Home / Columns / مسائل زدہ عوام اور اہل اقتدار کی عالمانہ گفتگو

مسائل زدہ عوام اور اہل اقتدار کی عالمانہ گفتگو

iftkhar bhutta

مسائل زدہ عوام اور اہل اقتدار کی عالمانہ گفتگو
فتخار بھٹہ
پاکستان میں جب سے نئی حکومت بر سر اقتدار آئی ہے ۔ کاروباری اور صنعتی سر گرمیاں جمود کا شکار ہیں کسی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے فرد سے گفتگو کریں تو وہ پریشان ہوتا ہے ۔ غریب آدمی مہنگائی کا تذکرہ کرتا ہے اور تعلیم یافتہ نوجوان بے روز گاری کا رونا روتے ہیں مزید سرمایہ کاری کا ذکر کیا کریں یہاں موجودہ سرمایہ کاری سکڑتی ہوئی دیکھائی دیتی ہے اس وقت ملک میں مجموعی طور پر معیشت کا برا حال ہے تبدیلی کا ڈھول پھٹ کا ناکارہ ہو چکا ہے ۔گہرے ہوتے ہوئے معاشی بحران کا تمام بوجھ نئے ضمنی بجٹ میں ٹیکسوں کے ذریعے عوام پر ڈالنے کی کوشش کی جائے گی، آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ گو بگو سے دو چار ہے سعودی عرب اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے قرضوں یا امدادوں سے ابھی تک زر مبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قیمت مستحکم نہیں ہو سکی ہے۔ یاد رہے ان وقتی ٹوٹکوں سے معاشی بحران کو روکا یا حل نہیں کیا جا سکتا ہے تمام حکومتی تردیدوں کے باوجود قرضوں کا حصول نا گزیر ہو چکا ہے مگر امریکی ناراضگی کی وجہ سے اس بار آئی ایم اےف کی جانب سے سخت شرائط کا سامنا ہے ، جن کی تکمیل کی صورت میں خود وزےر خزانہ اسد عمر کے بقول تحرک انصاف حکومت کےلئے سیاسی طور پر کڑے نتائج ہونگے ، تحریک انصاف کی حکومت نے جو پہلا بجٹ پیش کیا اس میں ترقیاتی بجٹ میں چالیس فیصد کٹوتی کی گئی ترقیاتی بجٹ میں کمی سے بجٹ خسارے میں تو کمی ہو سکتی ہے مگر اس سے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس سے منسلک صنعتیں اور کمپنیاں قصاد بازاری سے دو چار ہوتی ہیں کوئی نیا سکول یونیورسٹی ہسپتال یا انفرسٹرکچر نہیں بن سکتا ہے مگر آئی ایم ایف سے جو مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ ترقیاتی بجٹ کو بند کر کے پورا کرنا ممکن نہیں ہے اس کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے صوبوں کو ملنے والا حصہ روکا جا سکتا ہے ، اٹھاوریں ترمیم کے خاتمے کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ آئی ایم ایف شرح سود میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس سے سرمایہ کاروں کےلئے مزید قرضوں کا حصول مہنگا ہو جائے گا ، روپے کی قیمت میں پہلے ہی آئی ایم ایف کی ہدایت کے تحت کمی کر دی گئی ہے ، 2018میں پاکستانی روپیہ پندرہ فیصد قدر کھو چکا ہے ، پچھلی حکومت نے مصنوعی طور پر روپے کو اصل قدر سے زیادہ بر قرار رکھا جس کی وجہ سے برآمدات پر منفی اثرات ہوئے ، برآمدات کو بڑھانے کےلئے کڑوا گھونٹ پینا ضروری ہے مگر حقیقت اس سے الٹ ہے اس وقت معاشی بحران کے باعث عالمی تجارت سست روی کا شکار ہے معاشی سست روی کے سبب چینی برآمدات میں کمی ہوئی ہے ایسے میں پاکستان جیسی پسماندہ صنعت کیسے ترقی کر سکتی ہے ۔
روپے کی قدر میں کمی سے افراط زر میں اضافہ ہوا ہے روز مرہ کی ضروریات زندگی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، عوام کی قوت خرید کم ہوئی ہے جبکہ محنت کشوں اور تنخواہ داروں کی اجرتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ، ایسے میں اعلاج اور تعلیم پہنچ سے باہر ہو گیا ہے ، حال ہی میں ادویات کی قیمتوں میں پندرہ فیصد اضافہ کر کے اعلاج کو غریب کی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے یہاں تک کے درمیانہ طبقہ بھی مہنگائی سے چلا اٹھا ہے مجوزہ ضمنی بجٹ میں 150روپے سے زائد نئے ٹیکس لگانے کی تیاری ہو چکی ہےں۔ پیٹرولیم منصوعات پر جنرل سیل ٹیکس میں اضافے کی تجویز ہے، موبائل فون پر دوبارہ ٹیکس عائد کیا جائے گا ، درآمدات پر ریگو لیٹری ڈیوٹی میں مزید 1%اضافہ کیا جا سکتا ہے، پاکستان میں پہلے ہی بلاوسطہ ٹیکسوں نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، ڈان میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق آیف بھی آر کی طرف سے 3000سے زائد افراد کو ٹیکس نوٹس جاری کئے گئے تھے جس میں صرف 3سو افراد نے جواب دیئے ہیں سرکار کی طرف سے زیادہ ٹیکس بلاوسطہ اکٹھا کیا جاتا ہے، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں پر مزید ٹیکس لگانے کی بجائے کارپوریٹ ٹیکس میں 1%کمی کر دی گئی ساتھ کالے دھن والوں کےلئے ایمنسٹی سکیم دی جاتی ہے اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے لاکھوں صارفین بل ادا کرنے کے باوجود گیس سے محروم ہیں جبکہ حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سرمایہ داروں کی صنعتوں کو گیس کی قیمت پر سبسڈی دی جا رہی ہے ۔ منی بجٹ میں بجلی کی قیمتوں میں 20%اضافہ متوقع ہے، سارے شعبوں کا خسارہ عوام پر ڈالا جا رہا ہے تحریک انصاف کی حکومت نے میں اتنی ہمت نہیں ہے اتنی ہمت نہیں ہے کہ آئی بی پیز اور سی پیک میں کےے جانے والے توانائی منصوبوں کے عوام مخالف معاہدوں پر نظر ثانی کی جسارت کر سکیں ، اپنے انتخابی نعروں میں تحریک انصاف نے اقتدار میں آکر 1کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا مگر معیشت کو سنبھالہ نہ دینے کی وجہ سے کاروباری طبقات ، تجاوزات کےخلاف نام نہاد آپریشن اور دیگر ریاستی پالیسیوں سے لاکھوں لوگ روز گار سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ اسلام آباد اور بنی گالہ میں تجاوزات کو ریگو لائز کر کے آمیر طبقات کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے بی سی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچھلے چند ماہ کے دوران20لاکھ سے زیادہ افراد بے روز گار ہوئے ہیں، بڑی تعداد میں صنعتیں بند ہو چکی ہیں، فیصل آباد اور کراچی میں پاور لومز سیکٹر عملی طور پر بندو چکا ہے ، پاور لومز بند ہونے کی وجہ چین سے سستی ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمد ہے چینی دھاگے سے تیار کردہ کپڑا پاکستان میں فروخت ہو رہا ہے جو مقامی کپڑے سے سستا اور معیاری ہے ہماری رپورٹ کے مطابق سوزوکی موٹر کی فروخت میں چالیس فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ ٹریکٹروں کی فروخت میں 70%کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے یہ انڈسٹری بحران سے دو چار ہے ، نئے ترقیاتی پروجیکٹس نہ شروع ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد کے ساتھ تعمیراتی کمپنیاں فارغ ہیں میڈیا ورکرز کو جبری طور پر فارغ کیا جا رہا ہے ۔ تجاوزات کے خلاف میڈیا میں بہت چرچا ہے جس کو حکومت ایک بڑی کامیابی بنا کر پیش کر رہی ہے حکومتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کتنی زمین سے قبضہ چڑا لیا گیا ہے اور کتنے لوگوں کا کاروبار تباہ اور کتنے چھوٹے کاروبار ختم ہوئے ہیں اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا ۔ڈان کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں 17ہزار افراد بے روز گار ہوئے ہیں اگر ان سے جڑے اہل خانہ کا حساب کیا جائے تو کل ڈیڑھ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ پوش علاقوں میں تجاوزات بدستور موجود ہیں ، غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بے روز گاری کی شرح 50%سے زائد ہے ۔
ہم 70سال بعد بھی اپنی درست معاشی پالیسیوں کا تعین نہیں کر سکے ہیں دنیا میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بے روز گاری اور مہنگائی کا ہے جس کو حل کرنے کےلئے مقامی صنعت اور تجارت کو فروغ دینے کے ساتھ علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کےلئے تعلقات کو بہتر بنانا ضروری ہے مگر حکومتی اکابرین احتساب کے گھوڑے پر سوار ہوا میں اڑ رہے ہیں، انہیں سمجھ نہیں آ رہا کیا کرنا ہے سارا ملبہ سابق حکومتوں پر ڈال کر راستہ صاف نہیں کر پا رہے ہیں، حکومت نے ایک ساتھ کئی ایشوز چھیڑ کر لوگوں کو بے روز گار کرنا شروع کر دیا ہے، اکنانومی اور گرویتھ ریٹ نیچے کی طرف گامزن ہے، پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت فارن ایکسچینج کی ہے، حکومت کے شوگر ملز کو1.1ملین ڈالر چینی برآمد کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اس ضمن میں کوئی ختمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔اس برآمد سے چار سو ملین ڈالر ملنے تھے اسی طرح گندم کی وافر مقدار گوداموں میں پڑی خراب ہو رہی ہے۔حکومت نے چین کی درآمد ات کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جس سے ہماری درآمدات میں اضافہ ہوا ہے ۔ اسکے مقابلے میں چین نے ہماری درآمدات کےلئے اپنی عائد کردہ بیشتر ڈیوٹیوں کو کم نہیں کیا ہے۔ دو طرفہ معاہدے ایسے ہونے چاہےے جس سے ہماری صنعت کو فائدہ ہو۔ چین پاکستان سے بڑی مقدار میں چینی چاول اور گندم خرید سکتا ہے۔ جس سے ہماری صنعت اور زرعی شعبہ کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ تحریک انصاف کے حکومتی اقدامات سے سیاسی وسماجی انتشاز میں اضافہ اور معیشت میں بگاڑ دیکھنے میں آیاہے جبکہ حکومتی اکابرین کی طرف سے نت نئے اعلانات اور دعوے سامنے آرہے ہیں۔ حکومتی کارکردگی پر عوام بھی سوال اٹھارہے ہیں۔ وہ کب 50لاکھ مکان مانگتے ہیں وہ تو خالی پلاٹ چاہتے ہیں جس پر وہ اپنی بچتوں سے چھت ڈال سکیں۔ایک کروڑ نوکریاں دلانے کی بجائے تجاوزات ہٹانے کے نام پر بے روزگار ی نہیں چاہتے ۔ صنعت کار اور تاجر کہتے ہیں کہ پاکستانی روپیہ کہاں کھڑا ہوا۔ آپ کی درآمدی اور برآمدی ترجیحات کیاں ہیں۔ پوری گیس اور بجلی کب ملے گی۔ آپ لوٹی ہوئی دولت نہ لائیں یا کرپشن جڑ سے نہ پھینکیں مگر نعروں اور احتساب کے خوف سے روزمرہ کے امور سنبھالنے کےلئے کچھ توانائی بچارکھیں۔ امریکہ افغانستان سے فوجیں نکالنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ جو کہ مستقبل میں قائم ہونے والے روس پاکستان ایران اور ترکی اتحاد کےلئے پریشانیاں کھڑی کر سکتا ہے۔ کیادوسروں کو برا بھلا کہنا ہی گورننس ہے۔ مانا کہ اصول پسندی قابل تعریف ہے مگر گاڑی اصولوں سے نہیں معیشت سے چلتی ہے۔ 2018کا سال دعووں اور احتساب کے نعروں سے گزر گیا۔ آپ کا ویژن بے شک صاف ہو مگر اس میں عملیت کی گنجائش نہ ہوا۔ تو یہ صرف ٹیلی ویژن کی تصویر رہ جاتا ہے۔

About Daily City Press

Check Also

Toqeer Hussain

ہمیں تنہا کرنے کی کوششیں

وزیرِاعظم عمران خان اور فوجی قیادت نے ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *