Home / Blog / اندازکامعاملہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اندازکامعاملہ۔۔۔۔۔۔۔۔

M.Saeed Khalid (1)
اندازکامعاملہ۔۔۔۔۔۔۔۔

ایم سعیدخالد

saeed.saeedk@gmail.com

25جولائی کو شروع ہونے والا دن عام انتخابات میں عمران خان کی جیت کی نویدلایا اور خاص طورپر18اگست کوان کے حلف اٹھانے کے بعد ہمیں ان کی گورننس کے بارے میں بہت سی باتوں کاپتہ چل رہاہے۔

اُن کی قیادت کاسنگ میل ریاستی اخراجات میں کمی ہے جس کے لئے پی ٹی آئی نے اسلام آباد،پشاور اورلاہورمیں مثالی اقدامات کئے۔ وزیراعظم عمران خان نے کفایتی شعاری کاانداز زندگی اپنایاجوبجائےخو قابل تعریف ہے۔ سناہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں بھی کمی کی جارہی ہے۔ حتیٰ کہ سی پیک کے ان منصوبوں میں بھی جوابھی تک شروع نہیں کئے گئے۔

لیکن وزیراعظم حکومت کے انتظامات کہاں سے سنبھالتے ہیں؟ وہ وزیراعظم آفس اور گھرمیں کابینہ اورکمیٹیوں کی میٹنگزمیں اوربعض اوقات قومی اسمبلی میں ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ اکثران کی ذاتی رہائش گاہ بنی گالا میں یابعض اوقات صوبائی دارالحکومتوں میں ہوتاہے۔ انہوں نے دفترخارجہ،جی ایچ کیواورآئی ایس آئی میں اہم بریفنگزلی ہیں۔ یہ سب کچھ زیادہ ترالگ تھلگ ہوتاہے عوام سے دور۔ یہ سب کچھ ٹیکنوکریٹ حکمران کاانداز ہے کسی ایسے سیاسی لیڈرکانہیں جواپنی منزل پربائیس سال کی جدوجہدسے پہنچاہو۔’’

وزیراعظم ابھی تک حلقے،اسکول،ہسپتال،ترقیاتی منصوبے کے مقام یاکھیل کے میدان میں دیکھے نہیں گئی۔ یاوہ لوگوں یاپارٹی کے کارکنوں کے ساتھ نہیں پائے گئے۔ یہ بات غیرمعمولی ہے کیونکہ اگرایک بینکاربھی وزیراعظم کاعہدہ سنبھالے تو وہ بھی میٹنگ رومز سے باہراپنی موجودگی کے لئے فکرمند ہوتاہے۔ یہاں یقینی طورپرکچھ معاملہ ہے۔ امید ہے کہ عمران خان اپنے کمفرٹ زون سے نکلیں گے اوردنیا بھرکے سیاسی لیڈروں کی طرح عوام میں نظرآئیں گے۔ وہ زندگی کے تمام شعبوں کے لوگوں اورملک کی تمام پارٹیوں کے رہنماؤں سےملاقاتیں کریں گے۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ وزیرخزانہ ملک کے معاشی بائی پاس آپریشن میں مصروف ہیں توضرورت اس امرکی ہے کہ وزیراعظم نکلیں اور کاروباری افراد اور صنعت کاروں سے ملیں۔ یہ بات واضح ہورہی ہے کہ ملک سادگی اور کم ترین معاشی پیداوارکے دورمیں سے گزررہاہے۔ بجنے والی گھنٹیاں ہمیں یاد دلارہی ہیں کہ ریاستی اورریاست سے تعلق رکھنے والے ذمہ دار خرچ بہت کچھ کررہے ہیں اورکمابہت کم رہے ہیں۔ معیشت مشکل دورسے گزررہی ہے اور اس بات کی ہے کہ اس کوبحال کرنے کے لئے کمرکس لی جائے۔

اس بات کے اشارے سامنے آنے لگے ہیں کہ اب زندگی ایسی نہیں ہوگی جیسے ہواکرتی تھی۔ اعدادوشماربتاتے ہیں کہ پاکستان کوسالانہ 28ارب ڈالرخسارے کاسامناہے جن میں 10ارب ڈالرکا بیرونی خسارہ بھی ہے۔ معاشی جغادری کہتے ہیں آئی ایم ایف یادیگرذرائع سے فوری فنڈنگ درکارہوگی تاکہ اس خلاکوبھراجاسکے۔ ان میں سے کچھ محسوس کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف حکومت پراعتماد کرنے میں تذبذت سے کام لے رہاہے۔ایسے میں حکومتی خاموشی کی سمجھ آتی ہے۔ آئی ایم ایف جس کو قرضہ دے اس سے اپنے مطالبات بھی کرتاہے۔

اب یہ وہ وقت ہے جب وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے ارکان نے لوگوں کو اس بات کی وضاحتیں دینا شروع کردی ہیں کہ ملکی خسارے سے نجاتے کے لئے بہت بھاری قرضے لئے بغیر کام نہیں چلے گا۔ قرضے کی شرائط کو دیکھا جائے توآئی ایم ایف سبسڈیزختم کرنے، ضروری اشیاکی قیمتیں بڑھانے اورترقیاتی منصوبوں اورریاستی اخراجات میں کمی کے مطالبات کرے گا۔ وہ کم پیداواری معیشیت سے زیادہ منافع مانگے گا۔

افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کمترسکیم کاپہلے بھی سامنا کرچکے ہیں خاص طورپر1998،2001اور قریب ترین2013میں۔ تاہم ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھاجس کانتیجہ حالیہ اندرونی اوربیرونی خسارہ ہے جس کاہمیں سامناہے۔ موجودہ صورتحال ملکی سطح پر ٹیکس کی بہتروصولی اور درآمدات کو کم کرنے کے لئے روپے کی قدرمیں کمی کاتقاضاکرتی ہے۔ روپے کی قدرمیں کمی برآمد کوبڑھانے اوردرآمدات کوکم کرنے میں مدددے گی اورادائیگیوں کاتوازن بہترہوگا۔ لیکن اس پرسوال پیدا ہوتاہے کہ کیااس سے جہاں درآمدات کم ہوں گی وہاں کسٹم ڈیوٹی سے آمدن میں بھی کمی نہیں ہوگی،کیااس سے سمگلنگ کوفروغ نہیں ملے گا؟

مسائل کاکوئی آسان حل نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو پچاس لاکھ گھربنانے اور ایک کروڑنوکریاں پیداکرنے کے اپنے ہدف میں مشکلات پیش آئیں گی خاص طورپرایسی صورتحال میں جب معیشت کی صورتحال کوئی تسلی بخش نہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے بیرونی دوروں میں زیادہ جوش وخروش سے دلچسپی نہیں لی اورانہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی نہ جانے کافیصلہ کیا ہے جس سے بین الاقوامی برادری سے رابطے کاایک موقع ضائع ہوگیا۔ ان کا اب تک کاواحدبیرونی دوردورہ سعودی عرب ہے جس کے بعد ممکنہ طورپروہ چین کادورہ کرسکتے ہیں۔ دونوں ممالک پاکستان کے سٹریٹجک اتحادی ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت سے ملاقاتیں ہمارے لئے بہت فائدہ مند ہوں گی۔

اوربہت سے اہم رفقائے عمل ممالک نے عمران خان کو اپنے ہاں آنے کی دعوتیں دی ہیں اگلے چھ سے بارہ ماہ کے اندرکچھ اہم ممالک کادورہ کرنے میں قباحت نہیں۔ وزیراعظم عمران خان اس محاذ پرگوسلو کی پالیسی اپناسکتے ہیں لیکن گھرتک محدودرہنے میں یقینی طورپرکوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایسی صورتحال میں اپوزیشن حکومت کوکمزورکرنے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گی۔

یہ بات غلط نہیں کہ ہمارے حکمران بیرون ملک کے مہنگے دورے کرتے اور ان دوروں کے دوران مہنگے سیون سٹارہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں۔ وزیراعظم کے ہرتین یاچارماہ بعدغیرملکی دورے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ جائیں اور سیمینار یا میٹنگزمیں شرکت کریں۔

بالفاظ دیگر توقع ہے کہ وزیراعظم نہ صرف ملک کے اندرلوگوں میں نظرآئیں گے بلکہ ملک کے چیف ڈپلومیٹ کے طورپر دنیا کے اہم دارالحکومتوں کادورہ بھی کریں گے۔ (بشکریہ: دی نیوز، ترجمہ: محمدفاروق سپرا)

About Daily City Press

Check Also

Marium Chaudhary (1)

اچھالیڈر۔۔۔۔

اچھالیڈر۔۔۔۔ مریم چودھری اب ایسا وقت آچکا ہے کہ ایساخلاپیداہوگیاہے جولیڈرسے پوراکرنے کی ضرورت ہے۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *