Home / Columns / بھٹو کی برسی اور پیپلز پارٹی کا مستقبل

بھٹو کی برسی اور پیپلز پارٹی کا مستقبل

iftkhar bhutta

بھٹو کی برسی اور پیپلز پارٹی کا مستقبل
افتخار بھٹہ

ذوالفقار علی بھٹو کو دنیا سے گئے 40سال ہو گئے اور ان کی برسی کے بعد اکتالسیواں سال شروع ہو جائے گا یاد رہے بائیں بازو کے کارکنوں کی طرح ذوالفقار علی بھٹو بھی مزاحمتی سیاست کی علامت تھے یہ جدو جہد کا وہ استعارہ ہے جو کہ نظام کی سماجی اور معاشی نا انصافیوں کےخلاف بغاوت کا اعلان ہے اس نظریاتی جدو جہد سے تعلق رکھنے والوں نے ہمیشہ ریاستی جبرو تشدد کا جرات کے ساتھ مقابلہ کیا اور کبھی اپنے نظریات سے انحراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کبھی ذاتی مفادات کی خاطر سمجھوتے کےے ہیں ۔جس کی مثال جنرل ضیاءالحق کا جبر و تشدد کا عہدہے جس میں ہزاروں کارکنوں کو قید و بند کی صوبتوں کے ساتھ کوڑوں کی سزا برداشت کرنا پڑی ذوالفقار علی بھٹو عوامی حقوق اور جمہوریت کی خاطر تختہ دار پر جھول گئے جبکہ ان کے دونوں بیٹوں کو سازشوں کے ذریعے موت سے ہمکنار کیا گیا ان کی دختر بے نظیر بھٹو شہید کو دن دیہاڑے گولیاں مار دی گئیں،2008میں اصف علی زرداری نے مفاہمت کی سیاست کی جس سے پارٹی کا بنیادی کارکن اور جیالے یقینا ناراض ہو گئے کیونکہ نا انصافیوں کےخلاف مزاحمت کا استعارہ دم توڑ چکا تھا 2013کے انتخابات میں پارٹی کی معاشی اور سماجی حقوق کے بارے میں گو موگو پالیسی ناکامی کا سبب بنی ،ویسے بھی پارٹی قیادت کو دہشت گردوں کی دھمکیاں اور میڈیا ٹرائیل کا سامنا تھا بھٹو خاندان کے تمام افراد سوائے بیٹی صنم بھٹو کے علاوہ اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں جو کہ بیرون ملک غیر سیاسی زندگی گزار رہی ہے ، خاندانی سیاسی وراثت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو منتقل ہو چکی ہے دو صاحبزادیاں بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو بھی بھائی کے ساتھ ہیں ۔ بھٹو کا پوتا ذوالفقار علی بھٹو جونیئر سیاست سے دور کسی نئی دنیا میں جا بسا ہے ۔بچہ بہت ذہین تھا اور اس سے تواقعات بھی وابستہ تھیں مگر اس کو شو بز کے نام پر مخنثہ بنا دیا گیا ہے شائد اس پر اپنے خاندان پر ہونے والے ظلم وستم کا خوف غالب آ چکا ہے رہی پوتی فاطمہ بھٹو جو کہ دانشوارانہ سوچ کی حامل اور بین الاقوامی مسائل کو سمجھنے کی اہلیت رکھتی ہے وہ ادب کے میدان میں داخل ہو چکی ہے اور کبھی کبھار اخبارات میں پر مغز کالم اور مضامین لکھتی رہتی ہے ، جبکہ غنوی بھٹو خاموش ہے اس سے اخبار کے نمائندے نے سوال کیا کہ وہ فاطمہ بھٹو کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت کیوں نہیں دے رہی ہے تو اس نے کہا عوام کو شائد ہماری ضرورت نہیں ہے وہ مفادات کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنی بچی ہوئی نسل کو سیاست میں کسی جانی انتقام کے نشانہ بننے سے بچانا چاہتی ہے بات ذوالفقار علی بھٹو کی شروع ہوئی تھی جو دوسری طرف چلی گئی بھٹو کی برسی کے موقع پر کالم لکھنے کا واحد مقصد اس حریت فکر اور عوامی راہنما کی سیاسی اور معاشی حقوق کی جدو جہد کے بارے میں کچھ لکھنا ہے تا کہ نوجوان نسل اس قد آور شخصیت کے نظریات سے آگاہ ہو سکے ، ذوالفقار علی بھٹو نے آج کل کے راہنماﺅ ں کی طرح کبھی نظریاتی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ پارٹی کا بنیادی منشور اسلام جمہوریت اور سوشل ازم اس کے نظریات تھے اس نے عوامی حقوق کی خاطر قانون سازی کی جس نے لیبر پالیسی سوشل سیکیورٹی اولڈ ایج بینی فیٹس اداروں کا قیام تھا جس سے لاکھوں محنت کش آج بھی مستفید ہو رہے ہیں ، نیو کلیئر پروگرام کا آغاز کیا تھا غریب طبقات کو تعلیم کے حصول کی خاطر تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا تھا ،1 9ہزار افواج کی واپسی کو ممکن بنایا تھا ، بے گھر لوگوں میں رہائشی پلاٹ تقسیم کےے سب سے اہم کام عوام کو حقوق کے حصول کےلئے شعور دینا تھا ذوالفقار علی بھٹو کو 1970کے انتخابات میں سب سے زیادہ پذیرائی پنجاب میں لی آج یہی پیپلز پارٹی وہاں سے چند سو ووٹ لینے سے قاصر نظر آتی ہے بلاول بھٹو زرداری کو مزاحمتی کردار ادا کرنا تھا ، مگر اب اس کی جگہ اقتدار سے معزولہونے کے بعدنواز شریف اور مریم صفدر کے بیانےے نے لے لی ہے ۔مگر موجودہ صورتحال میں عدالتوں کی طرف سے میاں نواز شریف کو سزا ہو چکی ہے اور وہ آج کل وہ بیماری کی وجہ سے عدالت سے ضمانت پر ہیں جبکہ مریم نواز بظاہری طور پر خاموش دیکھائی دیتی ہے مگر کبھی کبھار ٹویٹ کے ذریعے سیاست میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے ۔یاد رہے کہ مسلم لیگ نون کا بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کےخلاف تھا اور اس نے اسی کے تحت 2018کے انتخابات میں پنجاب سے خاصے ووٹ حاصل کےے تھے ملک کے مقتدرہ اداروں نے مختلف سیاسی گروہوں سے مل کر تحریک انصاف کی حکومت بنوانے میں اہم کردار ادا کیا جس کا نعرہ کرپشن کےخلاف تھا ابھی تک حکومت بد عنوانی سے حاصل کردہ پیسے کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ دوسری طرف نا اہلیت کی وجہ سے ملک معاشی بحرانوں سے دو چار ہے قرضے پر قرضے لےے جا رہے ہیں مہنگائی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لوگوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھینا جا رہا ہے اور دوسری طرف پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کردہ اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے بارے میں اظہار خیال کیا جا رہا ہے کہ اس نے وفاق کو مالیاتی بحران سے دو چار کر دیا ہے حکومت کے اس بیانیہ کے خلاف بلاول بھٹو زرداری برملا طور پر اپنا اظہار کر رہے ہیں اور اس ترمیم کے خاتمے کی کسی قسم کی سازش کو وفاق کےخلاف سازش سمجھتے ہیں۔کیونکہ بلاول کے بقول اس ترمیم سے صوبائی خود مختاری کے مسائل حل ہوئے ہیں جس سے علیحدگی پسند قوم پرستوں کو شکست ہوئی ہے ۔
سیاست نفرت نہیں نظریات اور اپنے پروگرام کے تحت ہوتی ہے کسی حکمران جماعت کی ناقص پالیسیوں اور منصوبہ بندی کے خلاف متبادل پروگرام دینا اس کے سیاسی مخالفین کا حق ہے مگر بد قسمتی سے تحریک انصاف کی قیادت سیاست ذاتی دشمنی،نفرت اور مخالفین کےلئے حقارت بنے جملوں سے بھری ہوئی ہے ، خود اپنے آپ کو عقل کل سمجھتی ہے اس کے نزدیک مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی قرہ ارض کی سب سے بڑی جو کہ کرپشن دھنسی ہوئی ہیں ان کی سیاست ملک کو دیوالیہ کر رہی ہیں اور خارجہ پالیسی کے نام کی کوئی چیز نہیں ہے یہ بات یاد رکھنی چاہیے عمران خان کی جماعت جن دو برائیوں پیپلز پارٹی اور نو ن لیگ کےخلاف مجاہدانہ شان سے میدان میں اتاری گئی اس میں مختلف جماعتوں کے نابغے چن چن کر بھرتی کروائے گئے ان پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں آج موجودہ تناظر میں دیکھیں تو مہنگائی غربت اور بے روز گاری جیسے مسائل کے حل کے بارے میں کچھ سوچا نہیں جا رہا ہے اوپر سے نیچے تک ہر ذہن صرف سیاسی مخالفتوں پر لعن تان کے سوا کچھ نہیں ہے داخلہ پالیسی ہے نا کہ خارجہ پالیسی ۔ پنجاب میں صورتحال ابتر ہے وفاقی میں سب اچھا کی رپورٹ نہیں ہے ، قانون سازی میں دو تین کیا ایک قدم بھی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ، وزےر اعظم اپوزیشن کی شکل دیکھنے کو تیار نہیں الےکشن کمیشن کی تشکیل نو کا معاملہ لٹکا ہوا ہے ۔تحریک انصاف ابھی تک ڈی چوک کے دھرنے میں کھڑی ہے
پیپلز پارٹی کے مدمقابل مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ہے جو نظریات کی بجائے افراد کی سیاست کر رہی ہے ۔جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس عوام کے معاشی اور سماجی حقوق کےلئے کوئی منشور نہیں ہے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو بے نظیر انکم سپورٹ سکیم کی ذلت بھری خیرا ت کو روٹی کپڑا مکان کی فراہمی کا استعارہ قرار دیتے ہیں ان کے مطابق بھٹو ازم یہی ہے کہ لوگ اکٹھے ہو کر ارد گرد نعرے لگاتے رہیں پیپلز پارٹی کے نظریات کیا ہونا چاہیے اس کا فیصلہ 1967میں ہو چکا تھا 1984میں یہ نظریات پارٹی کےلئے نا قابل قبول ہو چکے تھے پارٹی کو دائیں طرف مڑتے ہوئے اب ماضی کی تنظیم اور حمایت کا شائد شائبہ نہیں بچا لےکن سرمایہ داری اور پیپلز پارٹی کاتعلق غیر فطری ہونے کے باعث جس پر پریشانی کا سامنا قیادت کو کرنا پڑا۔اس کا تدارک انہوںنے رنگ برنگوں کی نظریاتی ٹامک ٹیوں سے کرنے کی کوشش کی ہے جس میں سے ایک سوشل ڈیمو کریسی ہے اب بلاول بھٹو اپنی تقریروں میں بر ملا طور پر کہتا ہے کہ پیپلز پارٹی تمام طبقات کی پارٹی ہے اور ان کے مفادات کی محافظ ہے مگر ایسا ہر گز نہیں ہے کیونکہ ایسی ملٹی طبقات پارٹیاں پاکستان مسلم لیگ اور تحریک انصاف شامل ہے صرف حکمران طبقات کے مفادات کی حا می ہو سکتی ہیں جب کوئی پالیسی نظریات سے انحراف کر کے انتخابی سیاست کر رہی ہوتی ہے تو انتخابی نتائج اس کا پیمانہ ہوتے ہیں ۔جس کا نتیجہ بد ترین انتخابی شکست میں نکلتا ہے پارٹی کی قیادت کی جانب سے بھٹو کے انقلابی آدرشوں کی بجائے انہی غلطیوں کا ہی کار نامہ قرار دیا جا سکتا ہے
چاہیے تو تھا بلاول بھٹو زرداری جو ذہین نوجوان ہے دور حاضر ہے نوجوان نسل کے مسائل کی بات کرتا بے روز گاری غربت اور ملکی ترقی کے لئے کوئی روڈ میپ پیش کرتا مگر وہ احتساب کی بحث میں الجھ کر رہ گیا ہے اس کے بقول ملک سے جمہوریت کو ختم کرنے کےلئے احتساب کا ڈرامہ رچایا گیا ہے مگر ایسا نہیں ہے ملک کے قیام سے کرپشن کا عمل جاری ہے ۔اب یہ بد عنوانی کے ذمہ داران افراد بے نقاب ہو چکے ہیں جو کہ شائد ملک کے مقتدرہ طبقات کی ضرورت ہے اور وہ مزاحمتی سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں اپنے لےے مالیاتی وسائل حاصل کرنے کےلئے اٹھاوریں ترمیم کے در پے ہیں ۔ملک میں سیاسی استحکام کےلئے ضروری ہے کہ بلاول بھٹو کھل کر عوام کی محرومیوں اور مسائل کے بارے میں بات کرے اور اس حوالے سے ٹھوس منشور دے اور احتساب کے عمل کو عدالتی پراسیس کے تحت مکمل ہونے دیا جائے ملک میں ویسے بھی صرف دو سیاسی خاندانوں نے کرپشن نہیں کی ہے بلکہ ہمارے سسٹم کی سب سے اہم پیدا وار کرپشن اور سماجی محرومیاں ہیں جن کے خاتمے کےلئے نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جس کےلئے ترقی پسند قوتیں مزدور اور کسان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

About Daily City Press

Check Also

yasir-pirzada

مشعال خان سے پروفیسر خالد حمید تک

یاسر پیر زادہ 20مارچ 2019کو گورنمنٹ کالج، بہاولپور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر خالد حمید کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *