Home / Columns / ” حکومت اور اپوزیشن کی جنگ۔۔۔؟ “

” حکومت اور اپوزیشن کی جنگ۔۔۔؟ “

صورتحال
ہارون عدیم
” حکومت اور اپوزیشن کی جنگ۔۔۔؟ “
سانحہ ءساہیوال اسقدر اندوہناک اور جان لیوا تھا کہ اس نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی چھین لی، ہمارے اعصاب کو نارمل ہوتے وقت لگے گا، ہم ہی نہیں پوری قوم کا یہی حال ہے، تین معصوم بچوں کے سامنے ان کی بڑی بہن اور ماں باپ کو گولیوں سے بھون دیا گیا، ان نہتے شہریوں پر گولیاں برسانے کا حکم کس نے دیا، کون سے قانون نے انہیں اس کی اجازت دی کہ وہ خود ہی مدعی اور منصف بھی بن جائیں ، جے آئی ٹی کی جانب سے اس پر سے ابھی تک پردہ نہیں اٹھایا گیا، اب تک کی رپورٹ کے مطابق گولیاں چلانے والے اہلکاروں کی نشاندہی تو ہو گئی ہے مگر اس آپریشن کے انچارج کو نامزد نہیں کیا گیا، وہ پنجاب حکومت جو اس سانحہ کی پہلے وکالت کر رہی تھی اب جے آئی ٹی کی رپورٹ کو رد کر رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کو تیار ہیں،ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن چاہے تو جوڈیشل کمیشن کے لئے اپنے لوگ بھی نامزد کر سکتی ہے،یہ انسانی المیہ ہے اسے مثال بنائیں گے،ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے اپوزیشن کی جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن کو یہ دعوت دینا کہ اگر وہ چاہے تو جوڈیشل کمیشن کیلئے اپنے لوگ بھی نامزد کر سکتی ہے، نیک نیتی پر مبنی ہے، اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ انصاف ہونے کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے، ان کی یہ کوشش (اگر بار آور ہو گئی اور اپوزیشن مان گئی)قومی یک جہتی کی جانب سفر کا آغاز بھی ہو گی، کیونکہ اس وقت ملکی میڈیا بھی دو دھڑوں میں بٹ چکا ہے، ایک اپوزیشن کی عینک سے حالات و واقعات کو دیکھ اور بیان کر رہے ہیں جبکہ دوسرا گروہ حکومت کی خورد بین سے جرم کی نشاندہی کر رہا ہے،گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا، انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو ”سلیکٹڈوزیر اعظم “ کہہ کر مطالبہ کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پر آپ نے مجھ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا آج آپ اور وزیر اعلیٰ پنجاب مستعفی ہوں۔
دوسری جانب سانحہ ساہیوال کا سانحہ ماڈل ٹاو¿ن سے موازنہ بھی کر رہے ہیں،خود سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کے روح رواں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کو مخااطب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ انہی کے مطالبے پر 24گھنٹے کے اندر اندر رانا ثناءاللہ مستعفی ہو گئے تھے، مگر تجزیہ کاروں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ان ہر دو سانحات کا تقابل جائزہ نہیں لیا جاسکتا، کیونکہ دونوں کی نوعیت مختلف ہے، سانحہ ماڈل ٹاو¿ن ایک مربوط حکمت عملی کی بنا پر وقوع پذیر ہوا جس کی نگرانی اس وقت کے پنجاب کے وزیر قانون اور وزیر اعلیٰ خود کر رہے تھے،وہاں بھی نہتے مرد وزن کو سیدھی سیدھی گولیاں ماری گئیں ،مگر کسی بھی ملوث افسر کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا، نجفی کمیشن کی رپورٹ کو دبا لیا گیا، جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بھی داخل دفتر کر دیا گیا، جبکہ سانحہ ساہیوال سے صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں ہی بے خبر تھیں، گولی چلانے کا حکم دینے والے کی نشاندہی ابھی تک ہونا باقی ہے، سانحہ ماڈل ٹاو¿ن میں اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور آج کے اپوزیشن لیڈر کے ملوث ہونے کے تمام تر ثبوت موجود ہیں جبکہ اپوزیشن اور اس کے حواری بیانات کی بناءپر وزیر اعظم کو ”نا اہلی “کی بنیاد پر مستعفی ہونے کا تقاضہ کر رہے ہیں، یہ باتیں ریکارڈ پر ہیں کہ اپوزیشن کے پاس وزیر اعظم پاکستان سے مستعفی ہونے کی صرف اور صرف ایک ہی عزر لنگ ہے کہ چونکہ عمران خان نے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پر شہباز شریف سے استیفےٰ مانگا تھا اس لئے اب وہ بھی سانحہ ساہیوال پر مستعفی ہو جائیں۔
ہم یہ بات ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ن لیگ اپنے تمام تر وسائل اور کوششوں کے باوجود عمران خان کو ”نفرت کی علامت بنانے میں بری طرح نا کام رہی ہے، انہوں نے نہ تو اپنا سیاست کاری کا فریم ورک ہی بدلا ہے اور نہ ہی سیاست کاری ۔ان کی سیاست کاری کا یہ انداز ان کی کمزوری بن کر رہ گیا ہے، انہیں نفرت کی علامت کے لئے ہمیشہ ایک شخصیت چاہئے ہوتی ہے، پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کی پہلی نفرت کی علامت بی بی شہید تھیں، پھر صدرغلام اسحاق نے بی بی شہید کی جگہ لے لی، بعد میں جنرل پرویز مشرف اور آصف زرداری نے ن لیگ کو سیاست میں زندہ رہنے کے لئے تختہ مشق بن کر تیر اندازی کا موقع فراہم کیا، گزشتہ چار سالہ سیاست کاری کا اگر جائزہ لیا جائے تو عمران خان نے ن لیگ کوان کے اپنے ہی دام میں گرفتار کر لیا اور انہیں نفرت کی علامت بنا کر رکھ دیا، مگر ن لیگ تمام تر کوششوں کے باوجود عمران خان کو نفرت کی علامت نہیں بنا سکی، جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان گزرے پانچ مہینوں میں نہ تو عمران خان پر ہی کوئی کرپشن کا الزام لگا ہے اور نہ ہی اس کی کابینہ کے کسی فرد پر، دوسری اہم بات جو ن لیگ اور ن لگی جن شہباز شریف کو یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ وہ صرف عمران خان کو ہی نشانہ نہیں بنا رہے، ان کے نشانے پر عدلیہ اور عسکری ادارے بھی ہیں، ووٹر اور عوام کو یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ کس کا سچا مانیں، آخر عدلیہ اور فوج ہی نواز شریف اور ان کی جماعت کے مخالف کیوں ہیں، وہ کیوں نواز شریف کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے۔۔۔؟آخر عمران خان میں کیا ہے یا اسے کون سے سرخاب کے پر لگ لگئے ہیں۔۔۔؟
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سانحہ ساہیوال پر سیاست چمکانا مقتولین کی توہین کے مصداق ہے، یہ بات ہضم ہونا بڑی مشکل ہے کہ اپوزیشن سانحہ ساہیوال کو جواز بنا کر صرف اس لئے وزیر اعظم پاکستان سے اسستعیفےٰ مانگے کہ چونکہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے عمران خان نے شہباز شریف سے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اس لئے اب عمران خان بھی مستعفی ہو۔یقینا وفاقی اور پنجاب کی پی ٹی آئی حکومتوں کی جانب سے اپوزیشن کو پولیس ریفارمز کے لئے ہاتھ بڑھانے اور شراکت عمل پیدا کرنے کی دعوت ایک مستحسن عمل ہے، جسے اپوزیشن کو قبول کرتے ہوئے شراکت عمل کے ذریعے اس تصادم کی فضاءکو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔وگرنہ زعمران قیامت کی چال چل گیا ،وہ پاکستاان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا گیا، وہ تمام دوست ممالک جو ہماری خارجہ پالیسیوں کی بناءپر ہم سے ناراض تھے آج ہم رکاب اور مربی بن گئے ہیں، گزشتہ روز کو حکومتی منی بجٹ جسے حکومت ”اقتصادی اصلاحات قرار دے رہی ہے، نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے ملک کے طول وعرض سے ٹریڈرز، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں نے اس پیکج کو ملکی تاریخ کا سنگ میل قرار دیا ہے، اگر ان اصلاحات پر عمل درآمد ہو گیا، تو ہماری درآمدات میں سرعت سے اضافہ ہو گا، صنعت و حرفت ترقی کرے گی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے، جس کا فائدہ ملک و ملت کے ساتھ ساتھ عمراں خان کو ہی ملے گا نیک نامی صورت میں، اگر اپوزیشن اسی ڈگر پر قائم رہی تو گبر سنگھ پھر کہے گا ہی
”تمہارا کیا بنے گا کالیا۔۔۔؟“

About Daily City Press

Check Also

mudassar butt logo

اب خواب نہیں تعبیریں چاہئیں

اب خواب نہیں تعبیریں چاہئیں آواز پنجاب مدثر اقبال بٹ میرے مزاج کے لوگوں نے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *