Home / Columns / تیزاب گردی کے مجرم کو معافی نہیں سپریم کورٹ کا احسن فیصلہ

تیزاب گردی کے مجرم کو معافی نہیں سپریم کورٹ کا احسن فیصلہ

 taizabحنیف انجم
عنوان:خیالات
تیزاب گردی کے مجرم کو معافی نہیں سپریم کورٹ کا احسن فیصلہ
سیاست عومی طور پر میرا موضو ع نہیں ہے اس کی بنیادی وجہ اس موضوع پر لکھنے والوں کی تعداد بے شمار ہے جبکہ عوامی سماجی مسائل جن پر بات کرنے کی ضرورت ہے اس پر لکھنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں اس لئے ہمیں بحیثیت مجموعی ہمیں اپنے بنیادی مسائل پر بات بھی کرنی چاہیے اور انہیں ہائی لائٹ بھی کرنا چاہیے ۔ہمارے بنیادی مسائل میں صحت ،تعلیم خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے روح افرساءواقعات کے ساتھ معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی عدم روادری ہیں جن پر ہمیں ہر فوررم پر بات کرنی چاہیے چند دن گزرے ایک خبر نظر سے گزری کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے تیزاب گردی کے کیس میں مجرم کی ضمانت مسترد کر دی تیزاب گردی اتنا بڑا گھناونا اور واقع ہے کہ اس کے مجرم کسی رو رعایت کے مستحق نہیں ہونے چاہیں کیونکہ یہ لوگ صرف اپنی زاتی انا کی تسکین کی خاطر قدرت کی سب سے خوبصورت صناعی چہرئے کو داغ دار ہی نہیں کرتے بلکہ جس کے ساتھ یہ واقع یا حادثہ رونما ہوتا ہے اس کی زندگی درگور کر دیتے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ تیزاب گردی کے مجرم کی سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے پر تیزاب گردی کے شکار افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ امید کر رہے ہیں کہ اس فیصلے کہ دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے ایک فیصلے میں ایک مجرم کی بریت کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا، جس پر ایک عورت پر تیزاب پھینکنے کا جرم ثابت ہو چکا تھا۔ مجرم کے وکیل نے استدعا کی تھی کہ تیزاب گردی کی شکار ہونے والی خاتون اور اس کے گھر والوں نے مجرم کو معاف کر دیا ہے لہذا اس کی بریت کی درخواست کو قبول کیا جائے۔ لیکن چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ قانون نے تیزاب گردی کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا ہے اور مجرم کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کئی مقدمات میں عدالت سے باہر ہی صلح کر لی جاتی ہے۔ اس طرح کی صلح میں مجرموں کے رشتہ دار یا بااثر افراد ظلم کے شکار افراد کو دھونس، دھمکی یا پیسوں کی لالچ دے کر مقدمات واپس لینے کا کہتے ہیں، جس کی وجہ سے مجرم چھوٹ جاتے ہیں۔ تیزاب گردی کے شکار افراد کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بریت کا راستہ بند ہو گیا ہے اور قانون کی گرفت ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے گرد مضبوط ہوئی ہے۔
پاکستان میں تیزاب گردی کے شکار صرف مرد، عورتیں یا بچے ہی نہیں ہیں بلکہ معاشرے کے سب سے پسے ہوئے طبقے یعنی خواجہ سراو¿ں کی بھی ایک بڑی تعداد اس بھیانک جرم کا شکار رہی ہے، جس سے ان کے مصائب میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔ تاہم اس ظلم کے شکار ، عدالت کے اس فیصلے پر خوش ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے عدالتی فیصلے بچوں سے زیادتی اور دوسرے اہم مقدمات میں بھی ہونے چاہیئیں اور یہ صلح صفائی والا دروازہ بالکل بند ہونا چاہیے۔“لیکن کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ صرف فیصلوں سے ہی مسئلہ حل نہیں ہوگا ان پر عمملدرامد کے ساتھ ان کی روک تھام بہت ضروری ہے۔ اس طرح کے واقعات جنوبی پنجاب میں بہت زیادہ ہیں۔ ”اس علاقے میں جاگیردار بھی بہت طاقت ور ہیں اور جاگیردارانہ سماج میں عورت کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نظام کو کمزور کیا جائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ جرات مندانہ فیصلہ دے کر اس جرم کے مذید ارتکاب کو روکنے کی کوشش کی جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں، اس فیصلے سے نہ صرف ظلم کے شکار افراد کو انصاف ملے گا بلکہ ان با اثر افراد کی طاقت پر بھی ضرب لگے گی جو جرگوں کے ذریعے مجرمان کو معافیاں دلواتے ہیں مختلف رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تیزاب گردی کے خلاف کئی دہائیوں تک موثر قوانین موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے ان واقعات کی روک تھام مشکل ہوگئی تھی۔ دو ہزار دس سے دو ہزار چودہ کے درمیان اس جرم میں بہت تیزی نظر آئی۔ تاہم دو ہزار چودہ میں منظور کیے جانے والے ایک نئے قانون کے بعد ایسے واقعات میں کوئی پچاس فیصد کمی ہوئی ہے۔ تیزاب گردی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک اور بل قومی اسمبلی میں منظور ہونے کا منتظر ہے اور اگر یہ پاس ہو جائے تو ایسے واقعات کی روک تھام بہت حد تک ممکن ہے، ان تنظیموں کی کوششوں سے دو ہزار سترہ میں قومی اسمبلی نے ایک جامع بل پاس کیا تھا لیکن پھر حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے وہ سینیٹ میں پاس نہیں ہو سکا۔ ااب بھی کوششیں جاری ہیں کہ حکومت اس بل کو پاس کرائے تاکہ اس طرح کے واقعات کی مکمل طور پر روک تھام ہو سکے۔“ بتایا جاتا ہے کہ اس طرح کے واقعات لودھراں، ملتان، لیہ، مظفر گڑھ، رحیم یار خان اور راجن پور میں بہت زیادہ ہوئے ہیں، ”ایک بل وفاقی سطح پر پہلے ہی موجود ہے۔ صوبوں کو بھی ایسے ہی بل پر فوری طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ ہمیں اس ظلم سے نجات مل سکے۔
“ایک اندازے کے مطابق تیزاب گردی کے مجموعی واقعات میں سے پچاسی فیصد پنجاب میں رونما ہوئے ہیں۔ ایسے واقعات میں مجموعی کمی کے باوجود ایک نیا رجحان یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بچوں پر اس طرح کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دو ہزار تیرہ سے دو ہزار سولہ کے درمیان بچوں کے خلاف تیزاب گردی کے واقعات میں چھ فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔اس ظلم کے شکار افراد کی معاونت کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے حکومت کی طرف سے اس ظلم کے شکار افراد کی مالی معاونت بہت ضروری ہے،۔
افسوس ناک امر تو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سرکاری سطح پر ایچ آئی وی کے شکار اورمنشیات کے ستائے ہوئے لوگوں کی طرح ایسا کوئی ادارہ قائم نہیں جو تیزاب گردی کی شکار خواتین کی مدد کر سکے۔ اس ضمن میں بھی ریاست کی ذمہ داری چند این جی نے اٹھا رکھی ہے جو متاثرہ خواتین کو معاشرے میں مقام دلانے کے لیے کام کر رہی ہیں، لیکن ان اداروں کو مالی مسائل کا سامنا ہے، جب کہ حکومت کی طرف سے ایسا کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا ہے جو ان خواتین کی مدد اور ان کے بگڑے چہرے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ ضرورت اس امر کی ہے صحت عامہ کی صورت حال کو بہتر کرنے کے ساتھ تیزاب گردی کے شکار خواتین اور بچوں کی دیکھ بھال اور ان کے علاج معالجے کے لئے حکومتی سطع پر اداروں کا قیام عمل میں لایا جاے اس کے ساتھ ہی ایچ آئی وی کے شکار اور منشیات کے عادی افراد جن کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے جو بے یارو مدد گار اور معاشرے کی نفرت کا بھی شکار ہیں کے لئے بھی بحالی کے دارے بنائیں جائیں یہ ریاست کی زمہ داری ہے جسے اسے پورا کرنا چاہیے۔

About Daily City Press

Check Also

City-Press-1

۔۔۔تعلیم کی کہانی

تعلیم کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنایت عنایت علی دنیانئی دنیاؤں کی تلاش میں ہے۔ زمین جیسے دیگرسیارے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *