقابلے کے بعد کامیابی ملی۔مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کی کچھ نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے تحریک انصاف پر اپنی سیاسی برتری قائم کی ہے ۔بالخصوص خواجہ سعد رفیق کی جیت سے مسلم لیگ ن کو تحریک انصاف پر سبقت حاصل ہوئی ہے ۔تحریک انصا ف کی بعض نشستوں پر ہار کی وجہ کئی عوامل تھے ۔ ان میں پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم، داخلی جھگڑے اورتقسیم، قیادت کی کمزورانتخابی مہم اور عدم دلچسپی، حکومت کی کارکردگی کے تناظر میں بڑھتی ہوئی تنقیداور حکومتی پالیسیوں میں کی طرح کے تضادات سے ان کے سیاسی مخالفین نے نہ صرف فائدہ اٹھایا بلکہ انتخاب میں کئی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔تحریک انصاف نے حد سے زیادہ جو لوگوں کی توقعات اپنی حکومت سے جو باندھی ہیں اس کا بھی ایک بڑا دباو ہمیں عوامی او رمیڈیا کے محاذ پر نظر آتا تھا ۔ یقینی طور پر ان ضمنی انتخابات کے نتائج نے مشکل میں گھری مسلم لیگ ن کو کافی سہارا دیا ہے اورو ہ یقینی طور پر کہہ سکتی ہے کہ اس نے اپنی مقبولیت کو سیاسی طور پر منوایا ہے ۔ساہیوال میں پی ٹی آئی کے صمصام بخاری کی جیت کی وجہ بھی جہاں رائے حسن نواز کا تعلق بنا وہیں صمصام بخاری کے بزرگوں کے مریدین بھی بنے۔اسی طرح عوامی تحریک ، سنی تحریک، جماعت اہل سنت ، تحریک لبیک سمیت اہل تشیعہ کے ووٹ نے بھی ان کی جیت میں بڑا کردار ادا کیا۔
لاہور کا انتخابی معرکہ مسلم لیگ ن نے ہی بدستور جیتا ۔ تحریک انصاف تمام تر کوششوں کے باوجود بدستور لاہو رمیں اپنی سیاسی برتری قائم نہیں کرسکی او ریہاں نواز شریف کی سیاست بدستور مضبوط ہے ۔ ایک وجہ لاہو رمیں تحریک انصاف کی داخلی تقسیم اور گروپ بندیاں ہیں ۔ہمایوں اختر خان اور دیوان غلام محی الدین کو ٹکٹ دینے پر پارٹی کے پرانے نظریاتی لوگ نالاں بھی تھے اور مہم سے لاتعلق نظر آئے ۔ ولید اقبال کو اس بار بھی ٹکٹ نہ مل سکا اور پارٹی نے نظریاتی ساتھیوں کے مقابلے میں نئے او رغیر نظریاتی لوگوں کو ٹکٹ دے کر خود اپنے لیے مسائل پیدا کیے ۔ اب پارٹی کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی لاہو رکی سیاست ناکام ہوئی ہے او رلاہور کی قیادت میں وسیع پیمانے پر بڑی تبدیلی کے بغیر تحریک انصاف لاہو رکی سیاست میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی ۔ان انتخابات کے نتائج کے بعد تحریک انصاف کا زیادہ جھکاو اپنی اتحادی جماعتوں پر بڑھ گیا ہے او ران ہی کی مدد سے آگے بڑھنا ہوگا۔
تحریک انصاف کو بعض نشستوں پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کے ہارنے میں جیتنے والے امیدواروں او ران کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت کم تھا ۔ خیبر پختونخواہ،جہلم سمیت بعض حلقوں میں ہار کا مارجن چند سو سے چند ہزار ووٹوں کا فرق تھا ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے ورکرز یا جماعت اپنے ووٹ بینک کو زیادہ بہتر انداز میں موبلائز نہیں کرسکے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کافی سرگرم نظر آئی اور اس کا انتخاب لڑنے اور جیتنے سمیت سیاسی کارکنوں کا تجربہ بھی کھل کر سامنے آیا ۔تحریک انصاف کو یہ ماننا ہوگا کہ ان کی ہار کی وجہ اپنی ہی جماعت کے داخلی مسائل او رایک دوسرے کے ساتھ گروپ بندی کے مسائل بنا ہے ۔کیونکہ تحریک انصاف میں تنظیمی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں او ریہ ہی ان کی ہار کی وجہ بھی بنا ہے ۔ اسی طرح تحریک انصا ف میں ٹکٹوں کی تقسیم کی وجہ سے بھی نئی اور پرانے ساتھیوں کے درمیان کئی طرح کے مسائل دیکھنے کو ملے ہیں ۔
عمومی طور پر عام انتخابات کے مقابلے میں ووٹرز کا ٹرن آوٹ عام انتخابات کے مقابلے میں کم ہوتا ہے ۔ یہ منظر ہمیں ان حالیہ ضمنی انتخابات کی صورت میں بھی دیکھنے کو ملا۔یہ ہی وجہ ہے کہ جیتنے والے اور ہارنے والے امیدواروں کے ووٹوں کی حاصل کردہ تعداد عام انتخابات کے مقابلے میں کم دیکھنے کو ملی ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حکومتی جماعت سمیت حزب اختلاف نے ووٹرز کو متحرک اور فعال کرنے کے لیے کوئی بڑی انتخابی مہم نہیں چلائی یا ووٹروں کے عدم دلچسپی کی وجہ سیاسی مایوسی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ لوگ حکومت ہو یا حزب اختلاف ان سب سے نالاں نظر آتے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ سیاسی قیادت ہمارے مسائل سے لاتعلق ہے ۔ایک سبق انتخابات اور دولت کا باہمی تعلق ہے او راس پر سیاسی سطح پر زیادہ غور وفکر کرنا ہوگا کہ سیاست میں سے دولت کی ریل پیل کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے،کیونکہ اس کے خاتمہ کے بغیر مڈل او رغریب قیادت کا آنا ممکن نہیں ۔اب حکومت پر زمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی پر توجہ دے اور جو وعدے اس کے کررکھے ہیں اس پر موثر حکمت عملی بنائے وگرنہ آگے جاکر بھی پارٹی کو اور زیادہ مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ضمنی انتخابات کے نتائج سے ایک ہی سبق ہے کہ خود حکومت ایک بڑے امتحان میں پہلے سے ہی داخل تھی او راب مزید داخل ہوگئی ہے او ریہ اچھی بات ہے کہ ابتدا ہی میں ان نتائج نے تحریک انصاف کو بہت کچھ سیکھنے کا سبق دے دیا ہے ، اگر وہ سیکھ سکے ۔

About Daily City Press

Check Also

umar faroqui

آسام 20: لاکھ افراد ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار

 آسام 20: لاکھ افراد   ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار عمر فاروقی حالیہ ہفتے کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *