Home / Columns / انسدادکرپشن کے بغیر ترقی ناممکن

انسدادکرپشن کے بغیر ترقی ناممکن

Arif nonari
انسدادکرپشن کے بغیر ترقی ناممکن

سیدعارف نوناری

چین میں نچلی سطح پرکرپشن کیخلاف مہم میں 13لاکھ سرکاری ملازمین کوسزائیں دی گئیں۔یہ سزائیں 2013 سے 2017 کے درمیان دی گئیں۔ انسداد بدعنوانی مہم میں کئی اعلیٰ حکام کیخلاف بھی کارروائی کی گئی۔انسداد بدعنوانی کمیٹی کے سربراہ کو بھی تحقیقات کاسامنا ہے جبکہ سینئرفوجی افسر کو بھی کرپشن کے الزامات پرحراست میں لیاگیا، جو سینٹرل ملٹری کمیشن کابھی رکن تھا۔ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی اہلیہ روسما منصور پر کرپشن سکینڈل میں فرد جرم عائد کردی گئی جن پر منی لانڈرنگ سمیت 17 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کرپشن اسکینڈل میں روسما منصور سخت سکیورٹی میں عدالت میں پیش ہوئیں اس موقع پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اْن پر قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچانے کی فرد جرم عائد کردی تاہم سابق خاتون اول نے صحت جرم سے انکار کردیا۔روسما منصور پر اینٹی کرپشن کمیشن نے منی لانڈرنگ سمیت دیگر 17 الزامات عائد کیے ہیں۔ مرکزی پراسیکیوٹر گوپل سری رام نے عدالت سے استدعا کی کہ روسما منصور نے گواہ سے رابطہ کر کے اپنے حق میں گواہی دینے کا کہا اس لیے عدالت ملزمہ کو گواہوں سے رابطے سے روکے۔یاد رہے کہ اینٹی کرپشن کمیشن نے روسما منصور کو گزشتہ روز حراست میں لیا تھا جنہیں ایک رات جیل میں گزارنا پڑی جب کہ عدالت نے 2 ملین رنگٹ کے عوض ان کی ضمانت منظور کرلی۔ملائیشیا کے قانون میں منی لانڈرنگ کا جرم ثابت ہونے پر 15 سال قید اور جرمانے کی سزا ہے اور مجرم کو قومی خزانے کی لوٹی گئی دولت کا 500 فیصد خزانے میں جمع کرانا ہوتا ہے۔ ملائشیا میں انتخابات کے بعد مہاتیر محمد کی حکومت کے قیام کے فوری بعد ہی کرپشن کے خلاف پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی تھی اور سابق وزیراعظم نجیب رزاق کو بھی بدعنوانی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔نجیب رزاق پر سرکاری اکاؤنٹ سے 10.6 ملین امریکی ڈالر ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا الزام ہے۔
دنیا بھر کے ملکوں میں کرپشن پر نظر رکھنے والے ادارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق پاکستان میں گذشتہ تین سالوں میں کرپشن میں سوا چار سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دو ہزار چھ میں کرائے گئے نیشنل کرپشن سروے میں پینتالیس ارب روپے رشوت کی نذر ہوئے تھے جو دو ہزار نو میں بڑھ کر ایک سو پچانوے ارب روپے تک جا پہنچے ہیں جو تین سالوں میں چار سو تیس فیصد زیادہ ہے۔ کرپشن میں پولیس اور توانائی کے اداروں نے سب سے زیادہ کرپٹ ہونے کی پہلی اور دوسری پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
پاکستان میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے قائم قومی ادارے نیب کی طرف سے کرپشن کے خلاف ایک ملک گیر مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر Say No to Corruption پر مبنی نعروں والے بینرز اور پوسٹرز بڑی تعداد میں لگائے گئے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو اس سے وسائل ایمانداری سے خرچ ہوں تو زیادہ لوگوں کو زیادہ سہولتیں مل سکتی ہیں۔ زیادہ سکول اور زیادہ ہسپتال بن سکیں گے، اگر سڑک کاغذوں میں بنتی رہے گی یا پہلی بارش سے بہہ جائے گی تو اس سے وسائل کا ضیاع ہی ہوتا رہیگا اور اس سے عوام کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔ کرپشن کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ پورا نظام بدلنے کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اب یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ کرپشن نہ کرنے والا ہی نظام میں رکارٹ ہے یا پولیس والے کی تنخواہ کم ہے تو اس کے لیے رشوت ضروری ہے۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کی گئی 2017ء کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ دنیا بھر کے ایک تہائی ملکوں میں بدعنوانی کے تدارک کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن، ان کی رفتار انتہائی سست ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدعنوانی کے تدارک کے کام میں وقت لگتا ہے ،لیکن، یہ رفتار اس حد تک سست ہے کہ گذشتہ چھ برس میں کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آتی۔بدعنوانی کے لحاظ سے، رپورٹ میں پاکستان کو ’’بدتر ملک‘‘ قرار دیا گیا ہے، جہاں رشوت ستانی ہر سطح پر موجود ہے۔ یہاں تک کہ ایک سے 100 کے اسکیل پر پاکستان کی سطح 98 جب کہ بنگلہ دیش 93 کی سطح پر ہے۔ ایشیائی ملکوں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، بھارت، قرغیزستان، میانمار، نیپال، اور تاجکستان میں انتہائی درجے کی بدعنوانی ہے، جس کے نتیجے میں وسیع شعبہ جات اور ادارے متاثر ہو رہے ہیں ۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق، بدعنوانی میں پاکستان ایک سے 100 کے اسکیل پر 30، بنگلہ دیش 28، بھارت 40،افغانستان 15 جب کہ چین 41 نمبر پر ہے۔ان ملکوں میں بدعنوانی کے خلاف کوششوں میں محدود پیش رفت حاصل ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی، ان ممالک میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے کا ریکارڈ خاطر خواہ نہیں ہے۔پاکستان کے حوالے سے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر کمپنیاں رشوت ستانی کو ان ملکوں میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتی ہیں۔ علاوہ ازیں، عمل داری کے ضمن میں منی لانڈرنگ خطے کا ایک باعث تشویش معاملہ ہے؛ جب کہ زیادہ تر ملکوں میں منی لانڈرنگ سے نبردآزما ہونے کے سلسلے میں ضابطے غیر تسلی بخش ہیں۔
دوسری جانب ان ملکوں میں سرکاری رقوم کے انتظام میں عدم شفافیت کا عنصر عام ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجٹ کے لیے مختص رقوم بہتر طور پر خرچ کی جائیں اور اسے ضایع ہونے سے بچانے کی حتی الوسع ضمانت موجود ہو۔ پاکستان میں 75 فی صد لوگ جن کا زمین سے متعلق امور سے واسطہ پڑتا ہے، جب کہ پولیس سے تعلق میں آنے والے 65 فی صد حضرات کو رشوت ستانی کی شکایت ہے یہاں تک کہ ٹیکس آمدن، سرکاری اہل کار اور سیاسی پارٹیوں تک میں انتہائی بدعنوانی کی شکایات عام ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 100 ملکوں میں سے برازیل کا نام لیا گیا ہے، جہاں گذشتہ چھ برسوں کے دوران 20 صحافی ہلاک ہوئے، جہاں بلدیاتی حکومت اور منشیات کے کاروبار کے جرائم عام ہیں۔ادھر ’فریڈم ہاؤس‘ کی 2016ء کی عالمی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سیاسی حقوق اور شہری آزادیوں کی صورت حال ابتر ہے۔ رپورٹ میں 180 ملکوں کومبرا، جزوی طور پر مبرا‘ اور ’غیر مبرا‘ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بنگلہ دیش اور تاجکستان کو ابتری کی مثال قرار دیا گیا ہے جب کہ قرغیزستان، نیپال اور پاکستان کو ’جزوی طور پر مبرا‘ جب کہ افغانستان اور میانمار کو ’غیر مبرا‘ درجے میں رکھا گیا ہے۔

About Daily City Press

Check Also

City-Press-1

۔۔۔تعلیم کی کہانی

تعلیم کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنایت عنایت علی دنیانئی دنیاؤں کی تلاش میں ہے۔ زمین جیسے دیگرسیارے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *