Home / Columns / معیشت کو سیاسی کھلوارڑنہ بنائیں

معیشت کو سیاسی کھلوارڑنہ بنائیں

iftkhar bhutta

معیشت کو سیاسی کھلوارڑنہ بنائیں
تحریر: افتخار بھٹہ
پاکستان میں حکومت کو اس وقت کئی محاذوں پر چیلنجوں کا سامنا ہے مہنگائی میں کمی ، معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنا ڈالر کی قیمت کو نیچے لانا اور نئی سرمایہ کاری کےلئے ترغیبات دینا مگر یہ تمام دعوئے خیالی پلاﺅ ثابت ہوئے ہیں موجودہ حکومت تمام بد عنوانی کی ذمہ داری سابق حکمرانوں پر ڈالتی رہی ہے جو کہ اب جیل میں بند ہیں حکومت نے اپوزیشن کے لیڈروں کی کرپشن کے بارے میں تصور کو بہترین اجاگر کرتے ہوئے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی ہے کہ تمام بد عنوانی اور منی لانڈرنگ سابق سیاسی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے ، دیکھا جائے نہ تو کرپشن میں کمی ہوئی ہے ، نہ زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بلکہ تمام ریاستی امور سابق خامیوں اور خرابیوں کے ساتھ چلائے جا رہے ہیں لوگوں کا خیال تھا کہ بد عنوانی پر قابو پانے سے معیشت میں بہتری آئے گی ان کا اعتماد بحال ہوگا ، تجارتی اور صنعتی حلقے متحرک ہونگے، ایماندار حکومت ٹیکس اصلاحات کے ذریعے حکومتی ذریعے آمدنی میں اضافہ کرے گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے لوگ مہنگائی اور بے روز گار ی کے ہاتھوں پریشان ہیں مارکیٹوں سرکاری و غیر سرکاری شعبے وہاں پر ہر شخص پریشان ہے خریدو فروخت کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے پراپرٹی سے متعلق سودے نہ ہونے کے برابر ہیں اور جبکہ اس سے متعلق صنعتیں بھی چل نہیں رہی ہیں تنخواہ دار طبقہ جن کی آمدنی محدود ہے وہ خاصے پریشان ہیں ڈالر کی قیمت بڑھنے سے روپے کی قدر میں 30%کمی ہوئی ہے دوسری مہنگائی میں25% سے40%اضافہ ہوا ہے بازار میں سبزیاں اور پھل ایک بھاﺅ فروخت ہو رہے ہیں چھوٹا اور بڑا گوشت خریدنے کا کوئی غریب تصور ہی نہیں کر سکتا ہے ، دودھ 110روپے ہو گیا ہے جس کی قیمت پانچ سال 60سے80روپے کلو رہی تھی، ڈبل روٹی کی قیمت35اور60روپے سے بڑھ کر55اور100روپے ہو گئی ہے جبکہ اس کا وزن اور سائز بھی کم کر دیا گیا ہے عام روٹی کی قیمت بھی چھ،آٹھ سے بڑھ کر 12روپے ہو گئی ہے یہی حال بیکری اور مٹھائیوں کی قیمتوں کا ہے عام آدمی کھانے پینے کی اشیاءخریدتے وقت حکومت کو ضرور کوستا ہے پاکستان میں 70سالوں میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی ہے جو کہ حسب دستور واپس نہیں آئے گی مگر اس سے رشوت کا ریٹ بڑھ گیا ہے کوئی کام اس کے دیئے بغیر نہیں کروایا جا سکتا ہے ۔مہنگائی کا جن رکتا ہوا دیکھائی نہیں دیتا ہے ارباب اختیار کو نعروں اور ماضی کی کرپشن کا ڈول پیٹنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے لوگ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ حکومت کارکردگی دکھائے مگر کبھی کرپشن ، پاکستان میں معاشی بد حالی، طالبان ، امریکہ ایران ایشوز سے زیادہ اب کشمیر ایشو لے کر مہنگائی کا مسئلہ دور دور تک حل ہوتا دیکھائی نہیں دیتا ہے تمام صنعتوں کے منافع سکڑ گئے ہیں جبکہ اکثر نقصان دکھا رہی ہیں پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ جو کہ کسی معیشت کی کارکردگی کا عکس ہوتی ہے کو 56ہزار سے30ہزار تک پہنچ گئی ہے خیال ہے یہ 25ہزار سے نیچے جا سکتی ہے اگر کاروبار چل رہے ہوں تو انڈکس میں اضافہ ہوتا ہے۔ آج کل شیئرز کا لین دین کم ترین سطح پر ہے بڑے بروکرز کاروبار سے لا تعلق دیکھائی دیتے ہیں چھوٹے سرمایہ کاروں کے شیئرز کی قیمت گرنے سے اربوں روپے ڈوب چکے ہیں چھوٹا سرمایہ کار اب کہاں شیئر بیچے یا خریدے اسے تو اپنے روٹی پانی اور گھریلو اخراجات کی پڑی ہوئی ہے قیمتوں میں زیادتی کی وجہ سے آج سال قربانی پچیس فیصد کم ہوئی ہے کروڑوں کی کھالوں کی خریدو فروخت نہیں ہو سکی ہے کیونکہ اس صنعت سے متعلقہ ادارے اس کاروبار میں رسک لینے کےلئے تیار نہیں ہےں۔
اس ساری صورتحال میں یہ نظر آتا ہے کہ کاروباری طبقہ حکومت سے خفا ہے حکومت کی ایف بی آر اور دیگر محکموں سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے خوف زدہ ہے وہ چاہتا ہے کہ حکومت سیاسی عناد کو الگ رکھے اور کاروباری بحالی کےلئے اقدامات کرے۔کاروبار چلے گا تو معاشی استحکام آئے گا ایف بی آر کے ٹارگٹ پورے ہونگے ، خزانہ خالی ہوگا تو ہم ہاتھ پھیلاتے رہیں گے ۔ کوئی کام سیدھا نہیں ہوگا ، دوسری طرف اشیائے ضروریہ کی یکطرفہ قیمتوں میں اضافے کےخلاف ضلعی انتظامیہ کوئی اقدامات اٹھا نہیں رہی ہے ہر آدمی اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھتا جا رہا ہے اس صورتحال سے پیدا ہونے والی سنگینی اور عوام کے اضطراب میں اضافہ نہیں ہو رہا معلوم ایسے ہوتا ہے حکمران مہنگائی اور بے روز گاری کے ایشوز کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے اور وہ شائد سوچتے ہیں کہ کرپشن کا ذکر کر کے پانچ سال نکال لئے جائیں گے مگر عوام زیاد ہ دیگر ان باتوں کو برداشت کرنے کےلئے تیار نہیں ہے ستم یہ ہے کہ ملک کی مقبول پارٹی مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہی ہے جبکہ ملک کی بائیں بازو کی پارٹیاں عوامی مرکز پارٹی ، مزدور کسان پارٹی اور لیبر یونین نے مہنگائی اور بے روز گاری کےخلاف احتجاج کئے ہیں ۔
حکومت لوگوں کو روز گار کے نام پر انڈے مرغیاں اور بکریاں پالنے، ہیلتھ کارڈ کے نام پر مطمئن نہیں کر سکتی لوگ ایسی پالیسیاں چاہتے ہیں ، گیس ، گھریلوں کھانے پینے کی ایشیائ، صحت کو سستا کیا جائے مگر یہاں علاج معالجے کی سہولتیں لوگوں سے چھین لئی گئی ہیں حکومت غریبوں کو کوئی ریلیف دینے کےلئے تیار نہیں ہے وہ آزاد معیشت کی خامی ہے جہاں پر منڈی کی طاقتوں کو قیمتیں طے کرنے کا اختیار ہے مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے یہاں پر بڑی صنعتوں والے کارٹیل ، چیزوں کے ریٹ پول کر دیتے ہیں جس سے انہیں تمام کمپنیوں سے ایک ہی قیمت پر چیزیں ملتی ہیں جس سے صنعت کار زیادہ منافع کماتے ہیں تحریک انصاف کی حکومت غریب عوام کو تو کچھ ریلیف نہیں دے سکتی مگر اس نے اپنے سیاسی اتحادی صنعت کاروں کے قرضہ جات قومی اسمبلی میں کسی بحث و مباحثہ کے بغیر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے207ارب روپے معاف کر دیئے ہیں ان ٹیکسوں کے حوالے سے مقدمات عدالت میں زےر سماعت تھے ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ یہ رقم واقع ہی ان کمپنیوں کی طرف سے واجب الدا تھی اس کا فیصلہ کورٹ میں ہونا چاہئے تھا ، تاثر یہ مل رہا ہے کہ حکومت نے ان کمپنیوں کو ناجائز فائدہ دیا ہے پی ٹی آئی کے راہنماﺅں کا کہنا ہے کہ معاف کی گئی وہ رقوم ہے جن کے ٹیکس ناجائز طور پر زرداری اور شریف حکومت نے عائد کئے تھے، بحر صورت ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ حکومت کو فی الحال معیشت کو چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
پی ٹی آئی حکومت کا موقف رہا ہے کہ ساری بزنس کمیونٹی کیونکہ ٹیکس نہیں دیتی لہذا چور ہے ٹیکس وصولی کو جگہ ٹیکس قرار دیا گیا ۔ عام شہریوں اور سمال و میڈیم کی کمپنیوں کو اکانومی ڈکامنٹس کے نام پر ڈرایا گیا تھا ، ایف بی آر کے افسران کو اختیارات دیئے جا رہے تھے کہ وہ کسی گھر میں گھس کر ان سے رسیدیں اور ٹیکس کا ثبوت مانگ سکتے ہیں لوگ شناختی کارڈ چھپانے لگے تھے جیسے یہ ان کی اے ٹی ایم مشین ہو ایسا ڈر اور خوف پیدا کیا گیا کہ تمام کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ضرور اس امر کی تھی کہ حکومت اس کام کی تکمیل کےلئے عوام سے تعاون کرتی صنعت کاروں کو ترغیبات دیتی مغربی ممالک کے نظام کو دیکھوں ہندوستان سے سیکھو کہ اس نے کس طرح غیر روایتی معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوشش کی ہے بچگانہ اور دھمکی آمیز طریقوں سے معاملات کو حل نہیں کیا جا سکتا ، یاد رہے ہماری معیشت کا ستر فیصد حصہ ان فارمل ہے جو کسی ٹیکس نیٹ ورک میں شامل نہیں ہے مگر آپ نے نا جانے کیوں ڈاکومنٹیشن کا کام روک لیا ہے اکانومی بجٹ خسارے نام کے اژدہا کے منہ میں چلی گئی ہے خدارا معیشت کی گروتھ کا گلہ نہ گھونٹوں اس سے ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ ہوتا ہے جس سے حکومت کے آخراجات چلتے ہیں مگر ہم نے اکانومک گرﺅتھ کے انجن اکانومی پر اتنی ضربیں لگائی ہیں کہ اس نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا ہے لگتا ایسا ہے اگلے سال بھی معیشت ایسے ہی رک رک کر چلتی رہے گی ، آپ نے عدالت کے فیصلہ کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے خواریوں کو نوازنے کےلئے اربوں کے ٹیکس معاف کر دیے ہیں جو کہ حالیہ بجٹ میں لگائے گئے ٹیکسوں کا 28%ہے اب ان ٹیکس خساروں کو پورا کرنے کےلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جائے گا ۔
ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور انٹرسٹ ریٹ بڑھنے سے ملک کی دیگر صنعتوں کی طرح آٹو انڈسٹری کو بھی بحران کا سامنا ہے کاروں کی فروخت میں 50%کمی ہو چکی ہے جس سے ماہانہ3ارب ٹیکس کی وصولی میں کمی ہوگی انڈسٹری سے وابستہ روز گار حاصل کرنے والے ورکرز اور سرمایہ کار متاثر ہونگے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تاریخ کے بد ترین مالی خسارے 8.9%کا سامنا ہے حکومت کے سابق مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنا زیادہ خسارہ نہیں دیکھا ہے ، وزارت خزانہ خرچ پر قابو پانے پر توجہ نہیں دے رہی جبکہ حکومتی آمدن تاریخ کی کم ترین سطح کی جانب جا رہی ہے آئی ایم ایف پروگرام کے ڈسکاﺅنٹ ریٹ میں اضافے سے 11کھرب 6ارب روپے سود کی ادائیگی سامنے آئی ہے جس میں 10کھرب 20ارب کے اندرونی اور900ارب کے بیرونی ادائیگی میں اضافہ ہوتا ہے ترقیاتی آخراجات 45%کم کئے گئے ہیں مگر اس بار خسارے میں بہت اضافہ ہوا ہے تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی پالیسی ریٹ 7.5%سے13.20%بڑھا دیا ہے جبکہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہونے سے سود اور قرضوں کی رقوم بڑی ہیں محسوس ایسے ہوتا ہے حکومت کے ماہرین معاشیات کے پاس ساری صورتحال کو بہتر بنانے کےلئے کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے حکومت کو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر معاشی ترجیحات کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے کہ وہ اس طرح ملک کے معاشی مستقبل سے کھیل رہی ہے۔اور شائد ملک کی تاجر برادری کو نواز شریف کی حمایت کی سزا دینا چاہتی ہے۔

About Daily City Press

Check Also

umar faroqui

پاک بھارت کشیدگی کا تشویشناک پہلو

پاک بھارت کشیدگی کا تشویشناک پہلو عمر فاروقی بھارت نے  پارلیمنٹ کے ذریعےجموں و کشمیر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *