Breaking News
Home / Columns / قومی سلامتی کا مسئلہ اور صحافت کا کردار

قومی سلامتی کا مسئلہ اور صحافت کا کردار

Moazzam Khan

معظم خان
قومی سلامتی کا مسئلہ اور صحافت کا کردار
قومی سلامتی ایک ایسا مسئلہ بن گیا ہے جس میں دنیا کا کوئی بھی ملک کمپرومائز نہیں کرسکتا۔تمام ممالک اس مسئلے کے اوپر ایک بات بھی برداشت نہیں کر رہے۔آج کی اس گلوبل ویلج میں دنیا کے تمام ممالک اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں خواہ اسکی جو بھی قیمت ہو۔وہ اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔تمام ممالک نے قومی سلامتی کے مسئلے پہ ایک لائن کھینچ دی ہے جس کو جو بھی کراس کرے گا اس کا انجام جنگ کی صورت ہوگی۔ایسی بہت سی مثالیں ہیں دنیا میں جہاں ان افراد کے خلاف کاروائی ہوئی ہے جو قومی سلامتی کے لیئے خطرہ تھے۔حال ہی میں ایسے کچھ واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے بخوبی یہ اندازہ لگاناآسان ہے کہ کس طرح سے لوگوں کے خلاف کاروائی کی گئی اور یہ باور کروایا گیا کہ قومی سلامتی کے خلاف بات کرنے کا انجام کتنا خطرناک ہوگا۔تمام ممالک بلا امتیاز کاروائی کر رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف جو زندگی کے جس بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں۔میڈیا ارکان ،صحافی حضرات اور دوسرے بہت سے یاایسے لوگ جو کہ مملکت کی پالیسیوں پہ تنقید کرتے ہوں،ان میں یہ لوگ سب سے زیادہ اہمیت ہیں،میڈیا کو ریاست کا چھٹا ستون کہا جاتا ہے۔پاکستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں ریاست کے خلاف تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔وکی لیکس کے بانی جولین اسانج اور سعودی صحافی جمال خشوگی کا انجام سب کے سامنے ہے اور اس بات کلا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جو بھی رزیاست کے خلاف بات کرے گا اسکا انجام کیا ہوگا۔اس بات کا پتہ لگانے کے لیئے کہ ان دونوں لوگوں کے ساتھ کیا ہوا میں ایک ایک کر کے تفصیل بتانا چاہتا ہوں گا۔سب سے پہلے جمال خشوگی کی مثال لیتے ہیں۔جمال خشوگی ایک سعودی موصوف تھے جو ایک امریکی اخبار میں بطور کالم نویس کام کر رہے تھے اور سعودی عرب کے شاہی خاندان پہ تنقید کرتے رہتے تھے اپنے کالم کے ذریعے۔جمال خشوگی پچھلے سال دو اکتوبر کو استنبول کے کونسلیٹ میں مارے گئے تھے۔
جمال خشوگی سعودی فرمانروار اور ولی عہد محمد بن سلمان پہ بہت زیادہ تنقید کرتے تھے۔جمال خشوگی سعودی عرب کی یمن میں فوجی کاروائی کے بھی سخت خلاف تھے۔جس طریقے سے اور بہمانہ طریقے سے ان کا قتل کیا گیا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔2اکتوبر2018سے لیکر اب تک اسکی لاش بھی نہیں ملی۔سعودی شاہی خاندان نے قتل کی وجوھات سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور حادثاتی قتل قرار دیا۔اس قتل کے بعد جب دنیا نے سعودی عرب پر پریشر ڈالنا شروع کیا تو سعودی وزیر خارجہ نے بہت ہی صاف الفاظ میں یہ کہا کہ جمال خشوگی سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیئے خطرہ بن چکا تھا۔سعودی وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں قومی سلامتی کا پہلو بتادیا۔حیرت انگیز طور پر انسانی حقوق کے عالمی علمبدار اس قتل کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکے سوائے بیانات دینے کے۔کسی ملک نے بھی سخت اقدام اٹھانے کی ہمت نہیں کی۔اب آئیں دوسرے کیس کی بات کرتے ہے جو وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کا ہے۔
2010میں ویک لیکس نے قومی سلامتی سے متعلقہ کلاسیفائڈ دستاویزات لیک کردیں تھی جس سے دنیا یمں تہلکہ مچ گیا تھا۔وکی لیکس نے امریکہ ،یورپ ،خلیجی ممالک،پاکستان اور روس سے متعلق دستاویزات شائع کی تھی جس کی وجہ سے بہت سے ممالک نے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا اور وکی لیکس کے بانی کو سزا دلوانے کا اعلان کیا۔جولین اسانج نے عالمی دباﺅ کی پرواہ کیئے بغیر مزید دستاویزات شائع کرنے کا اعلان کیا۔اس وقت ان ممالک نے باور کروایا کہ یہ سب کچھ انکی قومی سلامتی کے منافی قرار دیا۔جس کے بعد کسی بھی ملک نے جولین اسانج کو سیاسی پناہ دینے سے انکار کیا جس کے بعد جولین اسانج نے ایکوڈور کے سفارت جو کہ لندن میں ہے سیاسی پناہ لے لی۔امریکہ نے بہت زور لگایا کے جولین اسانج کو سزا دلواسکے لیکن ابتداء میں ناکام رہا۔کچھ مہینے پہلے ایکوڈور نے سیاسی پناہ ختم کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد جولین اسانج کو گرفتار کرلیا گیا اور برطانیہ کی عدالت نے قید کی سزا سنادی۔دنیا کے مختلف ممالک نے سزا کا خیر مقدم کیا۔کسی نے بھی سزا کے خلاف بات نہیں کی جس سے یہ بات بڑی واقع ہوگئی کہ جو بھی صحافی ،یا کوئی اور شخص قومی سلامتی کے منافی بات کرے گا اس کا انجام بھیانک ہوگا۔جب دنیاکا کوئی بھی ملک قومی سلامتی کے خلاف بات کرنے والے کو سزا دیتا ہے تو پھر آخر پاکستان میں کیوں شور مچایا جاتا ہے۔یہاں کچھ صحافی حضرات ملکی سلامتی کے خلاف باتیں کرتے ہیں جس کا دشمن ممالک فائدہ اٹھاتے ہیں۔میڈیا کو چاہیے کہ وہ صحافی حضرات کے لیئے ایک کوڈ آف کنڈکٹ بنائے اور اس میں یہ چیز باور کروائے کے قومی سلامتی کے منافی کوئی بھی چیز برداشت نہیں کی جائے گی۔پاکستان میں بھی جو کوئی حکومت اور قومی سلامتی کے خلاف بات کرے گا اسکے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔آرمی اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف پروپیگینڈا نہیں کرنا چاہیے اور ہم سب کو پاکستان کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنا چلاہیے۔

About Daily City Press

Check Also

umar faroqui

آسام 20: لاکھ افراد ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار

 آسام 20: لاکھ افراد   ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار عمر فاروقی حالیہ ہفتے کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *