Home / Columns / دانش گاہوں میں وائس چانسلرز کی تقرری

دانش گاہوں میں وائس چانسلرز کی تقرری

suleman-abid

دانش گاہوں میں وائس چانسلرز کی تقرری
مکالمہ
سلمان عابد
salmanabidpk@gmail.com
کسی بھی قوم کی ترقی کابنیادی نکتہ اس کی تعلیم او راس کے اعلی میعارات سے جڑا ہوتا ہے ۔کیونکہ اچھی درس گاہوں میں دی جانے والی اچھی تعلیم ترقی کا متبادل نکتہ نظر پیش کرتی ہے او راسی کی بنیاد پر معاشرے مسائل سے بہتر طور پر نمٹنے کی حکمت عملی کو ترتیب دیتے ہیں ۔ لیکن ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں بہت سے ادارے بگاڑ کا شکار ہوئے ان میں ایک ادارہ ہماری تعلیمی درس گاہیں بھی ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے مسائل کا حل بننے کی بجائے پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ بگاڑ بننے کا سبب بنتے ہیں ۔ہماری دانش گاہوں یا جامعات کا ایک مسئلہ ان اداروں میں پہلے سے موجود سیاسی مداخلت کا ہے ۔ اس سیاسی مداخلت کے نتیجے میں میرٹ کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔ اگرچہ حکمران طبقات یا فیصلہ ساز قوتیں دعوی کرتی ہیں کہ ہم تعلیم میں سیاسی مداخلتوں سے پاک نظام لائیں گے ، مگر عملی طور پر حکمران طبقہ اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے میرٹ و قانون کی حکمرانی سے باہر نکل کر من مرضی کے فیصلے کرکے تعلیمی نظام سمیت جامعات کو ترقی کی بجائے پستی کی طرف دکھیلتے ہیں ،جب بھی تعلیمی نظام اور اس سے جڑے فیصلوں میں سیاست کو بالادستی حاصل ہوگی تو اس کا عملی نتیجہ ہمیں جامعات اور سیاست کے مابین گٹھ جوڑ کی صورت میں نظر آتا ہے ۔اعلی تعلیم کے تناظر میں ایک اہم مسئلہ جامعات کی سطح پر وائس چانسلر کی تقرری کا ہے ۔اول تو حکمران طبقات جامعات کی سطح پر مستقل وائس چانسلرز کی تقرری کی بجائے ایڈ ہاک پالیسی کے تحت عبوری وائس چانسلرلگا کر اپنی مرضی کے نتائج کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ دوئم اگر مستقل وائس چانسلر کی تقرری کرنی بھی ہوتو اس کے لیے میرٹ سے ہٹ کر سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر تقرری کی جاتی ہے ۔ اس وقت بھی کئی جامعات میں مستقل وائس چانسلر سے محروم ہیں اور حکومت جان بوجھ کر تاخیری حربے اختیار کرتی ہے ۔پاکستان میں تحریک انصاف کی نئی جمہوری حکومت کے سامنے بھی جامعات کی سطح پر نئے وائس چانسلرز کی تقرری ایک بڑا چیلنج ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت او روزیر اعظم عمران خان با ربار اسی بنیادی نکتہ پر اپنی آواز اٹھاتے رہے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں ادارہ جاتی سطح پر سیاسی مداخلت ختم کرنی ہے اوراس کے ساتھ ساتھ میرٹ پالیسی کو بنیاد بنا کر ہم اداروں کو خود مختاری اور مضبوطی فراہم کریں گے ۔اس وقت حکومت کے سامنے تین اہم جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری کا معاملہ پیش ہے ۔ ان میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا معاملہ سرفہرست ہے ۔یقینی طور پر حکومت کے سامنے ان جامعات میں نئے وائس چانسلرز کی تقرری کے پیچھے اصل جامعات میں گرتے ہوئے اعلی تعلیم کے معیارات کو بہتر بنانا ہونا چاہیے ۔ویسے بھی تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کررکھا ہے کہ وہ وائس چانسلرز کی تقرری میں شفافیت سمیت سیاسی مداخلت کرنے سے گریز کرے گی ۔لیکن حکومت نے نئے وائس چانسلرز کی تقرری کا عمل شروع کررکھا ہے او راس کے لیے سکروٹنی یا سرچ کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں ۔ لیکن ابھی تک حکومت نے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے جو شرائط طے کی ہیں اس کو کسی سے بھی شیئر نہیں کیا گیا ۔یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ بہت سے ایسے امیدواروں کا بھی انتخاب کیا گیا ہے جن پر پہلے سے ہی کرپشن، چربہ سازی جیسے معاملات پر نیب میں تفتیش ہورہی ہے ۔سب سے اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے جو چھ رکنی سرچ کمیٹی تشکیل دی گئی ہیں اس میں کسی بھی سابق وائس چانسلر کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیااور اس پر سابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکڑ عطاالرحمن اورڈاکٹر جاوید لغاری نے بھی سرچ کمیٹی میں تعلیمی ماہرین کی عدم شمولیت پر تنقید کی ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی خیبر پختونخواہ حکومت میں وہاں وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے جو سر چ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس میں سابق وائس چانسلرز موجود تھے ۔اس کمیٹی میں ہائیر ایجوکیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمن، سابق لمز یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر سہیل نقوی ، آئی بی اے کے سربراہ ڈاکٹر عشر ت حسین شامل تھے ۔اس سے قبل وفاقی سطح پر جو سرچ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس میں بھی سابق وائس چانسلرز کو شامل کیا گیا تھا ۔ مگر اب وفاقی حکومت نے جو سر چ کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں وفاقی وزیر تعلیم ہائر ایجوکیشن شفقت محمود، سیکرٹری فیڈرل ایجوکیشن ارشد مرزا، چیرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری ، سابق وزیر ڈاکٹر سانیہ نشتر،سابق بیوروکریٹ جاوید حسن شامل ہیں ۔ان میں سے کوئی بھی فرد ایسا نہیں جو سابق وائس چانسلر یا تعلیمی ادارے کو چلانے کا تجربہ رکھتا ہو۔سوال یہ ہے کہ جو طریقہ کار تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں اختیار کیا اب اس سے تجاوز یا فرار کیونکر اختیار کیا جارہا ہے اور کیونکر کسی بھی سابق وائس چانسلرکو سرچ کمیٹی میں شامل کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی ۔حالانکہ ہمارے پاس کئی سابق ایسے وائس چانسلرز موجود ہیں جو جامعات کی سطح پر اعلی تعلیم کے معیارات کو برقرا ر رکھنے اور جامعہ کو بہتر انداز میں چلانے کا وسیع تجربہ او رنیک نام رکھتے ہیں ۔لیکن حکومت کے سامنے سابق وائس چانسلرز یا تعلیمی ماہرین کی جگہ بیوروکریسی پر زیادہ انحصار کیا گیا ہے ۔ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سرچ کمیٹی نے جن تیس لوگوں کو پہلے شارٹ لسٹ کیا گیا ان کی تقرری کسی بھی جامعہ میں کی جاسکتی ہے ۔حالانکہ تینوں یونیورسٹیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور تینوں جامعات کے لیے علیحدہ بنیادوں پر شارٹ لسٹنگ ہونی چاہیے تھی ۔
اسی طرح یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ جو بھی وائس چانسلر کی نشست کے لیے درخواست دیتا ہے اس کو انٹرویو کا طریقہ کار بھی خاصہ مضحکہ خیز ہے ۔ چند منٹوں میں امیدوار کا انٹرویو کیا جاتا ہے او رایک ہی دن میں کئی درجن افراد کا انٹرویو کرنا خود شفافیت کے نظام کے برعکس ہے ۔حالانکہ دنیا میں جامعات کے لیے وائس چانسلرز کی تقرری سرچ کی مدد سے کی جاتی ہے او رحکومتیں اہم اور قابل افراد کو تلاش کرکے ان کو وائس چانسلر بننے کی دعوت دیتی ہے ۔لیکن حکومت نے جس راز داری سے سارے معاملات پر پروہ ڈالا اس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیزاکیڈمک سٹاف ایوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر محبوب حسین کے بقول سر چ کمیٹی میں متعلقہ تجرے کے ماہرین کو شامل کرنا چاہیے تھا او رموجودہ سرچ کمیٹی پر ہمیں سخت اعتراضات ہیں اور کمیٹی میں تعلیمی اور انتظامی ماہرین دونوں کو شامل کیا جانا چاہیے تھا۔اسی طرح ورکنگ گروپ فار ہائر ایجوکیشن اصلاحات جس میں پندرہ سے زیادہ تعلیمی شعبے میں کام کرنے والی تنظیمیں اور افراد شامل ہیں کہ کوارڈنیٹر مرتضی نور کے بقول سرچ کمیٹی کا مقصد بہتر اور بلاصلاحیت افراد کو بطور وائس چانسلرتقرری کو یقینی بنانا ہے تاکہ شفافیت کا عمل نظر آئے ۔اس گروپ نے وزیر اعظم سمیت وفاقی وزیر اور دیگر اہم افراد کو اپنے تحفظات پر خط بھی لکھے ہیں ۔
حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ وائس چانسلرکی تقرری محض فرد کی تقرری نہیں بلکہ اس کا براہ راست تعلق پوری جامعہ اور تعلیم جیسے سنگین نوعیت کے مسئلہ سے جڑا ہے ۔اس لیے تحریک انصاف کی حکومت کو ماضی کی حکومتوں کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے او ران غلطیوں کا اعادہ نہ کیا جائے جو سابقہ حکومتیں کرتی رہی ہیں ۔کیونکہ اگر وائس چانسلر کی تقرری میرٹ پر نہیں ہوگی تو اسے سیاسی مداخلت ہی کہا جائے گا ۔
سابق وائس چانسلرز کی گرفتاری کا مسئلہ
ان دنوں پنجاب یونیورسٹی اور سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران اور ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری کو نیب نے مختلف الزامات پر تفتیش کے لیے گرفتار کرکے ان کا عدالتی ریمانڈ لیا ہے ۔لیکن جس انداز سے سابق وائس چانسلرز کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا وہ واقعی قابل مذمت ہے ۔اسی طرح ان وائس چانسلر کے علاوہ ان ہی مقدمات میں دیگر بزرگ پروفیسرز کی بھی گرفتاری عمل میں لائی گئی او ران کو بھی ہتھکڑیاں لگائی گئیں ۔یقینی طور پر انصاف کے تمام تقاضے پورے ہونے چاہیے او رجس نے بھی قانون اور اختیارات سے تجاوز کیا اس کی گرفت ہونی چاہیے۔ لیکن ان پروفیسرز کو ہتھکڑیاں لگائے بغیر بھی عدالت میں پیش کیا جاسکتا تھا اور ان سے مہذہب انداز میں تفتیش ہوسکتی تھی ۔لیکن جو انداز اختیار کیا گیا اس سے یقینی طور پر ایک منفی تاثر ابھراہے ۔ اچھی بات ہے کہ اس واقعہ پر چیف جسٹس سمیت چیرمین نیب نے بھی نوٹس لیا ہے ، لیکن مسئلہ محض نوٹس تک نہیں ہونا چاہیے کہ بلکہ اس میں جو بھی ذمہ دار ہیں ان کی گرفت کی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا انداز سامنے نہ آئے ۔

About Daily City Press

Check Also

Ahmad bilal mehboob

پارلیمنٹ کے ابتدائی 6 ماہ

  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اپنے ابتدائی 6 ماہ مکمل کرنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *