Breaking News
Home / Columns / ملک اور سماج کی ترقی کے لئے عورت کو بااختیار کیا جائے

ملک اور سماج کی ترقی کے لئے عورت کو بااختیار کیا جائے

Hanif anjum

حنیف انجم
ملک اور سماج کی ترقی کے لئے عورت کو بااختیار کیا جائے
یوں تو صنف نازک کو کائنات میں رنگوں سے تشبیح دی جاتی ہے جس کے دم سے ہے کائنات میں ہے بہار جیسے شعر بھی کہے جاتے ہیں لیکن اس رنگ کو بے رنگ کرنے میں بھی ہم اپنا ثانی نہیں رکھتے اس کا جو بنیادی حق ہے اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہیں لیکن جیسے جیسے معاشروں مین شعور بڑھتا گیا اور خواتیں کے حقوق کے لئے آوازیں بلند ہوتی گئی ویسے ویسے دنیا بھر میں خواتین نہ سرف معاشرئے کا فعال رکن بنتی گئیں بلکہ انہیں بنیادی حقوق بھی میسر آنے لگے لیکن اس تگ و تاز میں کئی صدیاں بیت گئیں جو ایک لمبی کہانی ہے ۔آج کی عورت ماضی کی عورت سے سے زیادہ مظبوط ،باشعور اور معاشرئے میں اپنا فعال کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔رواں صدی خواتین کے لئے بہت بہتر ثابت ہوئی اور گزشتہ ستر سالوں میں عورتوں کی زندگی میں تبدیلی آئی ہے اور وہ بڑی تعداد میں ورک فورس میں شامل ہورہی ہیں۔ آج کی عورت زیادہ بااختیار ہے، لیکن آج بھی اسے امتیازی سلوک، جنسی ہراسانی اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر آج ماضی کی نسبت خواتین کو زیادہ تحفظ ریاستی سطع پر مل رہا ہے قانون سازی ہو رہی ہے عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے یہ کوئی چھوٹی تبدیلی نہیں۔ عورت کی بااختیاری کے لیے تین چیزوں کو دیکھنا ہوگا،نمبرایک، انہیں اپنی عزت نفس کا کس حد تک احساس ہے،نمبردو، انہیں اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے کا کتنا حق ہے اورنمبرتین، وہ ایک منصفانہ نظام کے قیام کے لیے سماجی تبدیلی کی سمت متعین کرنے کا کتنا اختیار رکھتی ہیں۔
مختلف رپورٹ ،تجزیوں اور خواتیں کے حقوق اور اور اسے بااختیار مقام دلانے کی جد جہد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اسے حکومت کے سیاسی عزئم کی کمی کہیے یا اقتصادی منصوبہ بندی کے ماہرین کی نااہلی، پاکستان میں دیہی اور شہری علاقوں میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہوچکا ہے۔ ایک عام شہری تو اس سے متاثر ہوتا ہی ہے، لیکن عورتوں کو اس وجہ سے بہت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ شہری لڑکی کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ایک دیہی لڑکی کے مقابلے میں زیادہ ملتے ہیں۔ بڑے شہروں کی تعلیم یافتہ خواتین کو دیہی خواتین کے مقابلے میں زیادہ خود مختاری حاصل ہے۔ ان میں سے چند اعلیٰ ترین عہدوں پر بھی پہنچی ہیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کو اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر ہونے کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان آرمی میں بھی دو لیڈی ڈاکٹر میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پاچکی ہیں۔
عالمی اقتصادی بحران، سیاسی عدم استحکام، بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور قدرتی آفات کی وجہ سے پاکستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے اختیارات مرکز سے صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، لیکن اس حوالے سے بھی کافی الجھاوے پائے جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب ریاست اور خاندان دونوں کو عورتوں پر زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ ایک تو عورتوں کے لیے وسائل کم مختص کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف، چادر چار دیواری، پردہ اور رسوم و رواج اور روایات کے نام پر اسے آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے۔ غیرت کے تصور کو عورت سے منسلک کردیا گیا ہے، اس کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور خود بہت سی عورتیں بھی پدرسری نظام کو قبول کرچکی ہیں۔ یہ سارے عوامل زندگی کے ہر شعبے میں صنفی امتیاز کا باعث بنتے ہیں۔ غربت میں اضافے کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں میں عورتیں غذائی کمی کا شکار رہتی ہیں۔ غربت کی بدولت پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے عورتیں ذہنی دباﺅ کا شکار رہتی ہیں۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق کسی بھی اسپتال یا کلینک میں آنے والے نفسیاتی مریضوں میں سے دو تہائی عورتیں ہوتی ہیں۔ عورتوں کی خراب ذہنی اور جسمانی صحت ان کی پیداواری صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے، اس کی سماجی اور اقتصادی قیمت معاشرے کو چکانا پڑتی ہے۔
پاکستانی عورتوں کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے دو شاخہ حکمت عملی اپنائی ہے۔ ایک طرف تو وہ حکومت پر سارے قانون ساز اور بلدیاتی اداروں میں عورتوں کے لیے نشستیں مخصوص کرنے اور مثبت اقدام پر زور ڈالتی ہیں۔ عورتیں شروع سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں عورتوں کے لیے 33 فی صد نشستیں مخصوص کرنے کا مطالبہ کرتی آئی ہیں۔ ان نشستوں پر مشترکہ الیکٹوریٹ کے ذریعے براہ راست انتخابات ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم کر کے ساری سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ وہ الیکشن لڑنے کے لیے 33 فی صد خواتین امیدواروں کو ٹکٹ دیں۔ دوسری طرف عورتیں سماجی انصاف پر مبنی سیاست کا ایک متبادل تصور بھی سامنے لارہی ہیں۔اس وقت پاکستانی عورتوں کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ ریاست کو کیسے پابند کیا جائے کہ وہ صنفی مساوات کے حوالے سے کیے گئے معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرے۔ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت پاکستانی حکومت کو معاشرے میں ضروری تبدیلیاں لا کے عورتوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا ویسے کہا تو یہ جا رہا ہے کہ مستقبل میں آپ کو خواتین ہر ادارئے اور ہر شعبے میں نظر آئیں گی جو ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی اس کے لئے ضروری ہے کہ خواتین کے لئے سازگار ماحول اور تعلیم کی میدان میں گنجائش پیدا کی جائے کیونکہ خواتین کے آگے بڑھنے کے لئے تعلیم اور ہنر بنیادی شرط ہے جس کے کے لئے حکومت اور سماجی تنظیموں کو تابناک مستقبل کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔

About Daily City Press

Check Also

umar faroqui

آسام 20: لاکھ افراد ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار

 آسام 20: لاکھ افراد   ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار عمر فاروقی حالیہ ہفتے کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *