Home / Columns / بھارتی جارحیت پر دنیا کو خاموش نہیں رہنا چاہیے

بھارتی جارحیت پر دنیا کو خاموش نہیں رہنا چاہیے

kashmir city press

حنیف انجم
خیالات
بھارتی جارحیت پر دنیا کو خاموش نہیں رہنا چاہیے
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کے اعلان پر بعد دنیا بھر میں رد عمل سامنے آیا ہے جس مین بھارت کے اس فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ ادھر پاکستان میں بھی غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور پاکستان کے کئی شہروں میں مظاہرے کئے گئے جن میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ان مظاہروں میں کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کی گئی اور بھارتی فیصلے کی مذمت کی گئی۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ پر بھی یہ فیصلہ موضوع بحث ہے جب کہ سوشل میڈیا پر بھی جنگ کا سماں ہے۔ اس فیصلے سے لائن آف کنٹرول کی پاکستان سائیڈ پر رہنے والے کشمیریوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ علاقے میں پھر کوئی چھڑپ نہ ہو جائے۔
جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اس فیصلے کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے بھارت کو تنبیہ کی ہے کہ وہ کسی بھی ایڈوینچر سے باز رہے اور یہ کہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور اس طرح کے فیصلوں سے اس کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیری اس فیصلے کو کسی صورت بھی تسلیم نہیں کریں گے اور یہ کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کے فریق کے طور پر اس غیر قانونی اقدام کے خلاف ہر ممکنہ قدم اٹھائے گا۔ ادھر آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر نے بھی اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس فیصلے کو کشمیر تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا اور کہا کہ بھارت کشمیریوں کے حقوق سلب کر رہا ہے۔ آزادکشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار عتیق کا بھی کہنا ہے کہ بھارت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر ایک بار پھرنیوکلیئر فلیش پوائنٹ بن گیا ہے: اس بات کا قومی امکان ہے کہ بھارت کوئی مس ایڈونچر کرے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بہت خطرناک ہوگا کیونکہ دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ ایسے مرحلے پر بھارتی قیادت کو دانشمندی کا ثبوت دینا چاہیے اور امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ پاکستان سے بہتر تعلقات کی صورت میں بھارت کو سی پیک کا حصہ بنایا جا سکتا ہے اور اس کو وسطی ایشیا تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ اس سے بھارت اور خطے دونوں کو فائدہ ہے لیکن بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے اور کشمیر کے اسٹیٹس کو تبدیل کر کے وہاں کشمیریوں کی نسل کشی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور ان کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ جس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور کشمیری اس کی بھر پور مزاحمت کریں گے۔“انہوں نے بھارت کے زیرِ اتنظام کشمیر میں مزید فوج بھیجنے کی بھی منطق پر سوال اٹھائے۔’کشمیر میں سات لاکھ فوج پہلے ہی موجود ہے۔ تیس سے چالیس ہزار ابھی بھیجی گئی ہے جب کہ مجموعی طور پر بھارت ایک لاکھ اور فوجی بھیجنا چاہ رہا ہے۔ اس کا مقصد وہاں تیس سے چالیس لاکھ لوگوں کو آباد کر کے کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ جس کی ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔
جبکہ دوسری جانب اس بھارتی فیصلے پر کشمیری تنظیمیں بھی چراغ پا ہیں ،کشمیر کی خود مختاری کے لیے کام کرنے والی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اس فیصلے کو بھارت میں جمہوریت اور سیکولرازم کی موت سے تشبیہ دے رہی ہے۔ ادھرپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر توقیر گیلانی نے اس فیصلے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے میڈیا کو بتایا، ”آرٹیکل تین سو ستر کو منسوخ کرنے کا فیصلہ بھارتی جمہوریت اور سیکولرازم کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے ایک انتہا پسند فاشسٹ ہندو سیاسی جماعت نے بھارتی آئین کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ اس آرٹیکل کی بنیاد پر ہی بھارت کا کشمیر پر دعویٰ تھا۔ اس کو ختم کر کے نئی دہلی نے خود اپنے ہی دعوے کی تردید کر دی ہے۔ مودی سرکار کشمیری قیادت کو گرفتار کر کے اور عوام میں خوف پھیلا کر یہ فیصلہ مسلط کر رہی ہے۔ جس کے انتہائی خطرناک نتائج نکلیں گے۔ دنیا بھر کے کشمیری اس فیصلے کے خلاف بھر پور مزاحمت کریں گے۔بھارت کے اس فیصلے کے خلاف کشمیر کے مسلمان، سکھ، ہندو اور دوسرے تمام مذاہب کے کشمیری سراپا احتجاج ہیں خدشہ ہے کہ بھارت اگر اپنا یہ آمرانہ فیصلہ نہیں بدلتا تو پورا خطہ ایک خوفناک جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے انتہا پسندوں کو فائدہ ہوگا اور خطے کی کروڑوں عوام کو نقصان۔
بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو نیم خود مختار حیثیت دینے والے قانون آرٹیکل 370 کو ختم کر دیے جانے کے بعد خود بھارت میں اس اقدام کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔بھارتی سیاسی جماعتوں جن میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،” جموں اور کشمیر کو یک طرفہ فیصلے سے توڑنا، منتخب نمائندوں کو قید کرنا اور آئین کی خلاف ورزی کرنا قومی انضمام کے خلاف ہے۔ یہ قوم اس کے لوگوں سے بنی ہے نہ کہ زمین کے حصوں سے۔ ایگزیکیٹیو طاقت کا غلط استعمال ہماری قومی سلامتی پر بھاری پڑے گا۔ “بھارت کے سابق وزیر خزانہ چدم برم نے بھی بھارتی حکومت کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ”جموں اور کشمیر کے رہنماو¿ں کی نظر بندی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لیے تمام جمہوری عقائد کے خلاف چلی جائے گی۔۔“بھارتی صحافیوں جن میں سدھارتھ بھاٹیہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،”جموں اور کشمیر کے لوگ اتنی بڑی تبدیلی کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں ؟ ہم نہیں جانتے کیوں کہ ان پر خاموشی کی چادر ڈال دی گئی ہے۔ ان کی قسمت کا فیصلہ کیا جا رہا ہے لیکن انہیں بولنے کی اجازت نہیں ہے اور ہم اپنے آپ کو اب بھی جمہوریت کہتے ہیں۔“بھارتی صحافی نیہا ڈکشٹ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،” سوا کروڑ لوگوں کی قسمت کا فیصلہ ان پر کر فیو نافذ کر کے اور ان کے سیاسی رہنماو¿ں کو نظر بند کر کے کیا گیا۔ ہمیں ابھی بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔“بھارتی ٹوئٹر صارف رانجونا بینرجی نے اپنے ٹوئٹر اکاو¿نٹ پر لکھا،”وہ لوگ جو بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان پر خوش ہو رہے ہیں دراصل یہی لوگ بھارت کے لیے اصل خطرہ ہیں۔ نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ انسانیت کے لیے۔“صحافی سواتی چوتروردی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا،” قانون پر عمل درآمد ایک جمہوری حکومت کا اہم حصہ ہیں مودی کی حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ مودی کو اس کی بالکل فکر نہیں۔“ بھارتی آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان وزیراعظم نریندر مودی کے زیرِ صدارت پیر کو دہلی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا اور اس کا اعلان وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پارلیمان میں کیا۔ ان کے اعلان سے پہلے ہی بھارتی صدر اس بل پر دستخط کر چکے تھے یعنی کہ یہ تبدیلی قانونی درجہ حاصل کر چکی ہے۔
دوسر جانب پاکستانی پارلیمان میں بھی اس مسلے پر اجلاس جاری ہے جس مین بھارت کے اس فیصلے کے خلاف قومی یکجہتی کا اظہار سامنے آیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان کو اس مسلے کی سنگینی اور مستقبل میں ہونے والے اثرات کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر دنیا بھر میں پاکستانی ایمبیسیوں اور تھنک ٹینک کو متحرک کرنا چاہیے جبکہ پاکستان سے اپزیشن کی جماعتوں کے چیدہ چیدی راہنماوں جن کی دنیا میں موثر و¿واز ہے کے ساتھ حکومتی سنجیدہ ارکان کے وفود دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے تا کہ کشمیریوں کے حق میں موثر آواز بلند ہو اور بھارت کو اس اقدام کو واپس لینے پر مجبور ہونا پڑے۔

About Daily City Press

Check Also

waseem butt

کلائمٹ چینج کے شکار یورپ میں بڑھتی ہوئی گرمی

وسیم بٹ ہائیڈل برگ کلائمٹ چینج کے شکار یورپ میں بڑھتی ہوئی گرمی یورپ کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *