Home / Columns / ” ڈی جی آئی ایس پی آر کی لندن میں پریس کانفرنس۔۔۔؟ “

” ڈی جی آئی ایس پی آر کی لندن میں پریس کانفرنس۔۔۔؟ “

haroon adeem logo

صورتحال
ہارون عدیم
” ڈی جی آئی ایس پی آر کی لندن میں پریس کانفرنس۔۔۔؟ “
عسکری ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے لندن میں پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی2018کے عام انتخابات ملکی تاریخ کے شفاف ترین اور آزادانہ انتخاب تھے،افواج پاکستان نے اس امر کو یقینی بنایا کہ ہر شخص اپنی مرضی سے جسے چاہے ووٹ دے، کسی سے بھی نہیں کہا گیا کہ کس کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں،انہوںنے کہا کہ پاک فوج پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے مگر کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا، اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لے آئے،جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ حالیہ کرپشن کے خلاف مہم اور احتسابی عمل سے پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں،فوج کا کام ملکی سلامتی کو یقینی بناناہے اور فوج داخلی اور مشرقی و مغربی محاذوں پر مصروف عمل ہے اور اپنی ذمہ داریاں نباہ رہی ہے،انہوں نے کہا کہ فوج کا احتساب کا اپنا میکنزم ہے، جو کثیر الجہتی ہے اور سب سے قوی اور سخت ہے،جس سے کوئی بھی ماورا نہیں، اگر پورے ملک میں فوجی احتساب کا نظام لاگو کر دیا جائے تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے،ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج سی پیک کا محافظ ادارہ ہے، سی پیک سے پاکستان کی معیشت مضبوط و مستحکم ہو گی ،انہوں نے پاکستانی اخبار نویسوں کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ دیو مالائی کہانی ہے،بھارت جھوٹ بول رہا ہے، اگر وہ کوئی جارحیت کرے گا تو پاکستان 10گناہ زیادہ طاقت سے جواب دے گا،ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت آگے بڑھنے کا راستہ ہے،پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل کے لئے کام کرتے رہیں گے، انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن یہ اختلافات اخلاقیات کے دائرے میں ہونے چاہئیں،کسی کو بھی دوسرے کی تضحیک یاذاتیات پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اسے حسن اتفاق کہا جائے یا ایک مربوط حکمت عملی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے سربراہ کا بیان ضمنی الیکشن سے ایک روز پہلے آیا، اور پاکستانی میڈیا نے اس طویل میڈیا ٹاک میں سے دھاندلی کے بارے میں فوج کے اس بیانیہ کو فوکس کیا کہ جولائی میں ہونے والے عام انتخابات ملکی تاریخ کے شفاف ترین اور آزادانہ انتخاب تھے۔ ضمنی انتخابات کے تازہ ترین غیر حتمی نتائج کے مطابق لاہور سے نیشنل اسمبلی کی دونوں سیٹیں ن لیگ لے اڑی ہے، اور شاہد خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق کامیاب ہو گئے ہیں، اب نیا سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر تو ”خدائی مخلوق “ نے جولائی کے عام انتخابات میں دھاندلی کروائی تھی تو پھر ضمنی الیکشن میں ن لیگ یہ سیٹیں کیوں جیت گئی۔۔۔؟ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ مطالبہ غلط نہیں کہ دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے دھاندلی کے ثبوت تو سامنے لائیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن نے جو کہ متحد ہونے کی ہنوز کوششیں کر رہی ہے دھاندلی کا شور اس لئے مچا رکھا تھا کہ وہ ضمنی الیکشن میں ووٹروں کا جذباتی بلیک میل کر سکے،قرائن بتا رہے ہیں کہ اب دھاندلی کا شور مدھم ہو گا، ایک اور اہم بات جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی وہ جمہوریت کے تسلسل کے لئے پاک فوج کا عزم مصمم ہے، جو سازشی تھیوریوں کے قلع قمع کے لئے کافی ہے وگرنہ گزشتہ سات دنوں سے یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت نومبر میں جانے والی ہے، یہی بات رانا مشہود سے کہلوائی گئی تھی کہ عسکری اداروں سے میاں شہباز شریف کی ڈیل ہو گئی ہے ضمنی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں ملنے کے بعد ن لیگ کو حکومت سازی کا موقع دیا جائے گا۔رانا مشہود نے یہ بھی کہاتھا کہ پی ٹی آئی کو لانے والے اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ جنہیں وہ گھوڑا سمجھے تھے تو خچر نکلے اور یہ کہ ان اداروں کے تھنک ٹینک اس نتیجہ پر بھی پہنچے ہیں کہ شہباز شریف کو وزیر اعظم نہ بنا کر غلطی کی گئی ہے۔
ن لیگ اور حواریوں کی جانب سے اک تسلسل سے شد و مد کے ساتھ پاک فوج پر دھاندلی کا الزام لگانے پر عسکری ترجمان نے جس رد عمل کا اظہار کیا ہے اسے ایک وارننگ ہی سمجھنا چاہئے،کیونکہ جنرل آصف غفور کا یہ کہنا کہ ”اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر یہ اختلاف رائے اخلاقیات کے دائرے میں ہونے چاہئیں،کسی کو بھی دوسرے کی تضحیک یا ذاتیات پر حملے کی ااجازت نہیں دی جا سکتی“، امید ہے وہ سب لوگ جو فوج اور فوجی قیادت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جمہوریت دشمنی تک کے القاب دیتے تھکتے نہیں، کبھی انہیں نا دیدہ ہاتھ کہا جاتاہے تو کبھی خدائی مخلوق، ”سازشی“ تو تواتر کے ساتھ کہا جاتا ہے،انہیں ہوشیار اور خبر دار ہو جانا چاہئے کہ اب انہیں اس عمل کو جاری رکھنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔
سب سے اہم بات ڈی جی آئی ایس پی آر نے سی پیک کے بارے میں کی ہے، ان کا یہ کہنا کہ ”پاک فوج سی پیک کا محافظ ادارہ ہے جس سے پاکستانی معیشت مستحکم اور مضبوط ہو گی ،“ بہت سے ماضی کے در کھولتا ہے،قارئین کو یاد ہو گا کہ چین کی لبریشن آرمی کی 89ویں سالگرہ کی ایک تقریب جو کہ چینی سفارتخانے اسلام آباد میں منعقد کی گئی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا تھاکہ پاک چین اقتصادی راہداری کی سکیورٹی پاکستان آرمی کی قومی ذمہ داری ہے، سی پیک ایک گیم چینجر ہے، مقررہ مدت میں اس کی تکمیل اور بلا رکاوٹ کامیابی کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔سی پیک سے کروڑوں انسانوں کی زندگی میں بہتری آئے گی،انہوں نے چینی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ بطور آرمی چیف ان کو یقین دلاتے ہیں کہ سی پیک کی حفاظت ان کی قومی ذمہ داری ہے، جسے بلا رکاوٹ یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم، کرپشن اور دہشتگردی کا باہمی گٹھ جوڑ ،توڑ کے دم لیں گے،ان سے پہلے پاکستان میں تعینات چینی ملٹری اتاشی جنرل کی ہوا جونگ نے خیر مقدمی کلمات میں انہوں نے جنرل راحیل شریف کی جانب سے سی پیک کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کے عزم کو سراہا،اور امن کے فروغ اور افغانستان سے تعلقات کے لئے ان کے کردار کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان دوستانہ تعلقات اور تعاون کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
چینی ملٹری اتاشی جنرل کی ہوا جونگ کی جانب سے جنرل راحیل شریف کی تعریف اور جنرل راحیل شریف کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب سی پیک کو عسکری قیادت اور وزیر اعظم کے درمیان اصل وجہ تنازع قرار دیا جا رہا تھا۔ہم یہ بات پہلے بھی کر چکے ہیں کہ
”آج چین افواج پاکستان سے سی پیک منصوبے کی ضمانت مانگتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ سی پیک کی گورننس یا انتظامی کنٹرول سول انتظامیہ کی بجائے پاکستان آرمی کے پاس ہو، جب صدر پاکستان ممنون حسین چین گئے تو ان کو یہ پیغام دیا گیا، انہیں بتایا گیا کہ وہ نواز انتظامیہ کی سی پیک کی گورننس پر خوش نہیں، اس کو بے شمار وزارتوں اور اداروں میں بانٹ دیا گیا ہے، جس سے چین کے لئے اس منصوبے کے لئے جس رفتار کی ضرورت تھی وہ ابھی تک حاصل نہیں ہو رہی، اور نہ ہی وہ نتائج مل رہے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے سی پیک کا انتظامی کنٹرول عسکری قیادت کو سونپنے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر وزیر اعظم نواز شریف کسی طور آمدہ نہیں، ایک مو¿قر انگریزی روزنامے کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف میں سب سے بڑی وجہ تنازع یہی ہے، رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کا لاہور میں قیام بھی اسی کا شاخسانہ تھا۔“
سی پیک سمیت داخلی استحکام ، ملکی دفاع، اور معیشت کی بہتری میں عسکری ترجمان نے عسکری پالیسی بیان کر دی ہے،اسے ملکی داخلی و خارجی استحکام کا روڈ میپ کہا جا سکتا ہے، یہی پی ٹی آئی حکومت کی پالیسی ہے،مستقبل میں اپوزیشن کوجنرل آصف غفور کی کہی باتوں کو روڈ میپ بنا کر اپنی سیاست کاری ترتیب دینا ہوگی، اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ لاہور کی دو سیٹیں جیت کر اسکے مردہ گھوڑے میں جان پڑ جائے گی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔

About Daily City Press

Check Also

waseem butt

گرمی سے بچنا ہے تو درخت لگائیں

وسیم بٹ ہائیڈل برگ گرمی سے بچنا ہے تو درخت لگائیں اس مرتبہ یورپ کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *