Home / Columns / مہذب سیاسی کلچر کے فروغ کی اشد ضرورت

مہذب سیاسی کلچر کے فروغ کی اشد ضرورت

مہذب سیاسی کلچر کے فروغ کی اشد ضرورت
تحریر:بیگم صفیہ اسحاق
حکومت ،اپوزیشن سب یہ بات جانتے ہیں کہ تصادم کی سیاست ملک کے لئے سود مند نہیں‘ مفاہمت کی سیاست سے ہی ملک میں بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں‘ دہشتگردی‘ انتہا پسندی‘ بیروزگاری اور مہنگائی کے اس دور میں کوئی بھی مہذب شخص کسی شہر کو بند کرنے کے فیصلے کی حمایت نہیں کر سکتا‘ تحریک انصاف کا اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان انتہائی مضحکہ خیز تھا‘ قانون کی عملداری سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ ملک میں ایک مہذب سیاسی کلچر ہو جو امداد باہمی کی سطح پر قائم ہو۔ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ اپنے قول و فعل سے مہذب سیاسی کلچر کو فروغ دیں۔ میثاق جمہوریت مفاہمت کی سیاست تھی۔ مفاہمت کی سیاست کی وجہ سے ہی 18ویں ترمیم منظور ہوئی۔ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ منظور کیا گیا۔ سیاست میں برداشت وقت کی ضرورت ہے، جمہوریت اسی صورت میں مستحکم ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت نے خود قربانیاں دی ہیں۔ اپوزیشن نے پانامہ پیپرز کے معاملے پر ایک بل جمع کرا رکھا ہے اس کو منظور کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ اپوزیشن کسی بھی حکومت کی خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے ۔ جس ملک میں عدالتیں مضبوط ہوں وہاں جمہوریت اور سیاست بھی مضبوط ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتیں سب مل کر عزم کریں کہ آئین‘ قانون اور پارلیمنٹ کی حکمرانی قائم کریں گے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ جمہوریت اقدار کا نام ہے۔ جب تک جمہوری اقدار نہیں ہوں گی کوئی جمہوریت نہیں چل سکتی۔ وفاق کو کمزور کرنے کی بجائے مضبوط بنانا ہوگا۔ تحریک انصاف کااسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان انتہائی مضحکہ خیز تھا۔ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ اپنے حامیوں اور مشینری لے کر اسلام آباد پر یلغار کرنے آرہا تھا۔ ا گر ایسی غلطی ماضی میں کسی نے کی ہے تو وہ بھی غلط تھا اور آج بھی ہم اس کو غلط کہتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کو غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شہر بند کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے جس کی کوئی بھی اجازت نہیں دے سکتا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی ہمارے سامنے ہے اور اب بھی معاملہ عدالت میں ہے۔ پارلیمنٹ میں حکومت و اپوزیشن کو پارلیمانی فیصلے کرنے چاہئیں اور جو قانونی پہلو ہیں ان کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ حکومت و اپوزیشن کو چاہیے کے اکٹھے ہوکر آگے چلیں اور ملکی ترقی کے لئے کام کریں۔ سیاسی کارکنوں کو اپنے پرامن سیاسی پروگرام منعقد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ پانامہ پیپرز کا معاملہ چونکہ اب عدالت میں ہے اس لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔ جمہوریت اور آمریت میں بڑا فرق یہی ہے کہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ان کی پالیسی واضح ہوتی ہے۔ آئین اور پارلیمنٹ کی اگر ہم بالادستی کی بات کرتے ہیں تو اس بالا دستی کو یقینی بھی بنانا ہوگا۔ جمہوریت میں احتجاج کے حق کو سلب نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ احتجاج بھی اپنی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ ہمیں آج اپنے معاشرے میں برداشت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یہ کوشش کرنی چاہیے کہ مخالف کی آواز کو بھی برداشت کیا جائے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ جس طریقے سے لشکر لے کر وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے آرہے تھے وہ ان کے حلف کی بھی خلاف ورزی ہے۔ معلوم نہیں عمران خان نے کس چیز کا جشن منایا ہے۔ تحریک انصاف نے پچھلے دھرنے کے دوران حکومت کویقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ریڈ زون عبور نہیں کرے گی لیکن اپنی یقین دہانی کی اس نے پاسداری نہیں کی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں 90ءوالی سیاست کو پھر زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہر سیاسی اور مذہبی جماعت کو جلسے جلوس کی آزادی ہونی چاہیے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی ایک اپنے حق کے لئے دوسروں کے حق چھین لے۔ موجودہ حکومت کا ریکارڈ بہت صاف ہے۔ 126 دن دھرنا دیا گیا لیکن پولیس نے کسی پر ایک شیل بھی نہیں پھینکا۔ قانون اور آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کا کہناہے کہ گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کی اقتصادی صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی ہے اور اسے عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ افراط زر کی شرح میں مسلسل کمی کا رجحان ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بات چینی سرمایہ کارکمپنیوں کے کنسورشیم کے وفد سے ایوان وزیراعظم میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے وفد کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ مضبوط ہوتی ہوئی سدا بہار دوستی اور تعاون پر چین کی قیادت اور برادر عوام کے شکر گذار ہیں۔ سی پیک ایک گیم چینجر ہے جو خطے کے اربوں لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اقتصادی منظر نامہ گذشتہ تین برسوں میں یکسر بدل گیا ہے جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے۔ ”سٹینڈرڈ اینڈ پوورز“ نے بھی پاکستان کی رینکنگ ”منفی بی“ سے ”بی“ کر دی ہے۔ پاکستان ”ڈوئنگ بزنس 2017ءرپورٹ“ میں اس سال بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 10 سرکردہ ممالک میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افراط زر کی شرح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے بھی افراط زر میں کمی آئی ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اب 24 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ہماری سرمایہ کاری پالیسی غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے سازگار کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لئے جامع ڈھانچہ فراہم کرنے کے لئے وضع کی گئی ہے۔ پاکستان کے پالیسی رجحانات لبرلائزیشن، ڈی ریگولیشن، پرائیویٹائزیشن کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور اس ضمن میں سہولیات کی فراہمی کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ خصوصی اقتصادی زونز کا قانون وضع کیا گیا ہے تاکہ براہ راست سرمایہ کاری کے حصول کے لئے مسابقت کے عالمی چیلنجوں سے نمٹا جا سکے۔ وزیراعظم نے خزانہ، پٹرولیم و قدرتی وسائل کی وزارتوں، سیکریٹری پانی و بجلی اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ چینی وفد کی ملاقاتوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چینی وفد کے ارکان کو پاکستان کے انفراسٹرکچر کی ترقی، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کے بارے میں مختلف وزارتوں کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ کے تناظر میں وفد کا دورہ بہت مفید ثابت ہوگا۔ اس موقع پر وفد کے ارکان نے اقتصادی بحالی اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے وزیراعظم کے وژن کو سراہا۔ وفد نے کہا کہ پاکستان براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو جذب اور اس سے استفادہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار اور اس کی اہلیت رکھتا ہے۔ وفد نے وزیراعظم کو بتایا کہ وہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور توانائی کے شعبوں پر خصوصی توجہ کے حامل وزیراعظم کے وژن کی بناءپر پاکستان کے لئے 3 ارب ڈالر سرمایہ کاری فنڈ لا رہے ہیں۔ چینی وفد نے حکومت پاکستان کی اجازت کے بعد پاکستان میں ایک نئی ایئر لائن شروع کرنے کا امکان تلاش کرنے کے اپنے ارادہ کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ وہ انفراسٹرکچر، بجلی، ہوا بازی اور ٹورازم کے شعبوں میں سرمایہ ہائے کاری کی سرگرمی سے پیروی کر رہا ہے۔ ہم وزیراعظم محمد نواز شریف کے وژن کو سراہتے ہیں جو اس امر کا حامل ہے کہ اقتصادی خوشحالی بنیادی ڈھانچہ پر مبنی مواصلاتی رابطوں اور توانائی کے شعبہ میں خود انحصاری سے منسلک ہے۔ موجودہ حکومت نے وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور توانائی میں خودانحصاری کے حصول میں بہت زیادہ کام کیا ہے۔ موجودہ حکومت آزادانہ سرمایہ کاری نظام کی حامل ہے جو مثالی اور سرمایہ کاری دوست ماحول پیش کرتی ہے جس کے لئے وزیراعظم نواز شریف کا قائدانہ کردار نہایت قابل تحسین ہے۔

About Daily City Press

Check Also

Ahmad bilal mehboob

پارلیمنٹ کے ابتدائی 6 ماہ

  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اپنے ابتدائی 6 ماہ مکمل کرنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *