Home / Columns / ”جمہوریت کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری یا ااپوزیشن کی بھی ہے۔۔۔؟“

”جمہوریت کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری یا ااپوزیشن کی بھی ہے۔۔۔؟“

haroon adeem logo

صورتحال
ہارون عدیم
”جمہوریت کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری یا ااپوزیشن کی بھی ہے۔۔۔؟“
11ستمبر1948کو بانی ءپاکستان کی رحلت کے بعد سے پاکستان میں جمہوریت شروع دن سے ہی خطرے میں رہی ہے، کیونکہ مسلم لیگ جو پاکستان کی بانی جماعت تھی، اس کا طرز سیاست آمرانہ بن گیا تھا، جس کسی نے قومی اسمبلی میں مسلم لیگ پر تنقید کی اسے غدار قرار دینے کے ساتھ ساتھ زد و کوب کر کے اسمبلی سے باہر پھینک دیا ، مسلم لیگ جونیجو جس پر قبضہ کرنے کے بعد ن لیگ کاسربراہ نواز شریف بنے،نے تو خود کو ہی ”جمہوریت “ اور ”پاکستان“مان لیا،لہٰذا تمام وہ سیاسی دھڑے یا جماعتیں جو ن لیگی طرز سیاست کی ناقد تھیں، جمہوریت دشمن اور پاکستان دشمن قرار دے دی گئیں، ن لیگ نے خود کو ماورائے آئین و قانون سمجھا۔اب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی خود کو جمہوریت اور پاکستان قرار دے لیا ہے، جب سے منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی کی تحقیقات کے نتیجے میں جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آئی ہے، اور حکومت وقت نے منی لانڈرنگ میں ملوث172 بڑے گرگوں کے نام کی فہرست شائع کی ہے جن کو اای سی ایل میں ڈالا ہے،پی پی پی بھی جمہوریت اور پاکستان بن گئے ہے،پی پی پی کے شریک چیئرمین تمام تر اخلاقی حدیں عبور کر گئے ہیں، کل تک پی پی پی ن لیگ پر یہ الزام دھرتی تھی(جو کہ بیجا نہیں تھا)کہ سیاست میں تشدد اور عدم برداشت کی بنیاد مسلم لیگ نے رکھی تھی، جسے جونیجو صاحب کے جلسے میں جوتے اور کرسیاں چلا کر عروج پر پہنچا دیاگیا، جناب وزیر اعظم لیاقت علیخان نے اپوزیشن لیڈر جناب سہروردی کو راولپنڈی ایک پبلک جلسے میں ”کتا “ تک کہہ ڈالا، آج جناب آصف زرداری پبلک جلسے میں فرماتے ہیں کہ وزیر اعظم اور ان کے وزراءپریس کانفرنسوں اور ٹی وی پہ بیٹھ کر ”بکواس “ کے سوا کچھ نہیں کرتے، بلاول بھٹو کے اندر کا جاگیر دار بھی پورے کرو فر کے ساتھ با ہر آ گیا ہے، بی بی شہید کا دودھ جو اس کی نس نس میں دوڑ رہا ہے اگر آج وہ کچھ ہے تو بی بی شہید کے بیٹے ہونے کے ناطے کی یہ سیاسی اخلاقیات نہیں تھی۔
اور یہ سب کچھ جمہوریت کے نام پر کیا جاتا ہے،آصف زرداری کا ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے یہ اعلان کرنا کہ ”چیئرمین نیب کی جرات ہے کہ وہ انہیں ہاتھ لگائے“ان کے اندر کے جاگیر دار کو ننگا کر گئی تھی، جس طرز سیاست کو اس وقت اپوزیشن جماعتوں نے اپنا یاہوا ہے وہ ہر گز ہ گز جمہوری نہیں کہا جا سکتا، اپوزیشن لیڈر جس پر بدعنوانی کے مقدمات چل رہے ہیں اور جیل میں ہے پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا سربراہ بنا دیاجاتا ہے، جو اپنے پروڈکشن آرڈر خود جاری کرنے کا مجاز ہے، جو ایماندار وزراءکو طلب کر سکتا ہے، کیا اس سارے عمل کو جمہوریت کہا جا سکتا ہے۔۔۔؟ جمہوریت سے مراد تو وہ سیاسی عمل ہے جو جمہور یعنی عوام کو طاقتور کرنے کے لئے کئے جائیں ،آصف زرداری سے یہ سوال بھی کیا جا سکتاہے کہ کیا سینیٹ کے انتخابات میں تمام جوڑ توڑ، مینڈیٹ کی خریدو فروخت، اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے لئے کی جانے والی کوششیں جمہور کے لئے کی گئیں۔۔۔؟یا وہ خود کو طاقتور ور بنانے کے لئے کی گئیں۔۔۔؟گزشتہ دو سالوں میں اب تک تمام سیاسی عمل کا اگر بنظر غور مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے، کہ اس سیاسی عمل میں عوام تو کہیں ہیں ہی نہیں۔وہ چاہے سینیٹ ہو یا قومی اسمبلی یا پھر حکومتی اقدام ، کوئی ایک ایسا کام نظر نہیں آتا جس سے یہ تآثر ملتا ہو کہ یہ عوام کو طاقتور کرنے کے لئے اٹھایا گیا یا کیا گیا ہے۔یہ جو کچھ ہو رہا ہے اشرافیہ کے لئے ہو رہا ہے، ان کے مابین ایڈجسٹ منٹس ہو رہی ہیں۔وہ چاہے رضا ربانی ہوں یا کوئی بھی دوسرا شخص ان کے چیئرمیں بننے سے عام آدمی کی زندگی میں کیا بدلاو¿ آئے گا، کیا حکومتی افراد میں اتنی سکت یا جر ا ءت ہوتی ہے کہ وہ عوام دشمن فیصلوں کے خلاف فیصلہ دے پائیں۔۔۔؟ یا ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر پائیں۔۔۔؟ جناب فخر امام کی مثال ہمارے سامنے ہے انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز سنی تو ان کی سپیکر شپ کے خلاف عدم اعتماد لا کر ان کو قومی اسمبلی کی سپیکر شپ سے فارغ کر دیا گیا۔
جیسا کہ ہم انہی صفحات پر پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ اگر اس وقت کوئی عوامی اور قومی سیاست کر رہا ہے تووہ تحریک انصاف ہے، اس کی قیادت نے نہ صرف عوام میں ایک سیاسی فکری انقلاب پیدا کیا ہے، جس کی اس وقت اشد ضرورت تھی، ہم یہ بات تواتر سے کرتے آ رہے ہیں ، کہ اب انقلاب کے معنی بدل گئے ہیں اب انقلاب سے مراد فرانس کلا انقلاب نہیں ، ایک ایسے ملک میں جس کی معیشت قرضوں پر کھڑی ہو ایسے ملک میں تو اقتصادیات پر مبنی ہوتا ہوا انقلاب برپا کیا ہی نہیں جا سکتا، اب انقلاب سے مراد ”ایران کا انقلاب“ ہے، ایک ”فکری انقلاب“ لہٰذا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جناب عمران خان نے اس قوم کو یہ تو سمجھا دیا ہے کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور ان پر ڈاکہ زنی کیسے کی جاتی ہے، انتخابات کیسے چوری ہوتے رہے ہیں، یہ سیاسی عمل جو اس وقت ملک میں جاری و ساری ہے، کیا جمہوری ہے، کیا حکمرانوں کے درمیان ایڈ جسٹ منٹس جمہوریت ہے۔۔۔؟ ہمیں عام آدمی کی زبان سے یہ سن کر گونا گوں مسرت ہوتی ہے کہ اب وہ اس بات سے آگاہ ہے کہ ہر وہ اقدام جس میں اس کی بھلائی اور فلاح کی بات نہ ہو وہ جمہوری نہیں ہو سکتا، اب وہ یہ برملا کہتا ہے کہ اب وہ ان حکمرانوں کا آلہ ءکار بننے کو تیار نہیں۔
مگر تشویش ناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی دیگر عوامی اور نظریاتی قوتیں جیسے پی پی پی اور نیشنل عوامی پارٹی اپنے کردار سے منحرف نظر آتی ہیں، وہ اب ”اقتدار کی سیاست“ کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کا ووٹ بنک کم ہوتا جا رہا ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ اس وقت تحریک انصاف کے ہم رکاب ہوتےں، احتساب کے عمل کی تمام رکاوٹوں کو دور کرنے حکومت کی ممد و معاون ہوتیں،بلکہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کا گند خود صاف کرتیں، منی لانڈرنگ، بد عنوانی اور کرپشن میں ملوث لوگوں کو خود احتساب کے حوالے کرتیں، مگر یہاں سیاست شخصی اقتدار کے لئے کی جاتی ہے، الیکشن پر لگائے گئے اخراجات کو ایک سو سے ضرب دے کر واپس لانے کے لئے کی جاتی ہے۔ کوئی اپوزیشن سے پوچھ سکتا ہے کہ اگر عمراان خان سو دنوں میں کچھ نہیں کر سکا تو اپوزیشن نے عوامی فلاح کے لئے اب تک کیا کیا ہے۔۔۔؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں چاہے وہ پارلیمنٹ میں ہوں یا پارلیمنٹ سے باہر، ایسے سیاسی عمل کو اپنائیں جو اس ملک کے جمہور کو تقویت پہنچانے کا باعث بنے نہ کہ اشرافیہ کو فوائد پہنچانے کا موجب۔ وگرنہ وہ دن دور نہیں جب ان کے ووٹر اپنے لئے الیکشن کمیشن سے امیدواروں کے ساتھ ساتھ تمام امیدواروں کو رد کرنے کا آپشن بھی مانگیں گے، اور زیادہ مہریں اسی خانے پر لگیں گی۔ہم نہیں سمجھتے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں کے ہوتے ہوئے کوئی نیا سیاسی فریم ورک بن پائے گا کیونکہ قومی سیاست تو میرے مقدمات، پروڈکشن آرڈر اور پروٹوکول کے گرد ہی گھومتی ہے۔

About Daily City Press

Check Also

iftkhar bhutta

بلاول اور مریم کا مزاہمتی بیانیہ اور ارباب اقتدار کا فکری فہم!

بلاول اور مریم کا مزاہمتی بیانیہ اور ارباب اقتدار کا فکری فہم! افتخار بھٹہ پاکستان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *