Home / Columns / اب خواب نہیں تعبیریں چاہئیں

اب خواب نہیں تعبیریں چاہئیں

mudassar butt logo

اب خواب نہیں تعبیریں چاہئیں
آواز پنجاب
مدثر اقبال بٹ
میرے مزاج کے لوگوں نے خواب دیکھتے عمر گزار دی۔ ایک کے بعد ایک خواب، اور پھر اُسکی تعبیر کا تعاقب۔بس یہی بے کار کی سعی عمر کا حاصل ہے اور کچھ بھی نہیں۔آنکھ کھلی تو پاکستان بن چکا تھا،برصغیر کے مسلمانوں کے اس خواب کی تعبیر کی حقیقی تعمیر اور تکمیل باقی تھی۔ہم نے ہر اس آواز پر لبیک کہا جس نے اس خواب سے محبت کا دعویٰ کیا۔ہم چلتے گئے اور یہ بھی نہیں سوچا کہ کہیں سفر رائیگاں ہواتو کیا ہوگا؟ہم نے اس سفر میں بہت خواب دیکھے، کبھی روٹی کپڑا اور مکان کا سوشلزم میں لپٹا ہواخواب اور کبھی مذہبی فضاﺅں میں اسلامی ریاست کا خواب۔ پھر بات خوشحال پاکستان تک پہنچی اور ہم لوگ ایک بار پھر نئی منزلوں کی تلاش میں چل نکلے۔ سفرطویل تھا ، ہم نے ہمت نہیں ہاری لیکن راستے میں خبر ہوئی کہ میر ِِ کاررواں خود ہی درست سمت کا تعین نہیں کر سکا تھا۔ ہم نے پھر ہمت باندھی اور ایک نئی جانب چل نکلے۔ خواب کے جھانسے میں سراب سے واسطہ پڑتا رہا اور ہم چلتے رہے۔ پھر سب سے پہلے پاکستان کا موڑ آیا جہاں سے ہوتے ہوئے ہم ایک بار پھر پُرانے راہنماﺅں کی باتوں میں آئے اور آنکھوں میں چبھی خوابوں کی کِرچیاں پھر سے سمیٹ کر نئے پاکستان میں آن پہنچے۔ آج جب میں پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو یقین مانیں حیرت اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ پاکستان وہ ریاست تھا جسے قدرت نے اپنی ہر نعمت سے نوازا تھا۔ یہاں کے موسم اور زرخیز زمین ایسے تھے جوکسی بھی ریاست کا وہ قیمت سرمایہ ہو سکتا تھا،ایساسرمایہ جو اسے ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لا کھڑا کرے۔ لیکن بدنصیبی ان موسموں کے تعاقب میں رہی اور روز اول سے اس زرخیز دھرتی کیساتھ وہ سلوک ہوا جس کا نتیجہ آج بنجر زمینوں کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے دریا بیچ دیئے گئے، ڈیم بنانے کے فیصلے سیاسی عاقبت نا اندیشوں کی رعونت کا شکار ہوئے اور ہمارا کسان اپنی بنجر ہوتی زرخیز زمین پر ایڑھیاں رگڑتافاقوں تک آن پہنچا۔ یہ ہمارے فیصلے ہی تھے جو کپاس کی قیمتی فصل کا بیڑا غرق کر گئے، وہ زمین جو سفید سونا اُگلتی تھی وہاں المیے ہماری حکومتوں کے ترجمان بن کر ہمارا ہی تماشہ کرنے لگے۔ یہ دھرتی محنت کش جوانوں کی دھرتی تھی۔ یہاں کے جوانوں کے ہاتھ لوہے پر پڑتے تو وہ پگھل جاتا۔ یہاں صنعتیں آباد تھیں، مزدور کی محنت ان صنعتوں کا ایندھن تھی۔ پھر ریاست پر قابض مافیا نے صنعتوں کی رگیں کاٹ دیں، مزدور بے کار ہوا اور گھر کا چولہا ٹھنڈا پڑنے لگا۔ یہاں کے سرکاری ادار ے بھی کبھی مثالی ہوا کرتے تھے۔ پھر کج خیال سیاست دانوں کی ایسی نظرِ بد پڑی کہ یہ ادارے اپنا بوجھ بھی اُٹھانے میں ناکام ہو نے لگے۔ قومی ائیر لائن، سٹیل مل، ریلوے، پی ٹی سی ایل اور ان جیسے درجنوں ادارے جو پاکستان کی پہچان ہوا کرتے تھے کھوکھلے ہو کر رہ گئے۔ ان میں سے کچھ اثاثے بیچ دئیے گئے اور کچھ بیچ دئیے جاتے کہ عدالت ِ عظمیٰ آڑے آگئی۔
یہ ریاست جب دنیا کے نقشے پر اُبھری تو اقوامِ عالم اسے بڑے رشک سے دیکھتیں۔ وہ پاکستان ہی تھا جس نے لاہور میں اسلامی ممالک کے سربراہان کو اکٹھا کیا اور اسلامک بلاک بنانے کی طرف عملی قدم اُٹھایا۔ تب یہ ریاست عملی طور پر اسلامی ممالک کی قیادت کر رہی تھی۔ ہم پہلی صف میں نہیں بلکہ امام کی جگہ پر تھے۔دنیا ہماری رائے کا احترام کرتی تھی، اسلامی ممالک اپنے مسائل کے حل کیلئے ہماری طرف دیکھتے تھے۔ ہماری معیشت ایسی نہیں تھی کہ ہمیں جھولی پھیلا کر در در بھیک مانگنا پڑتی۔ لیکن بد قسمتی کہ ہم نے خواب دیکھنا نہیں چھوڑے۔ ہمیں جس نے خواب دکھائے ، ہم اُسی کے پیچھے ہو لیے۔ یہ بھی نہ سوچا کہ خوابوں کے تعاقب میں بہت دور نکل گئے تو کہیں گھر کا رستہ ہی نہ بھول
بیٹھیں۔پھر ہم رستہ بھولے بھی اور افغان جہاد کی بھول بھلیوں میں الجھے گھر کا رستہ تلاش کر رہے ہیں۔
آج انہی اُلجھے ہوئے خوابوں کی راکھ کُرید رہا ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ قائد کے بعد ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے۔ ہم نے کبھی آمریت میں اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کی اور کبھی جمہوریت کے سائے میں بیٹھ کر اپنی سوچ میں پنپتے خوابوں کو تعبیروں میں ڈھالنا چاہا۔ ہم ہر حال میں ناکام رہے۔ ہمیں کبھی خوابوں کی تعبیریں نہیں ملیں۔ ان تعبیروں کے جھانسے میں ہمیشہ دھوکہ ملا جو اب سانس کی پھانس بنا ہوا ہے۔ راکھ ہوتے خوابوں کو کُریدتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ جو خواب ہمیں تبدیلی کے نام پر دکھایا گیا ہے اس کی تعبیر تو ابھی سے نا ممکن نظر آتی ہے۔ وہ سب باتیں دعووں اور نعروں تک محدود تھیں جنہوں نے ہمیں ایک بار پھر خواب دیکھنے پر اُکسایا تھا۔ ہمیں عمران خان کی شکل میں ایسا میرِ کاررواں دکھائی دے رہا تھا جس سے یہ اُمید باندھی جا سکتی تھی کہ وہ ہمیں خوابوں کی دھوپ سے نکال کر تعبیروں کی چھاﺅں تک ضرور لے جائے گا۔ میں اسکی ہر بات پر اس طرح سے یقین کر رہا تھا جیسے کوئی پہلی محبت کے وعدوں پر ۔ سچ پوچھیے تو عمران خان ہماری سیاسی محبت کا وہ آخری محبوب ہے جس سے مایوسی کے بعد محبت سے اعتبار اُٹھ جاتا ہے۔ مہنگائی کے کہرام، بڑھتی بے روزگاری اور مایوسی کی فضاﺅں کے باوجود میرا دل اب بھی عمران کے حق میں گواہی دیتا ہے۔ میں یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ ہم ایک بار پھر خوابوں کے جھانسے میں آئے اور سرابوں میں بھٹکتے ہوئے ناکام ٹھہرے۔ میں یہ ماننے کے لئے قطاَ تیار نہیں کہ عمران خان بھی اس سے پہلے آنے والے حاکموں میں سے ایک ہے جن کا مقصد اقتدار کا حصول تھا۔ اس مقصد کی قیمت عوام نے ادا کی اور اب بھی کر رہے ہیں۔ بقول فراز ©:
اب بھی دل خوش فہم کو ہیں تجھ سے امیدیں
دوسرا مصرع اس لئے نہیں لکھا کہ دل کمبخت چاہتا ہی نہیں کہ یہ آخری شمعیں بھی بجھیں۔ عمران خان کے ارد گرد دکھائی دینے والے نالائق ٹولے کے باوجود میں اُس سے مایوس نہیں۔ اُمید ہے کہ وہ تعبیر کو جاتا کوئی رستہ ضرور تلاش کرے گا۔ ہاں، مگر اب کی بار جو دل بجھا تو شاید پھر کبھی خوابوں کے جھانسے میں نہیں آئے گا۔

About Daily City Press

Check Also

yasir-pirzada

مشعال خان سے پروفیسر خالد حمید تک

یاسر پیر زادہ 20مارچ 2019کو گورنمنٹ کالج، بہاولپور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر خالد حمید کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *