Home / Columns / ڈینگی کے بڑا مسلہ بننے سے پہلے، احتیاطی تدابییر اختیار کی جائیں

ڈینگی کے بڑا مسلہ بننے سے پہلے، احتیاطی تدابییر اختیار کی جائیں

Hanif anjum

حنیف انجم
خیالات
ڈینگی کے بڑا مسلہ بننے سے پہلے، احتیاطی تدابییر اختیار کی جائیں
جیسے ہی موسم تبدیل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ کئی موسمی بیماریاں حملہ آور ہو جاتی ہیں ترقی یافتہ دنیا نے تو کافی حد تک ان پر قابو پالیا ہے۔ جبکہ ہمارے جیسے ملکوں کے حکمرانوں کے مسائل ہی اور ہیں پہلے وہ انہیں حل کر لیں پھر عوام کے مسائل بھی دیکھ لیں گے۔موسمی تبدیلیوںکے ساتھ اور برسات کا موسم ختم ہوتے ہی پاکستان کے طول عرض میں وبائی بیماریوں کے ساتھ ڈینگی سر اٹھا لیتا ہے اور اگر اس پر فوری قابو نہ پایا جاسکے تو کئی شہری ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔ ڈینگی پھیلنے کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ڈینگو بخار ، 1775کے عشرے میں جب ایشیا ،افریقا اور شمالی امریکا میں ایک ایسی بیماری پھیلی کہ جس میں مریض کو یکدم تیز بخار ہو جاتا اور ساتھ ہی سر میں درد اور جوڑوں میں درد شروع ہو جاتاجبکہ بعض مریضوں کے پیٹ میں درد ،خونی الٹیاں اورخونی پیچس کی بھی شکایت ہو گئی۔ یہ مریض سات سے دس دن تک اسی بیماری میں مبتلا رہے اور آخر کار مر گئے۔ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ان علاقوں سے لوگوں نے ہجرت کرنا شروع کر دی۔ جب اس وقت کے طبیبوں اور ڈاکٹروں نے اس بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ ایک خاص قسم کا مچھر ہے جس کے کاٹنے سے یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے1979میں اس بیماری کی شناخت ہوئی اور اسے ڈینگو بخار( fever Dengue) کا نام دیا گیا۔ ڈینگو “dengue”سپینی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی cramp یا seizure کے ہیں جبکہ اسے گندی بیماری بھی کہا جاتا تھا۔1950میں یہ بیماری جنوب مشرقی ایشیاءکے ممالک میں ایک وبا کی صورت میں نمودار ہوئی جس سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ خصوصاً بچے ہلاک ہو گئے۔1990کے آخر تک اس بیماری سے ایک اندازے کے مطابق 40 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔1975سے1980تک یہ بیماری عام ہو گئی۔۔
گزشتہ برسوںپاکستان میں بھی اس بیماری نے کافی تباہی مچائی لیکن ہماری گزشتہ حکومتوں نے اس پر کافی حد تک اس پر قابو پالیا تھا لیکن اب آنے والے خبریں کافی تشویش ناک ہیں ۔بتایا جارہا ہے کہ ڈینگی نے ایک بار پھر یلغار کر دی ہے، کراچی، راولپنڈی اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں ڈینگی مچھر سے متاثرین کی تعداد دو ہزار سے زائد ہوگئی۔ کراچی میں رواں سال ڈینگی سے گیارہ سو افراد متاثر ہوئے۔ جبکہ صرف20 دن میں تعداد 186 ہوگئی، گزشتہ دنوں ڈینگی سے کئی ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔
پشاور میں بھی ڈینگی مچھر نے پنجے گاڑ لئے ہیں اور مریضوں کی تعداد ایک ہزار ہوگئی، متعلقہ اداروں کی جانب سے صفائی ستھرائی، پانی کی فراہمی، بجلی کی فراہمی، مچھر مار ادویات کا اسپرے نہ ہونے اور عوام کو احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی نہ فراہم کیے جانے کے سبب پشاور کے دیہاتوں میں ڈینگی بخار تیزی سے پھیل رہا ہے، بڈھ بیر بنیادی مرکز صحت میں 500 سے زائد مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ درجنوں مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ شہری خوف میں مبتلا ہیں۔ متعلقہ محکمے خاموش تماشائی بن چکے ہیں۔ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق رواں برس مارچ میں پشاور کے صوبائی محکمہ صحت نے متعلقہ اداروں کے مابین تعاون کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی اور اب اس بیماری کا پھیلاو¿ جاری ہے۔ضلع کے 100 سے زائد ہسپتالوں میں 100 مشتبہ مریض روزانہ لائے جارہے ہیں جس میں سے 50 کی ٹیست مثبت آئے اور اب تک تقریباً 4 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ہسپتال لائے گئے مریضوں میں قے، بخار اور پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی شکایت پائی گئی۔شہر کے ٹیچنگ ہسپتال میں اب تک 188 مریضوں کا علاج ہوچکا ہے جبکہ 25 کو علیحدہ وارڈز میں رکھا گیا ہے، متاثرہ مریضوں میں 2 سال کی عمر کے بچے سے لے کر 65 سال کی عمر تک کے بزرگ شامل ہیں۔ ماہرین نے وائرس کے پھیلاو¿ کا سبب پیسکو، واٹرسینیٹیشن سروس پشاور اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے درمیان تعاون کے فقدان کو قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیدنگ کے سبب عوام پانی جمع کرکے رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں جس سے ڈینگی لاروا کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے، اگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا وقت مقرر کردیا جائے تو عوام کو پانی ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔اس کے علاوہ انفیکشن پھیلنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ محکمہ صحت کے ملازمین کے پاس ایندھن خریدنے اور رہائشی علاقوں میں سپرے کرنے کے لیے اضافی عملے کی خدمات لینے کے لیے فنڈز کی بھی کمی ہے۔اس بارے میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 40 لاکھ کی آبادی والے شہر پشاور میں اب تک 500 سے بھی کم کیسز سامنے آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’صورتحال خاصی اطمینان بخش ہے اور ڈینگی کا موسم آئندہ کچھ روز میں ختم ہوجائے گا، ہم صوبے بھر میں صورتحال بہتر کرنے کے لیے تسلی بخش وسائل فراہم کررہے ہیں۔انسداد ڈینگی پروگرام سے منسلک ماہرین صحت نے دعویٰ کیا کہ کم وسائل کے باوجود بڑے پیمانے پر عوام میں آگاہی پھیلانے کے لیے مہم چلائیں تاہم انہوں نے بھی اس سلسلے میں خصوصی فنڈز کی کمی کی نشاندہی کی۔
ادھر راولپنڈی میں بھی ڈینگی نے سر اٹھالیا ہے راولپنڈی میں ڈینگی کے مریضوں میں مزید اضافہ ہونے لگ گیا ہے، تینوں الائیڈ ہسپتالوں میں ڈینگی بخار میں مبتلا مریضوں کی تعداد 295 ہو گئی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں ڈینگی سے بچاو کے لیے سپرے کیے جا رہے ہیں۔ بخار کے شبہ میں ہولی فیملی ہسپتال، بے نظیر بھٹو اور ڈی ایچ کیو ہسپتال میں مریض ڈینگی بخار کے شبہ میں زیر علاج ہیں جن کو ڈینگی وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ جبکہ اسلام آباد سے بھی 74 سے زائد مریضوں کی اطلاعات ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں ایک طرف شہریوں کو چاہیے کہ مچھر سے بچاو¿ کیلئے گھر، گلی اور محلے میں پانی جمع نہ ہونے دیں، بالائی اور زیر زمین ٹینک کو صاف رکھیں۔ طلوع اور غروب آفتاب کے وقت پر خاص احتیاطی تدابیر اپنائیں تو دوسری جانب تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس اس کے پھیلاو سے پہلے اس کے سد با ب کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے سپرے کرانے کے ساتھ شہریوں میں آگاہی مہم چلایں تاکہ اس کے پھیلا و کو روکا جاسکے اس کے ساتھ ہی تمام اسپتالوں میں علاج معالجے کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔

About Daily City Press

Check Also

umar faroqui

پاک بھارت کشیدگی کا تشویشناک پہلو

پاک بھارت کشیدگی کا تشویشناک پہلو عمر فاروقی بھارت نے  پارلیمنٹ کے ذریعےجموں و کشمیر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *