Home / Blog / تبلیغی اجتماع کا اآنکھوں دیکھا حال

تبلیغی اجتماع کا اآنکھوں دیکھا حال

Khizar Ahmad

خضر احمد
تبلیغی اجتماع کا اآنکھوں دیکھا حال
محترم قارئین یہ میری پہلی تحریر ہے امید ہے آپ میری حوصلہ افزائی کریں گے اس بار مجھے رائے ونڈ میں سالانہ تبلیغی اجتما ع میں جانے کی سعادت نصیب ہوئی جس کا آنکھوں دیکھا حال میں آپ کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔رائے ونڈ میں منعقد ہونے والا عالمی اجتماع جس میں پاکستان سمیت پوری دنیا سے لاکھوں مسلمان شرکت کر نے آتے ہیں۔آج جس تبلیغی تحریک کی سارے عالم میں صدائے باز گشت ہے اس کے بانی حضرت مولانا محمد الیاسؒ ہیںجن کے مجاہدوں، ریاضتوں اور روحانیت واخلاص سے اس تحریک کی ابتداءہوئی اور آج پوری دنیا میں یہ تحریک تبلیغ کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔
اس اجتماع میں آنے والے ہر شخص کی زبان پر ذکر الٰہی ، آنکھوں میں شب بیداری کے آثار، پیشانیوں پر سجدوں کے نشان، کاندھوں پر بستر، ایک ہاتھ میں ضروری سامان اور دوسرے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے۔ یہاں سے بے شمار قافلے اپنے مخصوص انداز اور ترتیب سے پوری دنیا میں دین اسلام کی ترویج و اشاعت کیلئے اللہ کے راستہ میں بڑی محبت اور شوق کے ساتھ سفرکرتے ہیں ۔میں رائیوانڈ کے اس عظیم الشان تبلیغی اجتماع میں پہلی مرتبہ 9 نومبر 2019، شریک ہوا جہاں مولانہ طارق جمیل ظہر کی نماز کے بعد اللہ کے بندوں سے مخاطب تھے ۔ راستوں میں بسوں، ویگنوں، رکشے، گاڑیاں اور موٹرسائیکلوں پر سوار افراد کے تپتی ہوئی دھوپ اور اڑتی ہوئی فضا میں مٹی اور سواریوں میں پھنسے ہوئے چہروں پر نور اور مسکراہٹ کے علاوہ ملک کے بد ترین معاشی خالات اور بے پناہ مہنگائی کے طوفان کے باوجود پیشانیوں پر قلب اور سکون کا سماں طاری تھا۔ پارکنگ سے پنڈال تک کے راستے میں چاک و چوبند پر جوش رضاکار راہنمائی کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے۔ اس سے پہلے مانگا منڈی روڈ جہاں سے ہماری گاڑی نے روہی نالے کی طرف رخ کیا وہاں بھی ایک چوکی پر بھی قانون نافذ کرنے والے افراد موجود تھے۔ پنڈال کی جانب چلتے ہوئے راستے میں جگہ جگہ یہاں آنے والے تبلیغی بھائیوں کے لئے اشیاءضروریات فروخت کرنے والے بہت ہی مناسب قیمتوں میں ٹوپیاں، تسبیح اور دیگر کھانے پینے کی اشیاءفروخت کرتے ہوئے پائے گئے لیکن لگتا یوں تھے جیسے یہ مفت ہی فروخت کر رہے ہوں۔ 20 روپے کی دال سبزی اور روٹی کا معیار تقریبا کسی اعلی ریسٹورنٹ کے سطح کا تھا۔ اس دور میں جہاں ایک وقت کا کھانا کیسی عام ہوٹل میں بھی سو روپے سے کم نہیں وہاں اتنا سستا اور معیاری کھانا مفت ہی محسوس ہو رہا تھا۔ میں نے گزشتہ دنوں میکڈونلڈ کی آئس کریم 400 کی کھائی وہاں 30 روپے میں پیٹ بھر کے کھانا کھانے کا تصور میرے لئے بڑا خوش کن تھا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر جہاں روزانہ کی بنیاد پر میں صاف پانی کی بوتل ڈبل پیسوں میں خریدتا تھا وہاں وہی بوتل 25 روپے میں دستیاب تھی۔
ہم پر اللہ کی یہ خاص رحمت ہوئی کہ ہمیں ممبر کے قریب ایک پرسکون جگہ میسر آگئی اور نماز ظاہر کی عمدہ ادائیگی کے بعد مولانا صاحب کا دیدار نصیب ہوا اور قریب سے خطاب سننے کا موقع میسر آگیا۔ جو ہم نے بڑے انہماک کے ساتھ سنا۔ رش کافی تھا اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑئے ہوئے بیٹھے تھے لیکن ان سب کا انہماک دیدنی تھا ہمیں بیٹھنے کے لئے ذرا بہتر جگہ میسر آگئی مولانا صاحب کا بیان جو محبت اور اخلاص سے بھر پور تھا جس میں اللہ کی بڑائی عظمت اور اپنے بندوں سے محبت کا زکر تھا رسول کریم ﷺ کی تعیلمات اور پیغام جسے لوگ بڑئے انہماک سے سن رہے تھے اور اس پر عمل کرنے کی نیت کر رہے تھے۔
ملکی ترقی، سلامتی اور اسلام کی سربلندی کی دعاوں کے ساتھ اجتماع اختتام پذیر ہو ا، اجتماعی دعا کے بعد شرکاءتبلیغ کے لیے مختلف علاقوں کی طرف روانہ ہوگئے اور یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو سارا سال جاری و ساری رہتا ہے۔

About Daily City Press

Check Also

waseem butt

مقبوضہ کشمیرمیں نسل کشی کو روکا جائے

وسیم بٹ ہائدل برگ مقبوضہ کشمیرمیں نسل کشی کو روکا جائے عالمی ادارے جنو سائڈ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *