Home / Blog / دل کو خراب نہ ہونے دیں

دل کو خراب نہ ہونے دیں

waseem butt
وسیم بٹ(ہائڈل برگ )
دل کو خراب نہ ہونے دیں
ایک صحت مند جسم ہی دنیا کی سرد گرم سے مقابلہ کرنے کے ساتھ بہتر پرفار،نس دے سکتا ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ ایک طرف ہم اپنی صحت کا خیال رکھیں تو دوسری جانب بیماریوں سے ہمیں آگاہی بھی ہو تاکہ ان کا بروقت علاج ہونے کے ساتھ ان کے اثرات سے بچنے کی تدابیر بھی کر سکیں، کہا جاتا ہے کہ ایک صحت مند جسم صحت مند دل کا مرہون منت ہوتا ہے اس لئے اپنے دل کا خیال رکھنا انتہائی اہم ہے اس کے لئے ایک تو ہمیں آگاہی ہونی چاہیے دوسرا ہر چھ مہینے بعد چیک اپ ضروری ہے ۔
دنیا بھرمیں امراض قلب کا عالمی دن 29 ستمبر کو منایا جا تاہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں دل کی بیماریوں کے متعلق مکمل آگاہی اور ان سے بچاو کے لیے شعور پیداکرناہے۔ دنیا میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً دو لاکھ افراد دل کے امراض کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت(WHO) نے خبردار کیا ہے کہ سن دو ہزار تیس تک دنیا بھر میں دل کے امراضِ کے سبب اموات کی شرح سترہ اعشاریہ تین ملین سے بڑھ کر تیس اعشاریہ چھ ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ دل کے امراض کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، غیر صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمیوں کا فقدان ہے۔ دل کے امراض سے بچنے کے لیے تمباکو نوشی ترک کی جائے، روزانہ پھل اورسبزیوں کا استعمال کیا جائے اور دن بھر میں ایک چائے کے چمچ سے زیادہ نمک کے خوراک میں استعمال سے پرہیز کیا جائے۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ جسمانی سرگرمیوں میں گزارا جائے یا ورزش کی جائے۔ دل کی صحت سے متعلق عوامی آگاہی کی بیداری کا عالمی دن اس دن کی مناسبت سے سیمینارزاور آگاہی واک بھی منعقد کی جائیں گی عوامی شعور اجاگر ہو سکے
بتایا جاتا ہے کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ جبکہ پاکستان میں ہونے والی ایک تہائی اموات شریانوں اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور گلوکوز کا بڑھنا، تمباکو نوشی، خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کا ناکافی استعمال، موٹاپا اور جسمانی مشقت کا فقدان دل کے امراض میں مبتلا ہونے کی بڑی وجوہات ہیں۔اسی طرح ڈاکٹروں کے مطابق ہلکی پھلکی سادہ غذا اور دن میں صرف آدھے گھنٹے کی ورزش کو معمول بنا کر دل کے بہت سے امراض سے بچا جا سکتا ہے۔برٹش ہارٹ فاو¿نڈیشن کے مطابق برطانیہ بھر میں 80 ہزار افراد ایسے ہیں جن کو دل کی بیماری ہے لیکن اس کی شناخت نہیں ہوئی ہے۔ندن کے سینٹ جارج ہسپتال کے پروفیسرز کے مطابق موروثی طور پر ملنے والی دل کی بیماریاں کافی نادر ہوتی ہیں لیکن اعداد و شمارکے مطابق برطانیہ بھر یں 1500 نوجوان ان کی وجہ سے فوت ہو جاتے ہیں۔’پروفیسر بہر اس سلسلے میں تحقیق کر رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ دل کے دورے کے جینیاتی اسباب کیا ہے تاکہ اس معلومات کی مدد سے مستقبل میں اچانک ہونے والی موت کو روکا جا سکے۔چند ڈاکٹرز سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں میں لازمی چیکنگ کرانے سے ان بیماریوں کا معلوم ہو سکے گا لیکن دوسرے ڈاکٹرز اس سے متفق نہیں ہیں۔
امراض قلب سے خود کو دور کیسے رکھا جائے اس کے لئے سخت ورزش کی بجائے بس اپنے جسمانی طور پر اپنی سرگرمیوں کا دورانیہ بڑھا دیں جس سے امراض قلب کا خطرہ 22 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلکی پھلکی ورزش بھی ہارٹ اٹیک سے موت کا خطرہ 42 فیصد تک کم کرنے کے لیے کافی ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیاں یعنی روزمرہ کی مصروفیات جیسے چہل قدمی، لباس پہننا، برتن دھونا، سائیکل چلانا یا سیڑھیاں چڑھنا وغیرہ دل کی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔اس تحقیق کے دوران 6 ہزار صحت مند خواتین کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جس کے دوران ایک ہفتے تک فٹنس ٹریکرز انہیں پہنائے گئے۔اس کے بعد 5 سال تک ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا، جس کے دوران 670 سے زائد خواتین میں امراض قلب یا خون کی شریانوں کے دیگر امراض سامنے آئے۔محققین نے دریافت کیا کہ روزانہ 5 سے 10 گھنٹے تک جسمانی طور پر مصروف رہنا دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔چونکہ سب کے لیے پانچ گھنٹے تک مصروف رہنا ممکن نہیں تو جس حد تک ممکن ہو جسمانی سرگرمیاں بڑھا دینا بھی امراض قلب کو دور رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، یعنی دن بھر میں آدھے گھنٹے کی اضافی سرگرمی جلد موت کا خطرہ کم کرسکتی ہے۔دل کی عام بیماریاںدل کی عام بیماریوں میں اس کی دھڑکن کا بے قاعدہ یا تیزہونا، دل کی ریومیٹک بیماری (دل کو مستقل طور پر نقصان پہنچانے والی بیماری)، دل کے والوز کی بیماریاں مثلاً ان کا سکڑجانا، لیک یا بند ہونا،ہائی بلڈ پریشر،دل کے سائز کا بڑھ جانا اوردل کے پٹھوں کا موٹا ہوجانا شامل ہیں۔
انجائنا اور ہارٹ اٹیک کی وجوہات تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں۔ کورونری شریان کی بیماری ، انجائنا کے چند پہلوایسے ہیں جن سے بچاو میں ڈاکٹر آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ان میں سے پہلا یہ کہ بیماری آپ کے خاندان میں پہلے سے موجود ہو اور دوسرا یہ کہ آپ مرد ہوں۔ اس سلسلے میں تیسری بات آپ کی عمر ہوتی ہے جس سے اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوجاتاہے۔چند عوامل ایسے ہیں جن سے اس بیماری کو تقویت ملتی ہے مثلاً ذیابطیس، تمباکو نوشی،کولیسٹرول کی زیادتی،بے قاعدہ ورزش یا اس کابالکل نہ ہونا ،خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کانہ ہونا،بلڈپریشر،ذہنی دباﺅ،تفریح کافقدان اورموٹاپا وغیرہ۔ اس لیے ہر انسان کو اپنی صحت کے بارے انتہائی محطاط رویہ اپناتے ہوے اس کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے تاکہ صحت مند زندگی گزارے جاسکے کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ صحت مند زندگی ہے تو جہان ہے۔

About Daily City Press

Check Also

waseem butt

خواتین کے حقوق اور ملکی ترقی میں کردار

وسیم بٹ(ہائڈل برگ) خواتین کے حقوق اور ملکی ترقی میں کردار کسی شاعر نے کہا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *