Home / Columns / ” عسکری اداروں سے ن لیگی مخاصمت۔۔۔۔؟“

” عسکری اداروں سے ن لیگی مخاصمت۔۔۔۔؟“

 

صورتحال
ہارون عدیم
haroon-adeemجب ن لیگی قیادت وزیراعظم پاکستان عمران خان کو ”سلیکٹڈ“ وزیراعظم کہتے ہیں تو وہ در اصل یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عمران خان کو عدلیہ اور افواج پاکستان مل کر لاائے ہیں، وہ عوامی سونامیز جو عمران خان کے جلسوں میں 18اٹھارہ گھنٹوں میں دور دراز کے جلسوں میں پہنچ جاتے تھے افواج پاکستان کے جوان ہوتے تھے، اسی طرح ووٹنگ بھی فیئر نہیں ہوئی، یہ سلسلہ2018کے انتخاب کے نتائج کے دوران ہی ن لیگی بیانیہ بن گیا تھا،مریم نواز اور بلاول بھٹو کا حالیہ بیانیہ بھی افواج پاکستان کو دنام کرنے اور در حقیقت افواج پاکستان ، عدلیہ اور پی ٹی آئی کو لڑا نے کی سازش ہے اور ساازش کے سوا کچھ نہیں،کیونکہ پاکستانی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کہ افواج، عدلیہ اور انتظامیہ ایک پیج پر ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ نواز حکومت ہی وہ واحد حکومت ہے جس کے دور اقتدار میں ایوان صدر، چیف جسٹس آف پاکستان اور عسکری اداروں کو نواز حکومت کے خلاف سازشوں کا گڑھ قرار دیا جاتارہا ہے،ان کے لگائے گئے چیف آف آرمی سٹاف ان کے خلاف ہو جاتے ہیں، جنرل آصف نواز جنجوعہ کی متنازع موت ابھی تک معمہ ہے، جنرل وحید کاکڑ نے وزیراعظم نواز شریف کو اپنی چھڑ ی کے اشارے سے بٹھانے کی کوشش کی اور جب وزیر اعظم یہ اشارہ نہ سمجھ پائے تو انہیں (دروغ بر گردن راوی) دھکا دے کر بیٹھایا گیا اور چھڑی کی نوک پر استعیفے پردستخط لئے گئے، جنرل جہانگیر کرامت خاموشی سے مستعفی ہو گئے، مگر جنرل پرویز مشرف نے جہانگیر کرامت بننے سے انکار کر دیا۔ اگر بات یہاں تک ہی ختم ہو جاتی تو کہا جا سکتا تھا کہ ن لیگی قیادت نے وقت اور ٹھوکروں سے کافی کچھ سیکھا ہے،مگر میاں نواز شریف ابھی تک اپنی پرانی روش پر ثابت قدمی سے گامزن ہیں۔
حنواز شریف کے آخری دور حکومت میں اس عمل کا آغاز سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر پر قاتلانہ حملے سے ہوا،جب ایک حالت جنگ میں رہنے والے اخبار اور چینل نے اس قاتلانہ حملہ کا ذمہ دار آئی ایس آئی کو ٹھہرا دیا، اور اعلان کیا کہ حکمران ”قلم“ والوں کے ساتھ ہیں، غلیل والوں کے ساتھ نہیں۔ پھر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر کو دھرنوں کا ماسٹر مائینڈ اور سہولت کا رٹھہرادیا، انہوں نے کہاتھا کہ لندن پلان کے تحت افواج پاکستان کے یہ جنرل ن لیگ کی حکومت گرانے کی سازشیں کرتے رہے ۔یاد رہے کہ اس وقت جنرل ظہیر حاضر سروس تھے،اور وزیر دفاع ان پریہ الزام پہلے بھی لگا چکے تھے ،بلکہ پہلے بیان میں تو سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا بھی شامل تھے ،جبکہ نجکاری کمیشن کے سربراہ محمد زبیر بھی جنرل پاشا پر مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کے جلسے کو کامیاب بنانے والے اور پی ٹی آئی کو زندہ کرنےکے ذمہ دار ٹھہرا چکے ہیں، 2015میںپنجاب کے حاکم اعلی وزیر اعظم کے برادر خوردشہباز شریف بھی وفاقی حکومت سے اس بات کا تقاضہ کرتے نظر آئے کہ ایک پارلیمانی کمیشن بنایا جائے جو اس بات کا کھوج لگائے کہ دھرنوں کے پیچھے کون تھا، اس کی فنڈنگ کون کر رہا تھا۔مگر دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایسی خبریں نشر اور شائع کرنے سے اجتناب برتنا چاہئے کہ چند افسر مل کر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ہٹانا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت جنرل راحیل شریف کے ساتھ ہے،نہ صرف حکومت بلکہ قوم کوبھی ان پر بھرپور اعتماد ہے۔
میڈیا میں ایسی خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ گزشتہ اکتوبر میں وزیر اعظم کو ان کے عقابوں نے منوا لیا تھا کہ وہ جنرل راحیل کو نکال باہر کریں، جس کا ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح ملک میں مارشل لاءلگ جائے۔ پھروفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ چند افسر مل کر آرمی چیف کو ہٹانا چاہ رہے تھے کی کوئی حقیقت نہیں، حکومت آرمی چیف کے ساتھ ہے ایسی خبروں کو نہ تو آگے بڑھانا چاہئے اور نہ ہی ان پر تبصرے کرنا چاہئیں ،ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا تھا۔اگر افواج پاکستان میں کوئی ایسی سازش پنپ رہی تھی یا ایسا ہو یہ سوچا جا رہا تھاتو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سازش کے پیچھے کون تھا۔۔۔؟ اگر خدا نہ کرے کہ ایسی کوئی گھناو¿نی ملک دشمن سازش بن رہی تھی ، یا وہ گروہ جو قومی وسائل پر قابض ہیںایسا چاہتا تھے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سازش کا فائدہ کسے پہنچتا۔۔۔؟کون ہے جو اقتدار پر اپنی گرفت آہنی کرنا چاہتا ہے یا ضرب عضب اور ملک میں دہشتگردی کے خلاف جنگ، اقتصادی اور معاشی ضرب عضب کو ختم کرنا چاہتا ہے۔۔۔؟ قومی روّیے کے عین مطابق ہم اس کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرا سکتے ہیں ، مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ پنجاب کی حکومت اور وفاق افواج پاکستان کو کیوں متنازع بنا رہی ہیں۔جنرل راحیل شریف کو کیوں اس میں ملوث کر رہی ہیں۔۔۔؟
یہ بات ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا حالیہ بیان بھی کم سنگین نہیں، انہوں نے جہاں عسکری اداروں کو سیاسی جماعتوں کے خلاف مسلسل سازشیں کرنے والا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہاں سیاسی عمل اور سول انتظامی امور میں مداخلت کار بھی ٹھہرایا ہے۔ان کا یہ کہنا کہ سیاسی جماعت کے دفتروں پر تالے لگانا اور ان کو مسمار کرنا رینجرز کا کام نہیں۔صاف ظاہر کرتا ہے کہ الطاف حسین کی حالیہ ملک دشمن تقریر کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے سرکاری اراضی پر قائم دفاتر مسمار کئے جانے کو رینجرز کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ تو بھلا ہو سندھ کے وزیر اعلیٰ کا اور سندھ پولیس کے ڈی آئی جی کا کہ جنہوں نے رانا ثناءاللہ کی تصحیح یہ کہہ کر کر دی کہ یہ دفاتر ان کے احکامت پر مسمار اور بند کئے جا رہے ہیں، اور یہ کہ پولیس یہ آپریشن خود کر رہی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رانا ثناءاللہ کو یہ بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔۔۔؟انہوں نے پہلے اس بات کو یقینی کیوں نہیں بنایا کہ وہ یہ پڑتال کر لیں کہ ایم کیو ایم کے دفاتر کون مسمار کر رہا ہے۔۔۔؟
رانا ثناءاللہ کے اس بیان سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ ہماری عسکری قیادت اور حکمرانوں کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی ہے، ہمارے وزیر اعظم جب سے وزیراعظم کی مسند پر براجمان ہوئے ہماری مراد پہلی باری سے ہے ان کے اور افواج پاکستان کے درمیان ہمیشہ ایک تناو¿ اور تصادم برقرار رہا ہے، انہوں نے جنرل علی قلی خان کو بائی پاس کر کے جنرل جہانگیر کرامت کو آرمی چیف بنایا ،مگر جب جنرل جہانگیر کرامت نے نیشنل سکیورٹی کونسل بنانے کی بات کی ان سے استعیفیٰ مانگ لیا، جنرل آصف جنجوعہ کی ناگہانی موت کے بارے میں اس وقت کے اخبارات خدشات و الزامات سے بھرے پڑے ہیں۔مگر خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب جنرل وحید کاکڑ نے اس وقت کے وزیر اعظم کو دھکا دے کر بٹھایا اور اپنی اسٹک کی نوک پرمستعفی ہونے پر مجبور کیا۔اس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر چند سینئیر جرنیلوں کو بائی پاس کر کے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا، مگر پھر ان سے بھی ان کی ٹھن گئی، اور ان کے خلاف خود انہوں نے سازش کی، مگر اس بار بھی یہ سازش ان کو الٹی پڑ گئی، ہم اس سازش اور تصادم کو تفصیل سے انہیں صفحات پر بیان کر چکے ہیں ۔جو بات ہم کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ افواج پاکستان کے بارے میں شریف خاندان کا کینہ اونٹ کا کینہ ہے۔وہ آرمی چیف کو نائب قاصد کی طرح اپنے حضور کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔مگر یہ کسی بھی وقت ممکن نہیں ہو سکا اور نہ ہو سکتا ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت جو بھی شخص ہو چاہے وفاقی وزیرہوں یا رانا ثناءاللہ اورشہباز شریف اور ان کے لیڈر، جو بھی جنرل راحیل شریف اور افواج پاکستان کو متنازعہ اور سیاسی بنانے کی سازش کرتا ہے وہ الطاف حسین جتنا ہی بڑا مجرم ہے، صرف یہی نہیں اب قومی بیانیہ(نیرےٹیو)بھی بدل گیا ہے وہ لوگ جوافواج پاکستان پر کڑی سے کڑی تنقید کرتے، انہیں کرائے کے قاتل اور اپنے ہی ملک کو فتح کرنے والی فوج قرار دیتے تھے وہ بھی اس وقت کی افواج کے لئے تعریف وتوصیف کرتے دکھائی دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف ایک نیا پاکستان بنا رہے ہیں ،قائد اعظم کا پاکستان۔کیا یہ ممکن ہے کہ ن لیگی حکومتیں اس نئے پاکستان کی تعمیر میں افواج پاکستان کی سرپرستی کریں اور پاکستان کو مسلکی تفریق، دہشتگردی اور کرپشن سے پاک پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔۔۔؟

About Daily City Press

Check Also

City-Press-1

۔۔۔تعلیم کی کہانی

تعلیم کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنایت عنایت علی دنیانئی دنیاؤں کی تلاش میں ہے۔ زمین جیسے دیگرسیارے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *