Home / Columns / عقل کے ناخن لینے سے کیا مراد ہے؟

عقل کے ناخن لینے سے کیا مراد ہے؟

امتیاز عالم

عقل کے ناخن لو (یا نعل بنوائو) کا محاورہ تو بہت استعمال ہوتا ہے۔ لیکن معلوم اس ناچیز کو بھی نہ تھا کہ بھلا عقل کے ناخن لینے سے مراد کیا ہے؟ اور موجودہ عالمی اور علاقائی تنہائی کے حوالے سے پھر بھی بار بار یہ محاورہ ذہن میں بلیوں اُچھل رہا ہے۔ سیّد احمد دہلوی کی فرہنگ آصفیہ سے رجوع کرنے پر پتہ پڑا کہ اس محاورے کی ذہانت کتنی برمحل ہے۔ سیّد صاحب کے مطابق ’’چونکہ گھوڑا سم بڑھ جانے سے ٹھوکریں کھاتا ہے۔ اسی وجہ سے عقل کو ایک گھوڑا فرض کر کے نعل بندھوانے کا اشارہ کیا۔‘‘ ہم مسلمانوں کو اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی اللہ پاک نے بڑی تاکید کی ہے۔ اور ہم نے طرح طرح کے گھوڑے تیار کئے رکھے ہیں۔ اس میں باہمی تباہی کے نیوکلیئر گھوڑوں کے ساتھ ساتھ غیرریاستی گھوڑے بھی تھے۔ نیوکلیئر گھوڑوں کی لگامیں تو پاک فوج کے مضبوط ہاتھوں میں ہیں۔ لیکن غیرریاستی گھوڑے جو کبھی روس کے خلاف اور کشمیر جہاد میں کام آئے یا تو بدک کر ہمیں پہ پلٹ پڑے یا پھر اُن کے نعل اتنے بڑھ گئے کہ اُنھیں بنوانے یا ترشوانے کی ضرورت آن پڑی ہے کہ ان سے کشمیریوں کی جدوجہد کو بہت ٹھوکریں پڑ رہی ہیں۔ ہمارے تذویراتی گھوڑے بانوں کے لئے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ ان گھوڑوں کی اب ضرورت نہیں رہی۔ لیکن ان کے نعل اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ٹھوکریں کھانے کے سوا جب ان کا کوئی مصرف نہیں تو انھیں کسی متبادل تصرف میں کیسے لایا جائے۔ جب یہ جہادی گھوڑے کسی کام کے نہ رہے تو یہ جلوسی گھوڑے بن گئے یا پھر قدرتی آفات میں بھلائی کے کام آنا شروع ہوئے۔ لیکن جہادی گھوڑے تو ہوتے ہی جہادی ہیں اور جب وہ جلسے جلوس میں نظر آنے لگیں تو ہمارے سفارت کاروں کو اعتراض ہے کہ ان کی اتنی نمائش ہے اور دُنیا میں ان کا اتنا چرچہ ہے کہ دُنیا کشمیر پر ہمارے موقف یا پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری انہی کے خلاف دی گئی قربانیوں کو کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں۔ لائن آف کنٹرول کے اُس پار سے بھارتی جبر کے خلاف مزاحمت کرنے والے کشمیری اور اُن کی نئی حریت پسند پود بیرونی گھوڑوں کو لگام دینے کی فریاد بھی کر رہی ہے کہ اُن کے ساتھ گڈمڈ ہونے سے اُن کی جدوجہد کی مقامی جمہوری ساکھ کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ بھارت کے وہ جمہوریت پسند لوگ جو کشمیریوں پر ظلم کے خلاف ہیں وہ بھی اُن کا نام آتے ہی دبک جاتے ہیں اور جارح قوم پرستوں کو کشمیریوں کے ناکردہ گناہوں کے بہانے اپنے انسانی گناہوں پہ پردہ ڈالنے کا موقع مل جاتا ہے۔ لیکن ان بد کے ہوئے گھوڑوں کو کوئی قابو کیسے کرے؟ اگر عقل چرنے نہیں چلی گئی۔
لگتا ایسے ہی ہے کہ اُردو لغت میں دیئے گئے عقل پر پردے پڑنے کے تمام محاورے ہم پر صادق ہوتے دکھائی پڑتے ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے کچھ محاورے اور درج کئے دیتا ہوں۔ عقل سٹھیا جانا، عقل پر پتھر پڑنا، عقل بڑی کے بھینس، عقل پر پردہ پڑنا، عقل پر پٹکی پڑنا، عقل چرخ میں آنا، عقل چکر میں آنا، عقل میں فتور پڑنا، عقل کا مارا جانا، عقل کا چراغ گل ہونا، وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے ملک میں عقل گھاس چرنے بار بار جا چکی ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے وقت بھی، ماضی میںبلوچوں کے خلاف فوج کشی کے مواقع پر بھی، اکبر بگٹی کے قتل کے وقت بھی، غیرریاستی گھوڑوں کے کھلا چھوڑے رکھنے کے وقت بھی۔ اب وقت عقل کے گھوڑے دوڑانے کا ہے۔ جہادی گھوڑے دوڑانے کا نہیں۔ جنگی حکمتِ عملی کے ماہرین کی رائے ایک ہی ہے، جیسے مائوزے تنگ نے اس بابت جو پتے کی بات کہی وہ کچھ اس طرح ہے کہ حالات بدل جاتے ہیں، تضادات بدل جاتے ہیں اور اُنہیں حل کرنے کے طریقے بدل جاتے ہیں۔ جو حربے کل کارگر تھے، آنے والے کل میں بیکار ثابت ہوتے ہیں اور ان پر بضد رہنا حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
ایسی صورت میں کوئی کیا کرے جب عقل والوں یا سفارت کاروں کے پاس اختیار نہیں اور جن کے پاس طاقت ہے، اُنہیں سفارتی مشورے کی ضرورت نہیں۔ بھارت نے پاکستان کو عالمی طور پر تنہا کرنے کی جو مہم چلائی اُس میں ہمارے جہادی گھوڑے اُس کے بہت کام آئے اور ہماری کل بھوشن یادیو کے بارے میں شہادتیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ چین کا ویٹو اس بار تو کام آ گیا، لیکن آئندہ شاید یہ بھی میسر نہ رہے۔ بلھے شاہ نے کیا خوب کہا
کتہے رام داس، کتہے فتح محمد
ایہا قدیمی شور
نکل پیا، کچھ ہور
میری بُکل دے وِچ چور
وقت بُکل کے چوروں کو نکال باہر پھینکنے کا ہے۔ اس میں شرم کیسی اور پریشانی کیوں؟ جہادِ اکبر تو اور بہت ہیں، جہادِ اصغر بہت ہو چکا۔ حقوق العباد بھی ہوتے ہیں اور ہمارے جہادی نظریہ دانوں کو اس کی خبر بھی ہے۔ قوم کے بچوں سے توپ و تفنگ لیں اور اُن کے ہاتھ میں قلم دوات پکڑائیں۔ اور جو اس قابل نہیں ان سے کوئی اور نیک کام لیں کہ نیک کام کرنے والوں کی کمی بہت ہے۔ یا پھر خوش خوراکی جس کے لئے ہمارے دوست بہت معروف ہیں، کے لئے مرغن غذائوں کا بندوبست کہ وہ بڑھی ہوئی توندوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر سجدئہ شکر ادا کریں۔ بھلا یہ راقم کا کام کہاں، وہ جانیں جنہوں نے انہیں پالا پوسا۔ ہمیں تو فکر مملکت خداداد کی ہے کہ کہیں یہ اس ملک کے عوام کے ناکردہ گناہوں کے باعث کسی بڑے عتاب کا شکار نہ ہو جائے۔ سینیٹ کے پورے ہائوس کی کمیٹی نے کشمیر پر بھرپور اور عقابانہ موقف اختیار کرتے ہوئے راہ دکھلائی ہے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کی کوئی گنجائش نہیں۔ دہشت گردوں میں اچھے بُرے کی تمیز بند کی جائے۔ اور پاک سرزمین کے دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال کی مکمل ممانعت یقینی بنائی جائے۔ وفاق پاکستان کے نمائندہ ایوان سے بڑی رائے اس ملک میں کسی کی نہیں اور وہ بھی جب یہ متفقہ ہو۔ سینیٹ کی اس تجویز پر بھی فوری عمل کیا جائے کہ پارلیمنٹ کی ایک موثر دفاعی و خارجہ امور کی کمیٹی ہو جو سلامتی و خارجہ امور کی نگرانی کرے۔ عوام کی حکمرانی کا اس سے بہتر نسخہ کونسا ہوگا اور عقل سے رجوع کا بندوبست بھی!
خبریں آئی ہیں کہ مولوی و خاکی ملے ہیں۔ اور پاکستان کی سلامتی کی پالیسی کے حوالے سے نظریاتی کروٹ لینے کی بھی خبریں ہیں۔ تردیدیں بھی آئی ہیں اور صفائیاں بھی دی گئی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ عالمی تنہائی کا شکار ہو کر پاکستان شمالی کوریا کی طرح کا دُنیا سے کٹا ہوا ملک بن کر نہ رہ جائے یا پھر یہ اپنی اہمیت اور تعمیری کردار کے حوالے سے دُنیا کی آنکھ کا تارہ کیسے بن پائے۔ کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور اس کے بہت سے حل ہیں۔ فقط اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں مسئلے کے حل کا سراغ لگانے پر توانائیاں ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ حل ہوگا تو پاک بھارت مذاکرات کے ذریعے ہی، جس کا اعتراف پارلیمنٹ کی قرارداد میں بھی ہے۔ ایسا پہلے بھی ہوتے ہوتے رہ گیا جب جنرل مشرف نے دہشت گردی کو لگام دی اور منموہن سنگھ کے ساتھ ملا جلا حل تلاش کر لیا تھا جو کشمیریوں کو بھی قبول تھا۔ ایسا اب بھی ہو سکتا ہے۔ دنیا بھی یہی چاہتی ہے۔
یہ کام اب کشمیریوں کی اپنی جدوجہد اور پاک بھارت بات چیت کے ذریعہ ممکن ہے۔ لیکن پہلے یہ جنگ بازی کا ماحول بدلنا ہوگا اور جنگجو میڈیا کو کرکٹ اور شوبز کی طرف راغب کرنا ہوگا۔ جو بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ کشمیر تو بیچارہ دونوں ملکوں کے جنگجوئیت پسندوں کے لئے بہانہ ہے۔ البتہ مسئلہ کشمیر کا حل نکل بھی جائے تو بھی پاکستان کو بڑے ملکوں کی ہمسائیگی کے حوالے سے محتاط رہنا ہوگا۔ اور اس کے لئے عقل کے گھوڑے دوڑانے کی بھی ضرورت نہیں۔ اپنی حدود میں رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر مولوی و خاکی سلامتی کے کسی نئے نظریئے سے یہ متفق ہوئے ہیں، تو یہ عمران خان کیوں اسلام آباد کے دارالحکومت کو بند کرنے چلے ہیں جبکہ اُنہیں معلوم ہے کہ نریندر مودی بھی پاکستان کو دُنیا میں تنہا کرنے چلے ہیں۔ اب عمران خان کو بھی بھلا کوئی کیا سمجھائے کہ جی ہاں! آپ کو بھی عقل کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔

About Daily City Press

Check Also

waseem butt

گرمی سے بچنا ہے تو درخت لگائیں

وسیم بٹ ہائیڈل برگ گرمی سے بچنا ہے تو درخت لگائیں اس مرتبہ یورپ کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *