Home / Columns / یوم تاسیس، بلاول بھٹو کے ساتھ ساتھ!
saeed-azhar

یوم تاسیس، بلاول بھٹو کے ساتھ ساتھ!

saeed-azharمحمد سعید اظہر
یوم تاسیس، بلاول بھٹو کے ساتھ ساتھ!

30 نومبر 2016ء سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریبات کا آغاز ہوا، آج اس ہفتہ تقریبات کا شاید اختتام ہو جائے گا۔ پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس، 30؍ نومبر 1967ء سے لے کر دسمبر 2016ء تک 49واں برس ہونے کو ہے، تاریخ کے اوراق اس کی داستان سرفروشی اور خونچکاں عوامی جدوجہد کی روپہلی کرنوں سے تابندہ و تاباں ہیں۔ 30؍ نومبر 1967ء کے اس یوم تاسیس کی صدائے بازگشت ذہن پر دستک دے رہی ہے، تھوڑی دیر کے لئے اس کہانی کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں! پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ یوم تاسیس 30؍ نومبر سے شروع ہو کر یکم دسمبر 1967ء تک جاری رہا۔ صوبہ پنجاب میں دفعہ 144کے نفاذ کی وجہ سے اس کا انعقاد ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کی رہائش گاہ، -4کے گلبرگ پر ہوا، ڈاکٹر صاحب نے اس تاریخی موقع پر ہر طرح کے خطرات مول لئے اور ہر طرح کے حوصلہ افزا محرکات کی پاسبانی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی! 30؍ نومبر 1967ء کی صبح جب اس تاسیسی کنونشن میں شریک وفود کا ہر فرد اپنا نام رجسٹر کروا چکا تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی آمد ہوئی، انہوں نے کرسی صدارت سنبھالی، مولوی محمد سعید کی تلاوت کلام پاک سے اس تاسیسی اجلاس کا آغاز ہوا جبکہ اسلم گورداسپوری اور ڈاکٹر حلیم رضا نے اس موقع پر اپنی نظمیں پڑھیں، ملک حامد سرفراز نے ان مشکل حالات کے پس منظر سے آگاہ کیا جس میں یہ پارٹی کنونشن منعقد کیا جا رہا تھا، انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کی فراخ حوصلگی پر شکریہ اور خراج تحسین پیش کیا، کنونشن کے فیصلے کی رو سے ملک اسلم حیات صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو کو خطبہ استقبالیہ دیا۔ ملک حامد سرفراز نے، یوم تاسیس کی اس یادگار تقریب میں شریک وفود کی متعدد نمایاں شخصیات کا تعارف بھی کرایا، میر رسول بخش تالپور، شیخ محمد رشید، مسٹر جے اے رحیم، بیگم آباد احمد خان، مسٹر پیر بخش بھٹو، مسٹر اے وی کپڑ، مسٹر نثار احمد خان، مسٹر معراج محمد خان، مسٹر خورشید حسن میر، مسٹر عبدالرزاق سومرو، مولوی محمد یحییٰ، میاں محمد اسلم، مسٹر مرتضیٰ کھر، مسٹر محمد امان اللہ خان، راجہ منور احمد، ملک نوید احمد اور متعدد دوسرے حضرات کے اسمائے گرامی ان میں شامل ہیں، موقع محل کی مناسبت سے چند ایک وفود نے کنونشن میں مختصراً تقاریر بھی کیں، بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے صدارتی اظہار کے لئے جب اسٹیج سنبھالا، شرکا کے پُر جوش نعروں سے کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ یوم تاسیس، 30نومبر 1967ء کی اس تاریخی صبح، بانی چیئرمین کے اس اولین اور بنیادی خطاب کا جامع خلاصہ یہ تھا! ’’جب میں اپنے قومی وجود کے گزرے بیس برسوں پر نظر ڈالتا ہوں، مجھے نظر آتا ہے کہ پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، مسائل پر مسائل کا انبار، مایوسی اپنی آخری انتہائوں کو چھونے لگی جبکہ اس سارے بحران کے حل کی کوئی منظم تدبیر دکھائی نہیں دیتی، کیا مسلسل غیریقینی صورتحال کا شکار رہنا ہماری تقدیر بن چکا ہے؟ ہمیں دوسرے ممالک کی طرف دیکھنا چاہئے، انہیں بہت سے بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑا جنہیں وہ حل کرنے میں بھی کامیاب رہے جس کے بعد ان کی زندگیاں ایک طے شدہ راستے پر چل پڑیں، ہم بدقسمتی سے آج بھی وہیں ہیں جہاں پہلے روز تھے، ہمارے بنیادی مسائل بھی وہی ہیں ہم ایک حالت تعطل کا شکار ہیں، میرے خیال میں اس کی اصولی وجہ ایک ہی ہے، ملک و قوم کے معاملات و سوالات کے لئے پاکستانی عوام سے رجوع نہیں کیا گیا، یہی اول و آخر مشکل ہے جبکہ عوام ہی وہ قوت ہیں جن کی تائید و حمایت سے ہم اپنی اس حالت تعطل سے نجات پا سکتے ہیں!‘‘ کنونشن کا دوسرا اجلاس، تلاوت کلام پاک کی شروعات سے ساڑھے تین بجے منعقد ہوا، ذوالفقار علی بھٹو نے جس کی صدارت کی، چیئرمین کی اجازت سے اس موقع پر چار کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں۔ (1) اسٹیئرنگ کمیٹی (2) آئینی کمیٹی (3) ریزولیوشن کمیٹی (4) ڈرافٹ ڈیکلریشن کمیٹی!چاروں کمیٹیوں کے صدر ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے، نمایاں حضرات میں ڈاکٹر مبشر حسن، ملک اسلم حیات، عبدالرزاق سومرو، الٰہی بخش سومرو، میاں محمد اسلم، جے اے رحیم، خورشید حسن میرؔ، حامد سرفراز، اے وی کپڑ، رسول بخش تالپور، ملک حامد سرفراز، شیخ محمد رشید، بیگم آباد احمد خان، خورشید حسن میر، شوکت خان جونیجو، مرتضیٰ کھر، حق نواز گنڈا پور، فتح محمد جاگیردار، احمد دہلوی اور دیگر شامل تھے۔ یکم دسمبر 1967ء کو پارٹی کا تیسرا اور چوتھا اجلاس تھا اور پھر شرکائے کنونشنز کی اجتماعی متفقہ رائے اور فیصلے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے ایک نئی قومی سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے، آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو شہید کے فرزند ارجمند ہوتے ہیں،اسی قومی سیاسی جماعت کی قیادت کا علم سنبھالا، قریب قریب صرف دو برس گزرنے پر ہی پارٹی کے مجموعی سیاسی جسد کو ناامیدی، سستی و کاہلی اور اندرونی سازشوں کے گردابوں سے نکالنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے تو پوری طرح ناکام بھی ہرگز نہیں کہے جا سکتے، پورا ملک پاکستان کے سب سے اہم اور سب سے بنیادی سیاسی جسد کو ایک نئی بیداری کی لہروں کے مدوجزر میں انگڑائیاں لیتے اور ابھرتے محسوس کر رہا ہے، بلاول بھٹو وقت کے ساتھ ساتھ میچور لب و لہجے میں ڈھل رہے ہیں، وراثتی ذہانت اور بصیرت کے نایاب ذخیروں کا وارث اپنی گفتگو، اپروچ اور تجزیاتی معیارات میں غیر معمولی فرد کی ارتقائی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے، اس کی تقاریر میں عوامی تعلق کی شدت میں تو کوئی کمی نہیں، ہاں عوامی اظہار میں ابھی روانی اور الفاظ کا مطلوبہ بیانیہ درکار ہے، ظاہر ہے 29,28برس کا بلاول جس نے پاکستان کی سب سے بڑی قومی سیاسی جماعت کی قیادت سنبھالتے ہوئے کسی کمپلیکس کے مراحل سے خود کو سو فیصد محفوظ رکھا، وہ عوامی خطاب کی ان خلائوں کو بھرنے میں بھی سرخرو ہو گا، ٹریک ریکارڈ سے بھی یہی نتیجہ سامنے آتا ہے! پاکستان پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے اس مقصد کے لئے عوام کو متحرک، دانشوروں کو آگاہ، ارباب اقتدار کو خبردار کرنے کی ایک مثلث سی بنا لی ہے، لاہور کے ایک مقامی کلب میں انہوں نے ایڈیٹروں، کالم نگاروں، تجزیہ کاروں اور اینکر پرسنز سے ملاقات کی، مجیب الرحمٰن شامی، سہیل وڑائچ، نجم سیٹھی، جگنو محسن، امتیاز عالم، عمر شامی، منو بھائی سمیت متعدد دیگر اہل فکر و نظر موجود تھے، چیئرمین کے میڈیا منیجروں نے کم از کم، اب کے تو بڑی فنی دانش مندی کا ثبوت دیا۔ چیئرمین کا سب سے مکالمہ کروایا، ایسے ہی ایک مکالمے میں چیئرمین کو عرض کیا گیا ’’2013کے قومی انتخابات کے نتائج آتے ہی پورے ملک میں پارٹی کے ناقدوں کی صدائیں گونجیں “Party is over” اور یہ کہ ’’آصف علی زرداری نے پارٹی تباہ کر دی‘‘، ہم نے ان دونوں ’’جھوٹوں‘‘ کو گردن سے پکڑ کے مروڑ دیا، دلائل سے ثابت کیا:”Party is Not Over”اور ’’آصف علی زرداری کے امیج کو داغدار کرنا وہ تاریخ ہے جسے 30؍ نومبر 1967ء کو ہی لکھنا شروع کر دیا گیا تھا اس کا ایک ہی کلیہ تھا اور ہے ’’پارٹی کے ہر مرکزی قائد کی کردار کشی کرو‘‘ بلاول بھٹو نے نہایت تحمل و ادب سے یہ سب سنا جانے کیا سوال ہوا جس پر انہوں نے جگنو محسن سے کہا ’’گڑھی خدا بخش سے لیاقت باغ تک، سب کے پاس جائوں گا، سب کو ساتھ لوں گا‘‘ نشست جذباتیت اور مقصدیت کے بھرپور امتزاج سے ہمکنار رہی!

About Daily City Press

Check Also

جمہوریت کی مضبوطی میں الیکشن کمیشن کا کردار

جمہوریت کی مضبوطی میں الیکشن کمیشن کا کردار 7 دسمبر2016 ءووٹر کا قومی دن تحریر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *